عراق میں امریکی فوج کے ٹھکانوں پر راکٹ حملے

اپ ڈیٹ 16 فروری 2020

ای میل

راکٹ بغداد میں امریکی سفارتخانے کے قریب قائم امریکی فوجی ٹھکانے پر فائر کیے گئے — فوٹو: اے ایف پی
راکٹ بغداد میں امریکی سفارتخانے کے قریب قائم امریکی فوجی ٹھکانے پر فائر کیے گئے — فوٹو: اے ایف پی

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے کے قریب قائم امریکی فوجی ٹھکانے پر متعدد راکٹ حملے کیے گئے ہیں جس میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عراق میں اتحادی افواج کے ترجمان مائلز کیگنز نے کہا کہ انٹرنیشنل زون میں اتحادی افواج کی میزبانی کرنے والے عراقی فوجی اڈے پر چھوٹے راکٹ سے حملوں کی تصدیق ہوئی ہے جس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: عراق میں امریکی ایئربیس پر راکٹوں سے حملہ

یہ فوجی اڈہ یونین 3 کے نام سے مشہور ہے جو 2014 سے عراق میں تعینات امریکا کی زیر قیادت اتحادی افواج کا ہیڈ کوارٹر ہے تاکہ داعش کے انتہا پسندوں سے نمٹنے کے لیے مقامی افواج کی مدد کر سکیں۔

عراقی فوج کے مطابق انتہائی سیکیورٹی کے حامل گرین زون میں تین کتیوشا راکٹ فائر کیے گئے جہاں امریکی مشن اور یونین تھری کے ساتھ ساتھ عراقی حکومت کی عمارتیں، اقوام متحدہ کے دفاتر اور دیگر سفارتخانے قائم ہیں۔

عراقی فوج کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ چوتھا راکٹ ایک دوسرے مقام پر فوجی نیٹ ورک حشد الشابی کے زیر استعمال اڈے پر فائر کیا گیا لیکن ابھی تک حشد الشابی کی جانب سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

حشد اور امریکی فوج کے اثاثوں پر بیک وقت حملہ غیر معمولی بات ہے کیونکہ امریکا کی جانب سے اس کی تنصیبات پر حملوں کا الزام اکثر فوج میں موجود حشد جیسے عناصر پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا تصادم، کیا خطرہ ٹل گیا؟

یہ گزشتہ سال اکتوبر سے اب تک 19واں حملہ ہے جس میں امریکی سفارتخانے یا عراق میں مقامی فوج کے ساتھ تعینات 5 ہزار 200 امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ابھی تک کسی بھی گروپ نے حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

دسمبر میں مشرقی عراق میں واقع فوجی اڈے پر راکٹ حملے میں ایک امریکی کنٹریکٹر ہلاک ہوا تھا جس کے ساتھ ہی عراق میں صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آئی تھی۔

امریکا نے ان حملوں پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے مغربی عراق میں حشد کے انتہا پسند گروہ کتیب حزب اللہ پر حملے کیے تھے۔

اس کارروائی کے چند دن بعد امریکی ڈرون حملے میں ایرانی فوج کے اہم کمانڈر قاسلم سلیمانی اور ان کے ساتھی اور حشد کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس ہلاک ہو گئے تھے۔

مزید پڑھیں: ایران کا جوابی وار، عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے

ادھر حشد نے امریکی حملے کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا تھا لیکن انہوں نے کہا تھا کہ ان کی ترجیح سیاسی حل یعنی عراق سے امریکی فوج کا انخلا ہے۔

اتوار کو حملہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب چند گھنٹے قبل ہی ایران کے حمایت یافتہ حشد کے دھڑے حرکت النجوبی نے اعلان کیا تھا کہ عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے دن گنے جا چکے ہیں۔