آسٹریلیا: تیز ہواؤں نے سلگتی آگ کو بھڑکتے شعلوں میں بدل دیا

اپ ڈیٹ 11 جنوری 2020

ای میل

نیو ساؤتھ ویلز اور پڑوسی علاقے وکٹوریہ میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا —تصویر: اے ایف پی
نیو ساؤتھ ویلز اور پڑوسی علاقے وکٹوریہ میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا —تصویر: اے ایف پی

ایڈن: آسٹریلیا میں طاقتور ہوا کے جھکڑوں نے گریٹر لندن جتنے رقبے پر پھیلی 2 شدید آگ کو اکٹھا کر کے ہولناک آتشزدگی میں تبدیل کردیا۔

دوسری جانب ہزاروں افراد نے ریلی میں شرکت کر کے حکومت سے موسمیاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں ایکشن لینے کا مطالبہ کردیا۔

نیو ساؤتھ ویلز اسٹیٹ کے مقامی فائر سروس کمشنر شین فٹسمنز نے کہا کہ آج صورتحال مشکل ہے، کچھ دنوں کے سکون کے بعد یہ گرم اور خشک ہوا ہے جو دوبارہ بڑا چیلنج بن رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں بھڑکتے شعلے - اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے!

واضح رہے کہ نیو ساؤتھ ویلز اور پڑوسی علاقے وکٹوریہ میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے جہاں ان دونوں آگ پر توجہ دی جارہی ہے جو مل کر 6 لاکھ ایکڑ کے رقبے پر ایک اور ہولناک آتشزدگی میں بدل رہی ہے۔

اس حوالے سے فائر سروس کے ترجمان انتھونی بریڈ اسٹریٹ نے کہا کہ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ شعلے خشک بجلی کڑکنے سے بھڑکے۔

صورتحال کے پیش نظر نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریہ کی سرحد کے اطراف کے علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو علاقہ چھوڑنے اور درجہ حرارت میں شدید اضافے کی پیش گوئی کے باعث ’تباہ کن صورتحال‘ (ہنگامی) کو 48 گھنٹوں تر بڑھادیا۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا: جنگلات میں لگی آگ کے وہ حقائق جنہیں جاننا لازمی ہے

ادھر نیو ساؤتھ ویلز کے وزیراعلیٰ گلیڈیز برجیکلین کا کہنا تھا کہ ریاست میں ایک سو 30 سے زائد جگہ آگ بھڑک رہی ہے جس میں سے صرف 50 سے زائد پر اب تک قابو نہیں پایا جاسکا۔

آسٹریلیا میں لگی آگ کے باعث اب تک 26 افراد ہلاک اور 2 ہزار گھر جل کر راکھ ہوچکے ہیں جبکہ جنوبی کوریا اور پرتگال کے رقبے سے بڑا تقریباً ایک کروڑ ہیکڑ خطہ اراضی آگ سے جل چکا ہے۔

یونیورسٹی آف سڈنی کے اندازے کے مطابق اس آگ میں جل کر تقریباً ایک ارب پرندے، ممالیہ اور رینگنے والے جانور ہلاک ہوچکے ہیں۔

آسٹریلوی انشورنس کونسل کے مطابق آگ کے نتیجے میں ہونے والا نقصان 64 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک جا پہنچا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کے جنگلات میں لگی آگ سے تباہی، ہزاروں افراد محصور

اس سنگین صورتحال کو مزید خطرناک طویل عرصے سے جاری خشک سالی اور بدتر موسمیاتی تبدیلیوں نے بنایا جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آگ کی شدت بڑھ سکتی ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا میں سال 2019 اب تک کا خشک ترین اور گرم ترین سال تھا اور اس دوران زیادہ سے زیادہ اوسط درجہ حرارت 41.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔