آن لائن مواد کو ریگولیٹ کرنے کی پیمرا کی پیشکش مسترد

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020

ای میل

ناقدین نے اس پیشکش کو ان آوازوں کو دبانے کی سازش قرار دیا جو الیکٹرانک میڈیا سے غائب ہوکر ویب ٹی وی پر کام کر رہے ہیں — فائل فوٹو: ڈان
ناقدین نے اس پیشکش کو ان آوازوں کو دبانے کی سازش قرار دیا جو الیکٹرانک میڈیا سے غائب ہوکر ویب ٹی وی پر کام کر رہے ہیں — فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے انٹرنیٹ ٹیلی وژن اور اوور دی ٹاپ (او ٹی ٹی) کانٹینٹ سروسز کو ریگولیٹ کرنے کی پیشکش کو 19 تنظیموں اور 36 نامور شخصیات نے مسترد کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ناقدین نے اس پیشکش کو ان آوازوں کو دبانے کی سازش قرار دیا جو الیکٹرانک میڈیا سے انٹرنیٹ ٹیلی وژن، المعروف ویب ٹی وی، کی جانب منتقل ہوگئی ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، عورت مارچ کراچی، بولو بھی، ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف)، انسٹیٹیوٹ فور ریسرچ، ایڈووکیسی اینڈ ڈیولپمنٹ (ارادہ)، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور پیپلز کمیشن برائے اقلیتوں کے حقوق ان تنظیموں میں سے شامل ہیں جنہوں نے پیمرا کی پیشکش کو مسترد کیا۔

مزید پڑھیں: چیئرمین پیمرا نے ' گمراہ کن ایڈوائزری' پر عدالت سے معافی مانگ لی

پیمرا کی پیشکش کو مسترد کرنے والی نامور شخصیات میں پاکستان بار کونسل کے نائب صدر عابد ساقی، انسانی حقوق کی رضاکار طاہرہ عبداللہ اور صحافی ناصر زیدی، عدنان رحمت، عاصمہ شیرازی اور بدر عالم شامل ہیں۔

'ارادہ' کے نمائندے آفتاب عالم نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا نے یہ پیشکش 8 جنوری کو اپنی ویب سائٹ پر لگائی جس میں کہا گیا کہ وہ انٹرنیٹ ٹیلی وژن اور متعدد ویب سائٹس پر او ٹی ٹی سروسز، جس کے ذریعے لوگ پیسے دے کر مواد تک رسائی حاصل کرتے ہیں، کو ریگولیٹ کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پیمرا نے ابتدائی طور پر 31 جنوری تک رائے طلب کی تاہم رائے دینے کی مدت 14 فروری تک بڑھا دی گئی ہے۔

آفتاب عالم کا کہنا تھا کہ 'پیمرا نے لکھا کہ یہ مارکیٹ میں مقابلے کا معاملہ ہے اور اس پر ریگولیشن کی ضرورت ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ارادہ، ڈی آر ایف، بولو بھی اور فریڈم نیٹ ورک نے اس پیشکش کا جائزہ لیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ اس کا مقصد عوام کی آواز دبانا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کئی صحافی الیکٹرانک میڈیا سے غائب ہوچکے ہیں تاکہ وہ اپنا ویب ٹی وی چلا سکیں اور آزادانہ طور پر اپنی رائے دے سکیں اور لگتا ہے کہ یہ اقدام ان آواز کو دبانے کے لیے اٹھایا جارہا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پیمرا کی احتساب عدالت میں نیب ریفرنس سے بریت کی درخواست

انہوں نے بتایا کہ 'سماجی رابطوں کی ویب سائٹس جیسے فیس بک، ٹوئٹر پر براہ راست اسٹریمنگ کو بھی ویب ٹی وی سمجھا جاتا ہے'۔

'ارادہ' کے نمائندے کا کہنا تھا کہ 'پیشکش میں کہا گیا کہ پیمرا ویب ٹی وی لائسنس جاری کرے گا اور انٹرٹینمنٹ چینل کی لائسنس فیس 50 لاکھ روپے اور کرنٹ افیئرز ویب ٹی وی کی لائسنس فیس ایک کروڑ روپے ہوگی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس معاملے پر چند روز قبل مشاورت کی گئی جس میں تنظیموں اور انفرادی شخصیات نے اس پیشکش کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ اقدام کرپشن اور حکومت کے غلط فیصلوں کے خلاف آواز کو دبانے کے لیے ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیمرا کی ویب سائٹ پر دستیاب اس طرح کی پیشکش پر کئی ممالک میں عمل نہیں ہوا اور اب تک صرف 4 ممالک نے اس طرح کی پالیسی متعارف کرانے کی کوشش کی ہے تاہم وہ اس کے نفاذ میں ناکام رہے ہیں۔