آنکھیں کھول دینے والی ماحولیاتی تبدیلی پر بنی محض 2 منٹ کی فلم

فروری 07 2020

ای میل

فلم کو ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے اچھا سمجھا جا رہا ہے—اسکرین شاٹ
فلم کو ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے اچھا سمجھا جا رہا ہے—اسکرین شاٹ

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت دنیا کو دہشت گردی اور غربت سے زیادہ ماحولیاتی تبدیلی کا خطرہ لاحق ہے جس سے دنیا کی غربت، صحت اور بقا منسلک ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے جنگلات ایمیزون سے لے کر آسٹریلوی جنگلات میں لگنے والی آگ اور ملائیشیا کی چٹانوں سے پھوٹنے والے آگ کے شعلوں سے لے کر برساتوں اور سیلابوں تک کی آفتیں ماحولیاتی تبدیلی کا ہی نتیجہ ہیں۔

دنیا بھر میں بڑھتی ماحولیاتی آلودگی سے متعلق پالیسیاں بنانے اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف متحد ہوکر اٹھ کھڑے ہونے کے لیے سماجی تنظیم ’ایکسٹنکشل ربیلن‘ اور ایمازون واچ کی جانب سے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے ایک انتہائی مختصر دورانیے کی فلم جاری کردی گئی۔

دونوں تنظیموں کے تعاون سے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف اہم کردار ادا کرنے والے ہولی وڈ ہدایت کار شان مینسن نے ’دی گارجین آف لائف‘ نامی انتہائی مختصر فلم جاری کی جس میں صرف ایک ہی کمرے میں کرداروں کو زندگی بچاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں گزشتہ برس ریلیز ہونے والی تھرلر کامیڈی فلم ’جوکر‘ کے ہیرو جیکوئن فیونکس بھی مرتی زندگی کو بچاتے دکھائی دیتے ہیں۔

فلم میں جوکر کا کردار ادا کرنے جیکوئن فیونکس بھی دکھائی دیے—اسکرین شاٹ
فلم میں جوکر کا کردار ادا کرنے جیکوئن فیونکس بھی دکھائی دیے—اسکرین شاٹ

فلم میں امریکا کے ایک ہسپتال کا آپریشن تھیٹر دکھایا گیا ہے جہاں مرد و خواتین ڈاکٹر انتہائی تشویش ناک حالت میں لائے گئے مریض کی زندگی بچاتے دکھائی دیتے ہیں۔

فلم میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تمام ڈاکٹرز اس مریض کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہین اور اسے ہوش میں لانے یا زندگی کی جانب لوٹانے کی کوشش کے دوران کئی طرح کے طبی تجربے بھی آزماتے ہیں تاہم وہ ناکام ہوجاتے ہیں۔

فلم کے آخر میں دکھایا گیا ہے کہ انتہائی تشویش ناک حالت میں لایا گیا مریض دم توڑ جاتا ہے اور اسے بچانے والے ڈاکٹر مایوس ہوکر آپریشن تھیٹر سے نکلنے لگتے ہیں تو عین اسی وقت مر جانے والے مریض کے ہاتھوں کو ہلتا ہوا دکھایا گیا ہے اور ساتھ ہی اس کے چہرے میں نہ بھجنے والی آگ کو دکھایا گیا ہے۔

اور آخر میں مریض کے جسم سے شروع ہونے والی آگ کو دنیا کے نقشے میں دکھاتے ہوئے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے جنگلات میں لگنے والی آگ کسی کو نہیں بخشے گی۔

کسی بڑے بحث اور انتہائی خوفناک مناظر دکھائے بغیر محض 2 منٹ کی مذکورہ فلم کو 6 فروری کو جاری کیا گیا تھا اور فلم دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔

فلم کو یوٹیوب سمیت دیگر ویڈیو اسٹریمنگ ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز پر بھی ریلیز کیا گیا تھا اور اب تک فلم کو کروڑوں بار دیکھا جا چکا ہے۔

ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے افراد اور ارکان نے فلم کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ فلم سے لوگوں کو ماحولیاتی آلودگی سے ہونے والی تباہیاں سمجھنے میں آسانی ہوگی۔