لیبیا: متحارب گروپس کے سربراہان کی عالمی سربراہی اجلاس میں شرکت متوقع

اپ ڈیٹ 19 جنوری 2020

ای میل

ترک صدر کا مؤقف روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کے آغاز پر آیا —فائل فوٹو: رائٹرز
ترک صدر کا مؤقف روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کے آغاز پر آیا —فائل فوٹو: رائٹرز

لیبیا کے متحارب فریقین اور عالمی طاقتوں کے رہنماؤں نے شمالی افریقی ملک میں طویل عرصے سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے جرمنی میں بات چیت کا آغاز کردیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر طرابلس کی تسلیم شدہ حکومت کے سربراہ فائز السراج اور ان کے حریف نیشنل آرمی کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر کی اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔

مزیدپڑھیں: ترک صدر کا لیبیا کی مدد کیلئے اپنی فوج بھیجنے کا اعلان

اس ضمن میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے امن سمٹ میں کہا کہ فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر کو سیاسی عمل کی تکمیل کے لیے اپنا جارحانہ رویہ ختم کرنا ہوگا۔

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے تبصرے میں رجب طیب اردوان نے کہا کہ 'سیاسی عمل اور حل کے تمام مراحل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نیشنل آرمی کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر کے جارحانہ مؤقف کو ختم ہونا چاہیے۔

ترک صدر کا مؤقف روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کے آغاز پر آیا۔

دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے لیبیا میں غیر ملکی فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کی مداخلت تنازع کو ہوا دینے کا باعث بنے گی۔

فرانسیسیی صدر نے طرابلس میں شام اور غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد پر شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'اس کا خاتمہ ہونا چاہیے'۔

یہ بھی پڑھیں: لیبیا: جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 264 سے تجاوز کرگئی

برلن میں اطالوی وزیر اعظم، برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو بھی تھے۔

سربراہی اجلاس میں مدعو کیے گئے دیگر ممالک میں متحدہ عرب امارات، مصر، الجیریا، چین اور جمہوریہ کانگو شامل ہیں۔

علاوہ ازیں اجلاس میں اقوام متحدہ، یورپی یونین، افریقی یونین اور عرب لیگ کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی جبکہ اجلاس کا آغاز جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کیا۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا برلن اجلاس لیبیا میں تمام فریقین کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کرنے اور طرابلس میں مداخلت روکنے پر قائل کرسکے گا جبکہ تمام فریقین کے اپنے اپنے ایجنڈے ہیں'۔

خیال رہے کہ لیبیا میں فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر کو متحدہ عرب امارات، مصر، اردن اور روس کی حمایت حاصل ہے۔

علاوہ ازیں فرانس پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے حفتر کو کچھ مدد فراہم کی۔

یہ بھی پڑھیں: لیبیا: طرابلس کے قریب لڑائی کے دوران 21 افراد جاں بحق

دوسری جانب ترکی طرابلس میں قائم حکومت برائے قومی معاہدے (جی این اے) کی بھر پور حمایت کرتا ہے۔

جی این اے کی پارلیمنٹ نے رواں ماہ کے شروع میں لیبیا میں فوج بھیجنے کی منظوری بھی دی تھی۔

اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کار ولفگرم لاچار نے الجزیرہ کو بتایا کہ 'مسئلہ یہ ہے کہ مغربی طاقتیں حفتر کے حامی ممالک خاص طور پر متحدہ عرب امارات پر دباؤ ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں لہٰذا برلن غیرملکی مداخلت کار غیریقینی کیفیت پیدا کردیں گے'۔

یاد رہے کہ لیبیا میں 2011 میں اس وقت کے مضبوط حکمران معمر قذافی کے خلاف عوام نے شدید احتجاج کیا تھا اور عوام کو نیٹو ممالک کا تعاون بھی حاصل تھا تاہم معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد انتظامیہ اور مسلح گروہوں کے درمیان حکومت کے حصول کے لیے لڑائی شروع ہوئی۔

لیبیا کی نیشنل آرمی کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر کی جانب سے رواں ماہ کے اوائل میں اقوام متحدہ سمیت عالمی طور پر تسلیم شدہ طرابلس کی حکومت کے خلاف پیش قدمی شروع کردی تھی جس کے بعد ملک میں ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔