'بھارتی آرمی چیف کا غیر ذمہ دارانہ بیان خطے کے امن کو متاثر کرسکتا ہے'

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2020

ای میل

اجلاس میں جیواسٹریٹیجک، علاقائی و قومی سلامتی کے امور زیر غور آئے، ترجمان پاک فوج — فوٹو: آئی ایس پی آر
اجلاس میں جیواسٹریٹیجک، علاقائی و قومی سلامتی کے امور زیر غور آئے، ترجمان پاک فوج — فوٹو: آئی ایس پی آر

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس میں ملک کی داخلی سلامتی کی صورتحال سمیت مقبوضہ کشمیر اور مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی پر غور کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت 228ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔

مزید پڑھیں: کور کمانڈر کانفرنس:ریاستی اداروں سے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

کانفرنس میں جیو اسٹریٹجک اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے پاکستان پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر غور کیا گیا۔

کانفرنس کے شرکا کا کہنا تھا کہ بھارتی آرمی چیف کا غیر ذمہ دارانہ بیان خطے کے امن و استحکام پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

اجلاس میں جیو اسٹریٹیجک، علاقائی و قومی سلامتی کے امور زیر غور آئے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ قومی سلامتی اور مادر وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان نے بھرپور کردار ادا کیا۔

کانفرنس میں ملک میں پائیدار امن کے لیے پاک فوج کی کوششیں جاری رکھنے اور علاقائی امن کے لیے تمام اقدامات کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

شرکا نے ملک میں قیام امن کے لیے ریاستی اداروں اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنا مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

خیال رہے کہ بھارت کے 28ویں آرمی چیف تعینات ہونے والے جنرل منوج مکند ناراوین کا کہنا تھا کہ 'نئی دہلی لائن آف کنٹرول کے پار حملوں کا اختیار رکھتا ہے'۔

بھارتی آرمی چیف نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے چند گھنٹوں بعد ہی کہا تھا کہ 'اگر پاکستان دہشت گردی کی معاونت کو ختم نہیں کرتا تو دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر بھارت کو پاکستان پر حملے کا اختیار حاصل ہے اور ہماری اس نیت کا مظاہرہ بالاکوٹ آپریشن اور سرجیکل اسٹرائکس کی صورت میں سامنے آچکا ہے'۔

جس پر پاکستان نے بھارت کے نئے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل منوج مکند ناراوین کے آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار 'پیشگی حملوں' کے 'غیر ذمہ دارانہ بیان' کو مسترد کردیا تھا۔

علاوہ ازیں اگر مشرق وسطیٰ کی بات کی جائے تو ایران اور امریکا کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کئی ممالک کے لیے باعث پریشانی ہے۔

امریکا نے عراق میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں ہلاک کردیا تھا جس کے بعد ایران نے دھمکی آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے عراق میں امریکی فوجیوں کے ٹھکانوں پر 15 سے زائد راکٹ داغ دیے تھے۔

مزید پڑھیں: 'ایران جوہری معاہدے کے تحت وعدوں کی مکمل پاسداری کرے'

ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ راکٹ حملے میں 80 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تاہم واشنگٹن نے تہران کے دعویٰ کو مسترد کردیا تھا۔

راکٹ کے حملوں کے بعد امریکا نے تہران کے اعلیٰ عہدیداروں اور متعدد کمپنیوں پر پابندی عائد کردی تھی۔