'ایران جوہری معاہدے کے تحت وعدوں کی مکمل پاسداری کرے'

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2020

ای میل

—فائل فوٹو: اے ایف پی
—فائل فوٹو: اے ایف پی

فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی 'مکمل پاسداری' کرے۔

تینوں ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ 'یہ ضروری ہے کہ ایران معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی پوری تعمیل کرے۔'

مزیدپڑھیں: ایران کا جوہری معاہدے سے مکمل دستبرداری کا اعلان

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ 'جولائی 2019 کے بعد سے ایران کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی پر گہری تشویش ہے، ایسے تمام اقدامات ختم ہونا چاہیں'۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ فرانس، جرمنی، اور برطانیہ سمیت یورپی یونین میں دیگر شراکت دار 'بنیادی مشترکہ سلامتی مفادات' کے حصے دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں ایران کی جانب سے غیر مستحکم کرنے والے اقدامات کا سفارت کاری اور بامقصد طریقے سے حل تلاش کرنا ہوگا جس میں تہران کا میزائل پروگرام بھی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ 'ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خطے میں تناؤ میں کمی اور استحکام کے لیے اقدامات جاری رہیں'۔

واضح رہے کہ 3 جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد تہران نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ویانا اجلاس جوہری معاہدہ بچانے کا آخری موقع ہے، ایران

بعدازاں ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں 8 جنوری کو عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغے تھے اور واشنگٹن نے تہران کا دعویٰ مسترد کردیا تھا کہ حملے میں امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

جس کے بعد ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے سے مکمل طور پر دستبرداری کا اعلان کردیا تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ 'ایران یورینیم کی افزودگی، ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیم کی مقدار کے ساتھ اپنی جوہری سرگرمیوں میں تحقیق و ترقی میں کسی بھی قسم کی حدبندی نہیں رکھے گا'۔

واضح رہے کہ 8 مئی 2018 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خطرناک ملک قرار دیتے ہوئے چین، روس، برطانیہ، جرمنی سمیت عالمی طاقتوں کے ہمراہ سابق صدر باراک اوباما کی جانب سے کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔

5 مارچ 2019 کو اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ادارے نے کہا تھا کہ ایران 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ہوئے جوہری معاہدے کی تعمیل کررہا ہے اور مزید ہتھیاروں کی تیاری سے گریز کرنے پر کاربند ہے۔

مزیدپڑھیں: ایران کا 27 جون سے یورینیم افزودگی کی طے شدہ حد سے تجاوز کرنے کا اعلان

یاد رہے کہ 2015 میں اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے دیگر عالمی طاقتوں بشمول برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکا کے مابین ویانا میں ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق طے پانے والے ایک معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔

ایران نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران بلیسٹک میزائل بنانے کے تمام پروگرام بند کردے گا اور اس معاہدے کے متبادل کے طور پر ایران پر لگائی گئی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی اور اسے امداد کے لیے اربوں روپے حاصل ہوسکیں گے۔

ایرانی جنرل کی ہلاکت

خیال رہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایئرپورٹ کے نزدیک امریکی فضائی حملے میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے۔

بعدازاں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ان کے نائب اسمٰعیل قاآنی کو پاسداران انقلاب کی قدس فورس کا سربراہ مقرر کردیا تھا۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے قاسم سلیمانی کو مزاحمت کا عالمی چہرہ قرار دیا تھا اور ملک میں تین روزہ سوگ کا بھی اعلان کیا تھا۔

مزیدپڑھیں: ایران کا جوابی وار، عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے

دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو بہت پہلے ہی قتل کر دینا چاہیے تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں کہا تھا کہ قاسم سلیمانی سے 'بہت سال پہلے ہی نمٹ لینا چاہیے تھا کیونکہ وہ بہت سے لوگوں کو مارنے کی سازش کر رہے تھے لیکن وہ پکڑے گئے'۔

علاوہ ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ بغداد میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کا مقصد ایک 'انتہائی حملے' کو روکنا تھا جس سے مشرق وسطیٰ میں امریکیوں کو خطرہ لاحق تھا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق مائیک پومپیو نے 'فاکس نیوز' اور 'سی این این' کو انٹرویو دیتے ہوئے 'مبینہ خطرے' کی تفصیلات پر بات کرنے سے گریز کیا تھا۔