یورپی سفرا نے مقبوضہ کشمیر کے دورے کی بھارتی دعوت مسترد کردی

اپ ڈیٹ 09 جنوری 2020

ای میل

مذکورہ دورے کا آغاز آج (جمعرات) سے ہو رہا ہے— فوٹو: اے ایف پی
مذکورہ دورے کا آغاز آج (جمعرات) سے ہو رہا ہے— فوٹو: اے ایف پی

یورپی ممالک کے سفرا نے 'حکومتی سربراہی' میں مقبوضہ کشمیر کے دو روزہ دورے سے متعلق بھارت کی دعوت مسترد کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق یورپی ممالک کے سفیروں نے بھارتی پیشکش مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت کی سربراہی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کے بجائے لوگوں سے ملاقات کی مکمل آزادی دی جائے۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت 5 اگست 2019 کو ختم کردی گئی تھی جس کے بعد سے وادی میں کرفیو اور مواصلاات کا نظام معطل ہے اور اس پر نئی دہلی کو عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کی سخت تنقید کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں میں سختی

اس ضمن میں امریکا سمیت 15 ممالک کے سفرا دو روز کے لیے مقبوضہ کشمیر پہنچ رہے ہیں۔

مذکورہ دورے کا آغاز آج (جمعرات) سے ہو رہا ہے۔

حکام نے بتایا کہ سفارتی عملہ سری نگر اور جموں کے دورے کے دوران سول سوسائٹی کے اراکین اور سرکاری عہدیداروں سے ملاقات کرے گا۔

تاہم ملاقات سے متعلق تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں لیکن توقع کی جارہی ہے کہ بھارت کی مختلف ایجنسیاں سفرا کو سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیں گی۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا نیوز ایجنسی کے مطابق بنگلہ دیش، ویتنام، ناروے، مالدیپ، جنوبی کوریا، مراکش اور نائیجیریا کی نمائندگی کرنے والے سفارتکار وفد کا حصہ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر بھارتی حکومت سے جواب طلب

این ڈی ٹی وی کے مطابق یورپی سفارت کاروں نے کہا کہ وہ مقبوضہ علاقے کا 'حکومتی سربراہی میں دورہ' نہیں چاہتے ہیں اور 'بعد میں دورہ کریں گے اور ان لوگوں سے ملیں گے جن سے وہ ملنا چاہیں'۔

سفارتی ذرائع کے حوالے سے دی ہندو نے انکشاف کیا کہ یورپی یونین کے سفارتکاروں نے نئی دہلی کی دعوت کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور 'لوگوں سے ملنے اور اہلکاروں/ حکام کی تعیناتی کے بغیر لوگوں سے بات کرنے میں آزادی' دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی حکومت نے آئندہ کی تاریخوں میں یورپی سفیروں کے لیے الگ دورے کے اہتمام کا فیصلہ کیا۔

علاوہ ازیں کہا گیا کہ آسٹریلیا، افغانستان اور خلیجی ممالک کو بھی مقبوضہ کشمیر کے دورے کے لیے مدعو کیا گیا تھا لیکن 'دیگر مصروفیات' کی وجہ سے انہوں نے انکار کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج

رپورٹ میں سفارتکاروں کے حوالے سے بتایا گیا 'بہت سے سفیر ابھی بھی موسم سرما کی تعطیلات پر ہیں اور تاحال دہلی واپس نہیں آئے ہیں، بعض سفرا امریکا اور ایران کے تناؤ کے خاتمے کا انتظار کر رہے ہیں'۔

دی ہندو کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 'جب حکومتی ذرائع سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ یورپی یونین کے سفیروں نے محدود نوعیت کے ماحول کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے دورے سے انکار کیا'۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس سفر پر تمام 28 ممالک کو ایڈجسٹ کرنے کے قابل نہیں ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کیا ہے؟

آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے اور آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے جس کے تحت ریاست کا اپنا آئین تھا اور اسے خصوصی نیم خودمختار حیثیت حاصل تھی۔

اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی، مالیاتی، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں وفاقی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر جموں و کشمیر میں بھارتی قوانین کا نفاذ نہیں کیا جا سکے گا۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی ریاست یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے، تاہم آرٹیکل 370 کے تحت بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر پاکستانی شوبز شخصیات کا احتجاج

مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 35 'اے' اسی آرٹیکل کا حصہ ہے جو ریاست کی قانون ساز اسمبلی کو ریاست کے مستقل شہریوں کے خصوصی حقوق اور استحقاق کی تعریف کے اختیارات دیتا تھا۔

1954 کے صدارتی حکم نامے کے تحت آرٹیکل 35 'اے' آئین میں شامل کیا گیا جو مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو خصوصی حقوق اور استحقاق فراہم کرتا تھا۔

اس آرٹیکل کے مطابق صرف مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والا شخص ہی وہاں کا شہری ہو سکتا تھا۔

اس آرٹیکل کو کیوں ختم کیا گیا؟

حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ان کے اتحادیوں نے آرٹیکل 35 'اے' کو امتیازی قانون قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عدالت میں متعدد درخواستیں دائر کی تھیں۔

حکمران جماعت کے ایک سینئر رہنما نے گزشتہ ماہ عندیہ دیا تھا کہ حکومت اس قانون کو ختم کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں زیادہ سے زیادہ ہندوؤں کی بستیوں کو آباد کیا جا سکے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنی انتخابی مہم میں آرٹیکل 370 اور اس کی شق 35اے کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔