عراق میں امریکی ایئربیس پر راکٹوں سے حملہ

اپ ڈیٹ 12 جنوری 2020

ای میل

البلد ایئربیس عراق کے ایف 16 طیاروں کا مرکزی اڈہ ہے—  فائل فوٹو: رائٹرز
البلد ایئربیس عراق کے ایف 16 طیاروں کا مرکزی اڈہ ہے— فائل فوٹو: رائٹرز

عراق کے شہر بغداد میں واقع البلدایئر بیس پر راکٹوں کے حملوں میں 4 مقامی فوجی زخمی ہوگئے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عراق کی عسکری قیادت نے 4 مقامی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

مزیدپڑھیں: ایران امریکا تصادم، کیا خطرہ ٹل گیا؟

عراقی فوج کے بیان کے مطابق 8 کاتیوشا راکٹ البلد ایئربیس سے ٹکرائے جس میں دو عراقی افسر اور دو ایئرمین زخمی ہوگئے جہاں امریکی فوجی بھی تعینات ہیں۔

خیال رہے کاتیوشا راکٹ لانچر ایک وقت میں متعدد راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

البلد ایئربیس عراق کے ایف 16 طیاروں کا مرکزی اڈہ ہے، عراق نے یہ طیارے اپنی فضائی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے امریکا سے خریدا تھا۔

فوجی ذرائع نے خبر ایجنسی کو بتایا کہ اس اڈے پر امریکی فضائیہ کے چھوٹے دستوں کے ساتھ امریکی ٹھیکیدار بھی موجود تھے تاہم گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی کے بعد اکثریت کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کم از کم 90 فیصد امریکی مشیران اور سیلی پورٹ اور لاک ہیڈ مارٹن کے ملازمین، جو طیاروں کی بحالی میں مہارت رکھتے ہیں، دھمکیوں کے بعد واپس چلے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا جوابی وار، عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے

ذرائع نے مزید کہا کہ البلد ایئربیس پر صرف 15 امریکی فوجی اور ایک طیارہ موجود ہے۔

تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ حملہ کس نے کیا اور اس کا مقصد کیا تھا۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو عروج اس وقت پہنچا جب امریکا نے بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی پیراملیٹری کے سربراہ سمیت 9 افراد کو نشانہ بنایا۔

ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ امریکا کو اس حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا جبکہ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے امریکی اقدام کو جنگ قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ ایران نے قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغ دیے تھے۔

ایران نے میزائل حملے میں ’80 امریکی دہشت گرد‘ ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم امریکا نے تہران کے دعوے کو مسترد کردیا تھا۔

مزیدپڑھیں: امریکی صدر کا ایران پر فوری طور پر اضافی پابندیاں لگانے کا اعلان

اس سے قبل یعنی گزشتہ برس دسمبر میں شمالی عراق میں ہونے والے راکٹ حملے میں ایک امریکی ٹھیکیدار مارا گیا تھا جس کے جواب میں امریکی فضائی کارروائی میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجووں کے 25 اراکین ہلاک ہوگئے تھے۔