آئی ایم ایف کا وفد بیل آؤٹ پیکج پر کارکردگی کا جائزہ لینے پاکستان پہنچ گیا

اپ ڈیٹ 03 فروری 2020

ای میل

نظر ثانی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب حکومت کو رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں 385 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے — رائٹرز:فائل فوٹو
نظر ثانی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب حکومت کو رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں 385 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے — رائٹرز:فائل فوٹو

اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد 11 روز کے لیے گزشتہ سال جولائی میں بیل آؤٹ پیکج کے تحت دیے جانے والے 6 ارب ڈالر پر کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان پہنچ گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نظر ثانی کے بعد اس بات کا اندازہ لگایا جائے گا کہ حکومت کو مارچ میں مارکیٹ میں اعتماد اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے 45 کروڑ ڈالر دیئے جانے چاہیے یا نہیں۔

پاکستان نے جولائی سے اب تک پیکج کے ایک ارب 44 کروڑ ڈالر حاصل کیے ہیں جس میں سے 99 کروڑ 10 لاکھ ڈالر جولائی میں اور 45 کروڑ 20 لاکھ دسمبر کے مہینے میں حاصل کیے تھے۔

مجموعی 6 ارب ڈالر میں سے پاکستان کو 2023 تک ایک ارب 65 کروڑ ڈالر ملنے ہیں جبکہ 4 ارب 35 کروڑ ڈالر آئی ایم ایف کو اس ہی عرصے میں واپس کرنے ہوں گے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف پیکج کی دوسری قسط: پاکستان کیلئے 45 کروڑ 24 لاکھ ڈالر منظور

نظرثانی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب حکومت کو رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں 2.79 کھرب روپے میں سے 385 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے۔

وفاقی بجٹ 20-2019 کے تحت حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے سالانہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف 55 کھرب 3 ارب روپے کا مقرر کیا تھا۔

یہ سالانہ ہدف ریونیو میں 43 فیصد تک شرح نمو کے حساب سے طے کیا گیا تھا جبکہ درحقیقت مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں ریونیو ہدف 16.8 فیصد رہا جو حکومت کے دعوے کے مطابق 14 فیصد سے زائد مہنگائی اور 3 فیصد معاشی نمو کا سبب تھا۔

آئی ایم ایف کا وفد پاکستان میں آئندہ ہفتے تک قیام کے دوران کابینہ اراکین بشمول ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، حماد اظہر، عمر ایوب خان، اسد عمر اور محمد میاں سومرو کے علاوہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور معاشی وزارتوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا قرضہ کم ہوکر جی ڈی پی کا 84.7 فیصد ہوگیا، آئی ایم ایف

ان ملاقاتوں میں بحث میں گردشی قرضوں میں کمی، ریونیو اکٹھا کرنے، نجکاری پروگرام اور دیگر اسٹرکچرل اصلاحات کے حوالے سے چیلنجز اور کارکردگی پر توجہ دی جائے گی۔

حکومت کے لیے اس وقت سب سے اہم چیلنج معیشت میں ریونیو جمع کرنے کے عمل کو اضافی اقدامات کے ذریعے تیز کرنا ہے کیونکہ ایف بی آر کے حکام نے پہلے ہی اضافی ٹیکسز کے نفاذ کی مخالفت کی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں فریقین اس بات پر تبادلہ خیال کریں گے کہ ترقی کو کم کیے بغیر مالی استحکام کو کیسے یقینی بنایا جائے، توقع کی جارہی ہے کہ وہ جون 2020 میں پیش ہونے والے آئندہ سال کے بجٹ کی تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔