امریکا کا مقبوضہ کشمیر میں جاری حراستوں، انٹرنیٹ بندش پر اظہار تشویش

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2020

ای میل

ایلس ویلز 3 روزہ دورے پر 15 جنوری کو نئی دہلی پہنچیں گی—فائل فوٹو: اے ایف پی
ایلس ویلز 3 روزہ دورے پر 15 جنوری کو نئی دہلی پہنچیں گی—فائل فوٹو: اے ایف پی

واشنگٹن: اعلیٰ امریکی سفارتکار برائے جنوبی ایشیائی امور ایلس ویلز نے باہمی مذکرات کے لیے نئی دہلی کا دورہ کرنے سے ایک روز قبل بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں جاری حراست اور انٹرنیٹ کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں جنوبی اور وسطی ایشیا کے بیورو کی آفیشل ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی اور دیگر غیر ملکی سفیروں کے دورہ جموں کشمیر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، جو ایک اہم قدم ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں رہائشیوں اور سیاسی رہنماؤں کی حراست اور انٹرنیٹ پر پابندیوں کے حوالے سے تشویش ہے, ہم (صورتحال) دوبارہ نارمل ہونے کے منتظر ہیں‘۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 150 دنوں سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ دستیاب نہیں ہے۔

ایلس ویلز 3 روزہ دورے پر 15 جنوری کو نئی دہلی پہنچیں گی جس میں وہ سینئر بھارتی حکام کے ساتھ باہمی اور علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کریں گی، جس کے بعد وہ 19 جنوری سے اسلام آباد کا 3 روزہ دورہ کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی سفرا نے مقبوضہ کشمیر کے دورے کی بھارتی دعوت مسترد کردی

یاد رہے کہ جمعرات کو مودی حکومت نے نئی دہلی میں موجود کچھ سفیروں کے لیے مقبوضہ وادی کے ’گائیڈڈ ٹور‘ کا انتظام کیا تھا جو بھارت کی جانب سے اس خطے کی خود مختار حیثیت چھیننے کے بعد اس طرح کا پہلا دورہ تھا۔

یورپی یونین کے سفرا نے اس دورے میں شمولیت کی دعوت ٹھکرا دی تھی جس کی وجہ اس دورے کے دوران کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ سے ملاقات نہ کروانا تھی جو مسلسل زیر حراست ہیں۔

تاہم بھارت میں تعینات امریکی سفیر کینتھ جسٹر گروپ میں شامل ہوئے جنہوں نے بھارتی سیکیورٹی سروسز کے منتخب کردہ صحافیوں، سیاستدانوں اور فوجی عہدیداران سے ملاقات کی۔

بھارت کے اس دورے کا مقصد اپنے اس دعوے کی حمایت کرنا تھا کہ کشیدگی کا شکار خطے میں صورتحال معمول کے مطابق ہے جہاں اگست سے نافذ محاصرے کے باعث زندگی مفلوج ہے کیوں کہ حکام نے سورج کے غروب ہونے سے لے کر طلوع ہونے تک کرفیو جاری رکھا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: کولکتہ میں مودی کی آمد کےخلاف انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر احتجاج

اس کے علاوہ بھارتی حکومت نے سوشل اور روایتی میڈیا پر بھی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں جس کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی جبکہ موبائل فون روابط بھی منقطع ہیں۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز نے سینئر سیاستدانوں سمیت سیکڑوں کشمیریوں کو بھی حراست میں لیا تھا جس میں اکثریت اب بھی قید میں ہے جبکہ وہاں انٹرنیٹ بھی معطل ہے۔

واضح رہے کہ تقریباً ایک درجن ممالک کے سفرا کو ایئرپورٹ سے گاڑیوں کے قافلے کی صورت میں سخت سیکیورٹی میں لایا گیا اور انہی علاقوں کا دورہ کروایا گیا جو بھارتی حکام نے خود منتخب کیے تھے۔

یاد رہے کہ کشمیر میں سفارتکاروں، انسانی حقوق کے رضاکاروں اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے رسائی ہمیشہ سے محدود ہے تاہم اب بھارت نے غیر ملکیوں اور بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے لیے خطے کے سفر کو مزید پابندی کا شکار بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر پر بھارتی قبضے کے 72 برس مکمل، دنیا بھر میں یوم سیاہ

اس حوالے سے امریکی نشریاتی اداروں کی رپورٹس میں کہا گیا کہ بھارت کی اپوزیشن جماعتیں غیر ملکی سفیروں کو ’گائیڈڈ ٹور' کروانے اور ان کے سیاستدانوں کو وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہ دینے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

امریکی سفیر کینتھ جسٹر کے علاوہ جن ممالک کے سفیروں نے کشمیر کا دورہ کیا ان میں جنوبی کوریا، ازبکستان، ناروے، ویتنام، بنگلہ دیش اور مالدیپ شامل ہیں۔

بھارتی حکام واشنگٹن کو اپنا سفیر بھیجنے پر راضی کرنے میں کامیاب رہے لیکن اس کے دیگر دوست ممالکت (یعنی) یورپی یونین کی جانب سے گائیڈڈ ٹور نہ کرنے کے فیصلے کے پیچھے چھپتے نظر آئے جس میں فرانس بھی شامل ہے۔

اس فہرست میں برازیلین سفیر اینڈرا کوریا دو لیگو کا نام بھی شامل تھا تاہم وہ سری نگر کے دورے میں نہیں گئے تھے۔


یہ خبر 13 جنوری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔