قائمہ کمیٹی کا بی آئی ایس پی سے 8 لاکھ افراد کے اخراج پر شکوک و شبہات کا اظہار

اپ ڈیٹ 31 جنوری 2020

ای میل

سروے کرنے کے لیے ادارے کی صلاحیت بڑھانے کا کام 3 این جی اوز اور ایک نجی کمپنی کو دیا گیا —فائل فوٹو: اے پی
سروے کرنے کے لیے ادارے کی صلاحیت بڑھانے کا کام 3 این جی اوز اور ایک نجی کمپنی کو دیا گیا —فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے 8 لاکھ افراد کو خارج کرنے کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار پر شکوک و شبہات کا اظہار کردیا۔

کمیٹی کنوینر شیری رحمٰن کے پوچھنے پر بی آئی ایس پی کے سیکریٹری نے بتایا کہ پروگرام سے خارج کیے گئے 8 لاکھ 20 ہزار 165 افراد میں سے 42 فیصد کو اس لیے نکالا گیا کیوں کہ انہوں نے بیرونِ ملک سفر کیا تھا۔

سیکریٹری نے بتایا کہ سروے کرنے کے لیے ادارے کی صلاحیت بہتر بنانے کا کام 3 غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور ایک نجی کمپنی کو دیا گیا اور اس کے لیے 8 ارب روپے مختص کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: بی آئی ایس پی سے نکالے گئے افراد کو نوٹسز بھیجے جائیں، قائمہ کمیٹی

ان تین غیر سرکاری تنظیموں میں ’سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ، رورل سپورٹ پروگرام نیٹ ورک اور عورت فاؤنڈیشن شامل ہیں جبکہ نجی کمپنی کا نام انوویٹو ڈیولپمنٹ اسٹریٹجیز (آئی ڈی ایس) ہے'۔

دوران اجلاس سینیٹر مشاہد حسین نے نشاندہی کی کہ ان کی معلومات کے مطابق یہ تینوں این جی اوز کمیونٹیز پر مبنی پروگرام کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں تاہم آئی ڈی ایس نامی کمپنی کو وہ نہیں جانتے۔

بظاہر بی آئی ایس پی عہدیدار پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو اس بات پر قائل کرنے میں ناکام نظر آئے کہ سروے کے لیے 3 این جی اوز اور غیر معروف کمپنی کی خدمات حاصل کرنا درست فیصلہ تھا۔

کمیٹی اراکین کا ماننا تھا کہ پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) یہ کام کرسکتا تھا۔

مزید پڑھیں: حکومت کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ 20 ہزار افراد کا نام نکالنے کا فیصلہ

تاہم بی آئی ایس پی سیکریٹری کا کہنا تھا کہ پی بی ایس کے پاس مطلوبہ صلاحیت موجود نہیں، انہوں نے ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ چونکہ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، نارووال اور سیالکوٹ اضلاع میں این جی اوز کو تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) نہیں مل سکا اس لیے ان علاقوں میں سروے کے لیے پی بی ایس سے کہا گیا۔

اس موقع پر شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ اگر 8 ارب روپے پاکستان ادارہ شماریات کو فراہم کردیے جاتے تو وہ اپنی تمام سہولیات کو بہتر بنا لیتے اور غربت اسکورڈ کارڈ بنانے کے لیے سروے کرلیتے۔

بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والوں کی اسکروٹنی کے بارے میں سیکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ فہرستوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ 12 دسمبر کو کیا گیا تھا اور کچھ ہی ہفتوں میں یہ سارا عمل مکمل کرلیا گیا۔

جس پر شیری رحمٰن نے کہا کہ ایسا ممکن ہے کہ کسی نے دوسروں کی جانب سے کروائے گئے حج اور عمرے کے لیے سعودی عرب کا سفر کیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز

سیکریٹری بی آئی ایس پی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی کسی شخص کو 4 لاکھ روپے دے سکتا ہے تو وہ اس شخص کی ایک ہزار 650 روپے جتنی معمولی مدد تو کر ہی سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی سرکاری محکمے میں پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے 5 ہزار روپے ادا کرسکتا ہے تو اسے اتنی معمولی سی مالی مدد کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی پروگرام سے نکالے گئے 8 لاکھ افراد میں سے ایک لاکھ 40 ہزار سرکاری ملازمین تھے جن میں گریڈ 17 اور اس سے زائد کے ڈھائی ہزار افسران شامل تھے، جس پر شیری رحمٰن نے ان افسران کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔


یہ خبر 31 جنوری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔