جب سب کچھ ٹھیک ہے پھر یہ مہنگائی کیوں ہے؟

07 فروری 2020

ای میل

تقریباً 2 دہائیوں میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کے ساتھ ہی مہنگائی کی شرح بلندیوں کو چھونے لگی ہے۔

جولائی 2019ء میں جب پروگرام پر عمل درآمد کا آغاز ہوا تو اسی ماہ شرح سود 13.25 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ آئی ایم ایف کے تمام پروگراموں کا آغاز شرح سود میں اضافے، زرِمبادلہ کی شرح میں کمی اور اسٹیٹ بینک سے سرکاری قرضوں کی کٹوتی کے ساتھ ساتھ بجٹ خسارے کے حجم کو گھٹانے کے لیے اخراجات میں کمی کی جاتی ہے۔

ان اقدامات سے جہاں ایک طرف شرح مبادلہ میں کمی کے ذریعے مہنگائی کو جھٹکا ملتا ہے وہیں دوسری طرف گردشی روپے میں اضافے پر قابو پاتے ہوئے مہنگائی کی مالیاتی جڑیں کاٹ دیتے ہیں۔

اگر آپ پاکستان میں مہنگائی کی تاریخ کا جائزہ لیں تو آپ پائیں گے کہ مہنگائی کا زور 2000ء میں اس وقت ٹوٹا تھا جب ملک کے اندر ایک مختصر لیکن سخت آئی ایم ایف پروگرام پر کامیاب عمل درآمد کیا گیا تھا۔

کچھ عرصے بعد مہنگائی کی شرح میں دوبارہ اضافہ ہوا لیکن 2002ء میں پاکستان جب دوسرے آئی ایم ایف پروگرام کی طرف بڑھا تو مہنگائی کی شرح میں ایک بار پھر کمی آگئی۔ اس پروگرام کا دورانیہ 3 برس ہونا تھا لیکن 2004ء میں ہی پاکستان کی جانب سے اسے اس وقت ختم کردیا گیا جب جنرل مشرف کو محسوس ہوا کہ چونکہ تمام اہداف پہلے ہی حاصل کرلیے گئے ہیں اس لیے ملک کو پروگرام کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد (مہنگائی سال بہ سال بڑھتی گئی اور) اگست 2008ء میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔

نومبر 2008ء میں ملک ایک بار پھر آئی ایم ایف پروگرام کی طرف گیا اور پھر 2011ء تک مہنگائی کی شرح 10 فیصد تک گھٹ گئی جبکہ سال کے آخری حصے میں تو 10 سے بھی کم رہ گئی تھی۔

یہ اچھی خاصی کمی تھی لیکن جس سطح پر ملک کے اندر ایڈجسٹمنٹس کی گئی تھیں اس کے پیش نظر مہنگائی کی شرح میں اس سے بھی زیادہ کمی کی توقع کی گئی تھی لیکن بقولِ آئی ایم ایف ’حکومت نے کمرشل بینکوں سے قرضہ لینا شروع کردیا اور اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کو قرضے دے کر اس عمل میں حکومت کی مدد کی ہے۔ یاد رہے کہ کمرشل بینکوں سے قرضے لینے کی پالیسی مہنگائی کو اسی شرح سے بڑھاتی ہے جس طرح براہ راست مرکزی بینک سے پیسے ادھار مانگنے سے اثرات مرتب ہوتے ہیں‘۔

مہنگائی میں کمی لانے اور اسٹیٹ بینک کی پالیسی کی ساکھ کو بڑھانے کے لیے یہ لازمی ہے کہ مرکزی بینک کمرشل بینکوں کو اس قسم کے قرضوں کی فراہمی کے رجحان میں کمی لائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک سے براہ راست قرضہ لینے سے گریز کرنا چاہیے۔

2013ء تک جب ملک ایک بار پھر آئی ایم ایف پروگرام کی طرف گیا تب مہنگائی کی شرح پہلے ہی تیزی سے نیچے آرہی تھی۔ اس کے باوجود شرح سود کو ایک طویل عرصے تک 9 فیصد تک برقرار رکھا گیا تاکہ سیلز ٹیکس کی شرح، بجلی کے نرخوں میں اضافے اور زرِمبادلہ کی شرح میں کمی کے ذریعے کسی حد تک متوقع مہنگائی کے دباؤ پر قابو پایا جاسکے۔

2015ء تک مالی خسارے میں کمی آنا شروع ہوگئی، بینکاری نظام سے حکومتی قرضہ لینے کا رجحان کم ہوا اور مالیاتی پھیلاؤ پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا۔ اس سب کے نتیجے میں شرح سود 6.5 فیصد تک گھٹ گئی۔

جب یہ حکومت اقتدار میں آئی تب مالیاتی پھیلاؤ قابو سے باہر تھا۔ حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینا پیسے چھاپنے جیسا ہی ایک عمل ہے۔ جون 2018ء میں حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے لیے گئے قرضے کا حجم 3 کھرب 67 ارب روپے تھا جو فروری 2019ء تک دگنا ہوکر 7 کھرب 60 ارب تک پہنچ گیا تھا۔ قرض کی یہ شرح غیر معمولی تھی، جس کے باعث قلیل عرصے میں ہی پیسوں کی گردش میں بڑی سطح پر اضافہ ہوا۔

اس پوری پریکٹس کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں برآمد ہوا جو مارچ 2019ء میں 9.4 فیصد تک پہنچ گئی اور حکومت کو ہکا بکا کردیا۔ حکومت نے یہ کہہ کر اس نتیجے کو گھومانے کی کوشش کی کہ ادارہ شماریات پاکستان سے اعداد کے حساب کتاب میں غلطی ہوئی ہے۔ حساب کتاب میں گیس نرخوں سے متعلق معاملات پر اعتراض کرتے ہوئے حکومتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ ادارہ شماریات جتنی افراط زرِ کی شرح بتا رہا ہے اس سے تقریباً ایک فیصد کم ہونی چاہیے۔

لیکن پھر یہ شرح اسی سطح پر برقرار رہی۔ اگلے چند ماہ تک کے لیے افراطِ زر کی شرح بلند سطح پر برقرار رہی اور مالی سال کے اختتام تک افراطِ زر کی شرح ماہانہ اوسط 7 فیصد سے کچھ زائد رہی۔

ایسا اس وقت ہوا جب آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد شروع ہوا اور اسی اثنا میں شرح سود میں اضافہ ہوا۔ تب سے مالیاتی پھیلاؤ پر قابو پالیا گیا جبکہ حکومت ایک ماہ کے لیے پرائمری بیلنس میں آنے والے سرپلس پر اتراتی رہی۔ پھر حکومت کی جانب سے اپنے اثاثے سے جڑے معاملات سنبھالنے کے لیے بڑے نقدی بفر بنائے گئے اور اسٹیٹ بینک سے نہ صرف قرضہ لینا بند کردیا بلکہ پرانا قرضہ بھی اتار لیا گیا۔ آنے والے مہینوں میں زرِمبادلہ کی شرح میں بھی اضافہ ہوا۔

جولائی کے بعد آنے والے مہینوں میں ہم نے مہنگائی کی شرح اوپر جاتے دیکھی تھی۔ جس کی چند وجوہات تھیں، جیسے مالی سال 2019ء کی آخری سہہ ماہی کے دوران شرح مبادلہ کی شرح میں آنے والی کمی، کسی حد تک وجہ مالی سال 2020ء کی پہلی سہہ ماہی میں ہونے والے بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے، اور کسی حد تک وجہ ایندھن پر عائد بھاری ٹیکس تھے۔

یہی صورتحال متوقع تھی اور عام طور پر ایسا تب ہوتا ہے جب بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ایڈجسٹمنٹ کا آغاز ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس قسم کی ایڈجسٹمنٹ عام طور پر اپنے ساتھ شرح سود میں اضافہ لاتی ہے۔

مہنگائی کی مالیاتی جڑیں کاٹنے کے باوجود بھی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان کیوں پایا جاتا ہے؟ کسی حد تک اس کی توقع کی جا رہی تھی لیکن مہنگائی کی جس حد تک پیش گوئی کی گئی ہے ہم اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

حکومت کے اندازوں کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 11 سے 12 فیصد کے قریب اضافہ ہوگا جبکہ ماہانہ اوسط تو ویسے ہی 11.6 فیصد تک پہنچی ہوئی ہے۔ اگر مالیاتی مسائل حل کردیے گئے ہیں تو پھر خاص طور پر ایسے وقت میں قیمتیں کیوں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں جب زبردست انداز میں ایڈجسٹمنٹ کی جا رہی ہے؟

حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے انتظامی وجوہات ہیں یا پھر بقول اسٹیٹ بینک یہ سب ’temporary supply shocks‘ کا کیا دھرا ہے۔ وزیرِاعظم اس کی وجہ مافیاؤں اور منافع خوروں کے گٹھ جوڑ کو قرار دیتے ہیں۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ’temoporary supply shocks‘ ہیں تو پھر مہینوں تک برقرار کیوں ہیں؟ اسٹیٹ بینک نے یہی بات نومبر اور پھر جنوری میں بھی کہی تھی۔ اور اگر یہ منافع خوروں یا مافیاؤں کا گٹھ جوڑ ہے تو پھر وہ اس حکومت کی ناک کے نیچے سرگرم کیسے ہوگئے ہیں؟ شاید عمران خان کو اپنے پیشروؤں سے یہ مشورہ لینا چاہیے کہ ان مافیاؤں اور منافع خوروں پر نگرانی کیسے رکھی جاتی ہے۔

مہنگائی یا تو حد سے زیادہ پیسے بنانے سے ہوتی ہے یا پھر ایسے چیزوں کے داموں میں اضافے کے ذریعے ہوتی ہے جن کی قیمتیں دیگر کموڈٹیز کی قیمتوں میں استعمال ہوتی ہے۔ تیل کی گرتی قیمتوں اور خساروں میں کمی اور اس وقت جاری ایڈجسٹمنٹ کے بیچ مہنگائی میں اضافے کا صرف ایک مطلب ہے: ناکام گورننس۔


یہ مضمون 6 فروری 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔