مسلمان مسافروں سے 'امتیازی سلوک' پر ڈیلٹا ایئرلائن کو 50 ہزار ڈالر جرمانہ

25 جنوری 2020

ای میل

ڈیلٹا نے 'متعصبانہ رویہ اپنایا' اور 'امتیازی سلوک کے قوانین کی خلاف ورزی' کی، امریکی محکمہ ٹرانسپورٹیشن — فائل فوٹو / اے ایف پی
ڈیلٹا نے 'متعصبانہ رویہ اپنایا' اور 'امتیازی سلوک کے قوانین کی خلاف ورزی' کی، امریکی محکمہ ٹرانسپورٹیشن — فائل فوٹو / اے ایف پی

امریکا کے محکمہ ٹرانسپورٹیشن نے 'ڈیلٹا ایئرلائنز' پر 3 مسلمان مسافروں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے اور انہیں جہازوں سے اتارنے پر 50 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق اپنے حکم نامے میں محکمے نے کہا کہ ڈیلٹا ایئرلائنز تین مسافروں کو جہازوں سے اتار کر 'متعصبانہ رویہ اپنانے' اور 'امتیازی سلوک کے قوانین کی خلاف ورزی' کی مرتکب قرار پائی۔

مسافروں کے ساتھ ایئرلائن کے امتیازی سلوک کے ایک واقعے میں 26 جولائی 2016 میں ایک مسافر نے فلائٹ اٹینڈنٹ کو بتایا کہ وہ مسلم جوڑے کے برتاؤ سے بہت بے چین اور گھبراہٹ کا شکار ہورہی ہیں، جس کے بعد اس جوڑے کو پیرس کے چارلس ڈی گاؤلے ایئرپورٹ پر ڈیلٹا کی فلائٹ 229 سے اتار دیا گیا۔

اس جوڑے کی خاتون نے سر پر اسکارف باندھ رکھا تھا جبکہ مرد نے اپنی گھڑی میں کوئی چیز داخل کی تھی۔

مزید پڑھیں: امریکا: مسلمان اراکینِ پارلیمنٹ کی اسرائیل کے بائیکاٹ کی حمایت سے نئے تنازع کا آغاز

فلائٹ اٹینڈنٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے مرد کو اپنے موبائل فون سے کسی کو پیغام بھیجنے کے دوران لفظ 'اللہ' کا کئی بار استعمال کرتے دیکھا تھا۔

اس کے بعد جہاز کے پائلٹ نے ڈیلٹا کے کارپورٹ سیکیورٹی حکام سے بات کی جن کا کہنا تھا کہ دونوں مرد و خاتون امریکی شہری تھے جو واپس وطن لوٹ رہے تھے اور جن سے متعلق کوئی شک نہیں تھا۔

تاہم جہاز کے پائلٹ نے انہیں طیارے میں بٹھانے سے انکار کردیا۔

امریکی محکمہ ٹرانسپورٹیشن نے کہا کہ اس واقعے میں طیارے کا پائلٹ ڈیلٹا کے سیکیورٹی پروٹوکول پر عمل میں ناکام رہا جبکہ مسلمان جوڑے کو اس کے مذہب کی بنا پر ایئرلائن کو انہیں جہاز سے اتارنے یا دوبارہ بورڈنگ سے نہیں روکنا چاہیے تھا۔

محکمے کے جرمانے کے حکم میں جس دوسرے واقعے کا ذکر کیا گیا اس کے مطابق ایک مسلم مسافر نے 31 جولائی 2016 کو ایمسٹرڈیم سے نیو یارک کے لیے فلائٹ 49 میں سفر کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سویڈن:مسلم خاتون نے ہاتھ نہ ملانے پر امتیازی سلوک کا مقدمہ جیت لیا

جہاز کے دیگر مسافروں اور فلائٹ اٹینڈنٹس نے مرد مسافر سے متعلق شکایت کی لیکن فرسٹ افسر کو مسافر سے متعلق کوئی غیر معمولی بات نظر نہیں آئی جبکہ ڈیلٹا سیکیورٹی نے بھی ان سے متعلق کوئی شک کا اظہار نہیں کیا۔

جہاز کے کپتان نے اڑان کے لیے تیاری کی تاہم پھر وہ گیٹ پر آیا اور مسلمان مسافر کو جہاز سے اتار کر ان کی نشست کی تلاشی لی۔

امریکی محکمے نے کہا کہ جہاز کے کپتان نے ڈیلٹا کے سیکیورٹی پروٹوکول پر عمل نہیں کیا اور کلیئرنس کے باوجود مسافر کو جہاز سے اتارنے کا عمل امتیازی تھا۔