'جامع مسجد پاکستان میں نہیں ہے جہاں مظاہرے کی اجازت نہ ہو'

15 جنوری 2020

ای میل

— فائل فوٹو / رائٹرز
— فائل فوٹو / رائٹرز

نئی دہلی کی تیس ہزاری عدالت نے متنازع شہریت ترمیمی قانون پر احتجاجی مظاہرین کے خلاف پولیس کو کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکتے ہوئے کہا کہ لوگ بشمول مذہبی مقامات کے باہر کہیں بھی پرامن مظاہرہ کرسکتے ہیں، جامع مسجد پاکستان میں نہیں ہے جہاں ہمیں مظاہرے کی اجازت نہ ہو۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد کی ضمانت سے متعلق سماعت کے دوران عدالت نے دہلی پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ 'پولیس مظاہرین کے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے جیسے جامع مسجد پاکستان میں ہو اور جہاں ہمیں احتجاج کی اجازت نہ ہو، پرامن مظاہرے پاکستان میں بھی ہوتے ہیں'۔

مزید پڑھیں: متنازع شہریت قانون فنڈز دینے والے غیر ملکیوں کو شہریت دینے کی چال ہے،ممتا بینرجی

واضح رہے کہ متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دریاگنج میں پرتشدد واقعات کے بعد بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

دوران سماعت جب عدالت نے چندر شیکھر آزاد پر عائد الزامات سے متعلق پراسیکیوٹر سے سوال کیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

جس پر عدالت نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے پراسیکیوٹر کی سرزنش کی۔

بعد ازاں پراسیکیوٹر نے چندر شیکھر آزاد کی پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ جامع مسجد ایریا میں دھرنے میں جارہے ہیں۔

اس پر جج نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ 'دھرنے کا کیا مسئلہ ہے؟ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ وہ پرامن احتجاج کرے'۔

عدالت نے کہا کہ 'آپ ایسا رویہ اختیار کر رہے ہیں جیسے جامع مسجد پاکستان میں ہو، اگر مسجد پاکستان میں بھی ہوتی تو آپ ادھر بھی جا کر احتجاج کر سکتے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: متنازع شہریت قانون کےخلاف پُرتشدد مظاہرے جاری، 14 افراد ہلاک

جج نے مزید کہا کہ 'پاکستان غیر منقسم بھارت کا حصہ تھا اور چندر شیکھر آزاد کی پوسٹ غیر آئینی نہیں ہے'۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سماعت 22 جنوری تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ بھارت میں گزشتہ ماہ بننے والے متنازع شہریت قانون کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی اس قانون کے خلاف مضبوط آواز بن کر سامنے آئی ہیں اور انہوں نے کہا تھا کہ ان کی ریاست میں یہ قانون ان کی لاش پر سے گزر کر ہی نافذ ہوگا۔

یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے شہریت میں ترمیم سے متعلق قانون کے خلاف درخواستیں مسترد کردی تھیں، جس کے باعث ملک میں جاری مظاہرے شدت اختیار کر گئے تھے۔

بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جس میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ مختلف ریاستوں میں احتجاج پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی سپریم کورٹ نے شہریت کے نئے قانون پر عملدرآمد روکنے کی اپیلیں مسترد کردیں

متنازع شہریت قانون کے خلاف طلبہ اورمسلمانوں سمیت ہزاروں شہریوں کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے۔

شہریت ترمیمی قانون ہے کیا؟

شہریت ترمیمی بل کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے 6 مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جینز اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت فراہم کرنا ہے، اس بل کے تحت 1955 کے شہریت ایکٹ میں ترمیم کر کے منتخب کیٹیگریز کے غیرقانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔

اس بل کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا نے بھی مخالفت کی اور کہا کہ مرکز اس بل کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بھارتی شہریت کے ترمیمی بل 2016 کے تحت شہریت سے متعلق 1955 میں بنائے گئے قوانین میں ترمیم کی جائے گی۔

مزیدپڑھیں: بھارت: متنازع شہریت بل کےخلاف احتجاج، کرفیو نافذ، درجنوں گرفتار

اس بل کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ مت، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔

اس بل کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بل کے تحت غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی، جو مارچ 1971 میں آسام آئے تھے اور یہ 1985 کے آسام معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

خیال رہے کہ آسام میں غیر قانونی ہجرت ایک حساس موضوع ہے کیونکہ یہاں قبائلی اور دیگر برادریاں باہر سے آنے والوں کو قبول نہیں کرتیں اور مظاہرین کا ماننا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد ریاست آسام میں مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔