پی ٹی اے کا موبائل فون رجسٹریشن نظام اسٹریٹ کرائمز روکنے میں ناکام

اپ ڈیٹ 17 فروری 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق 2019 میں موبائل فون چھیننے یا چوری ہونے کے واقعات کی شرح 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی — فائل فوٹو: اے ایف پی
رپورٹ کے مطابق 2019 میں موبائل فون چھیننے یا چوری ہونے کے واقعات کی شرح 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی — فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: ملک میں غیر قانونی موبائل فونز سے جڑے خطرات کے خاتمے کے لیے حکومت کی جانب سے متعارف کروایا گیا موبائل فون رجسٹریشن نظام اسٹریٹ کرائمز کو روکنے میں ناکام ہوگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹریٹ کرائمز سیکنڈ ہینڈ موبائل فونز کی تجارت کے بنیادی ذرائع میں سے ایک ہیں جبکہ 2019 میں موبائل فون چھیننے یا چوری ہونے کے واقعات کی شرح 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

کراچی پولیس اور سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار نے جنوری 2019 میں شروع کیے گئے ڈیوائس آئی ڈینٹیفکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کی کارکردگی پر سوال اٹھادیے ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی اے نے موبائل فون رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کردی

واضح رہے کہ حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ نئی ٹیکنالوجی سے ملک میں غیر قانونی موبائل فونز کے استعمال سے جڑے خطرات پر قابو پانے میں مدد ملے گی جس سے اسٹریٹ کرائمز کا خاتمہ ہوگا۔

اس حوالے سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں جب ڈی آئی آر بی اس عمل میں لایا گیا تو کراچی میں 45 ہزار 34 موبائل چھینے گئے یا چوری ہوئے تاہم 2018 میں اس نوعیت کے 35 ہزار 4 سو 58 اور 2017 میں 30 ہزار 8 سو 14 جرائم رپورٹ ہوئے تھے۔

صنعتی ذرائع نے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے ملک میں غیر قانونی موبائل فون سے جڑے خطرات پر قابو پانے کے لیے ڈی آئی آر بی ایس کا آغاز کیا گیا اور اس پر عملدرآمد کا نفاذ موبائل فون آپریٹرز کے ذریعے کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں چوری شدہ موبائل فونز کی روک تھام کے لیے نظام متعارف

انہوں نے کہا کہ اس نظام کا مقصد نفاذ سے غیر معیاری، جعلی اور غیر قانونی طور پر درآمد شدہ موبائل فونز کی شناخت، رجسٹریشن اور موبائل فون نیٹ ورکس پر نان کمپلینٹ ڈیوائسز کی غیر قانونی درآمد کی حوصلہ شکنی، قانونی درآمدات اور موبائل ڈیوائس استعمال کنندگان اور سیکیورٹی کی مجموعی صورت حال میں بہتری لانا تھا۔

ذرائع نے کہا کہ ڈی آئی آر بی ایس متعارف کروائے جانے سے قبل درست اور غلط اکیوپمنٹ آئیڈینٹٹی (آئی ایم ای آئی) کے موبائل فونز قانونی اور گرے چینلز کے ذریعے پاکستان لائے جاتے تھے۔