افسانہ: 17 سفید بالوں کا المیہ

19 فروری 2020

ای میل

17 سفید بالوں کا آدمی کی اداسی سے کوئی تعلق نہیں لیکن بعض اوقات آدمی وہ باتیں سوچنے لگتا ہے جن کے بارے میں پہلے کبھی دھیان نہیں گیا ہوتا یہاں تک کہ اس کی زندگی میں ایسے واقعات رونما ہوجائیں جو اسے بہت معمولی باتوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیں۔

جیسا کہ یہ آدمی جو اپنے بستر میں لیٹا بخار سے تپ رہا ہے اور اسے ہر تھوڑی دیر بعد اپنے سر کے 17 سفید بال یاد آجاتے ہیں جن کا خیال جھٹک کر وہ سوچوں کا رُخ دوسری جانب موڑ لیتا ہے لیکن بخار کی وجہ سے وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس شام جس لڑکی سے وہ آخری بار ملا تھا، اس کا چہرہ اس کی یادداشت سے نکل کیسے گیا؟ جب وہ اس کا چہرہ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی اس کی آنکھیں ذہن میں آتیں تو کبھی ناک، لیکن مکمل چہرہ کہیں گڈمڈ ہوگیا تھا۔

ایسا تو نہیں ہونا چاہیے تھا، چہرے تو آدمی کی شناخت ہوتے ہیں اور اگر یہ بھی یادوں سے نکل جائیں تو یادیں کس قدر بے رنگ ہوجاتی ہیں۔ اس کی یادیں بھی بے رنگ ہوگئی تھیں، وہ چہرہ اس کی یادوں سے نکل گیا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ اب اس چہرے کا اس کی یادوں سے نکلنا ضروری بھی تھا۔

شام کو جب وہ ایک ریسٹورینٹ میں سارہ کے سامنے بیٹھا تھا تو قدرے پریشان تھا۔ چاہے آپ کی دوستی کتنی گہری ہی کیوں نہ ہو، محبت کا اظہار آدمی کے لیے ایک پریشان کن لمحہ ہوتا ہے۔ جب یہ کہنا پڑتا ہے کہ آپ زندگی کی اس تیز رفتار دوڑ میں تھک گئے ہیں اور آپ کو ایک سہارے کی اشد ضرورت ہے۔ محبت کا اظہار کہیں نا کہیں آدمی کی شکست کا اعتراف بھی ہوتا ہے، سو اس نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں کو جوڑ کر سارہ سے اپنی محبت کا اظہار کر ہی دیا تھا۔

اس کا خیال تھا کہ محبت کے اظہار کے لیے اسے کچھ زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور دوسرا سارہ یقیناً بہت خوش ہوگی کہ کئی بار وہ اسے بتا چکی تھی کہ وہ اس کا بہترین دوست ہے، لیکن جب اس نے سارہ سے اپنے دل کا حال بیان کیا تو سب کچھ اس کے خیالات کے برعکس ہوا۔ سارہ نے نہ صرف انکار کیا بلکہ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ تو اسے صرف ایک اچھا دوست سمجھتی تھی اور اب اس واقعے کے بعد وہ اس سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہ رکھے کہ وہ اس کے خیالات جان کر بے حد دکھی ہوئی ہے اور اسے افسوس ہے کہ وہ بھی بالکل ایک روایتی مرد ثابت ہوا ہے۔

وہ یہ کہہ کر چلی گئی۔ روایتی مرد اب اپنے بستر میں لیٹا جب اس کے جانے کے بعد کا منظر یاد کرتا ہے تو سب کچھ دھندلا دکھائی دیتا ہے، مِٹے مِٹے سے نقوش کہ جن میں وہ ریسٹورینٹ کے ویٹر کو بِل دے رہا ہے، میٹرو اسٹاپ پر گاڑی کا انتظار کررہا ہے، وہاں سے اُتر کر گلیوں میں پیدل چلتے ہوئے اپنے مکان کا تالا کھول رہا ہے۔ وہ رات گئے تک جاگتا رہا اور سوچتا رہا لیکن دھند گہری تھی۔

اس روز جب وہ سہ پہر کو سارہ سے ملنے کی تیاری کررہا تھا تو شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے اپنا بغور جائزہ لیا تھا، تبھی اس کی نظر اپنے بالوں کی جانب بھی گئی جہاں چند سفید بال دکھائی دیے۔

’کیا یہ آج ہی سفید ہوئے ہیں یا میں نے کبھی غور نہیں کیا؟‘، اس نے سوچا اور پھر ان سفید بالوں کو گننے لگا۔ ایک، 2، 3 ... 17۔

ہاں وہ 17 سفید بال تھے اس نے 2 بار گنتی کی تھی۔

اپنے سفید بال دیکھ کر اسے سالوں بعد اپنے گاؤں کا ملک مظفر یاد آگیا جو اونچا لمبا سفید شملہ باندھتا تھا اور اس کی بڑی بڑی کالی مونچھیں تھیں۔ 60 سال کی عمر کے باوجود ملک مظفر اپنا کوئی بال سفید نہ چھوڑتا اور اس نے 6 شادیاں کر رکھی تھیں۔ گاؤں کے لوگ اسے دیکھتے اور آپس میں ہمیشہ یہی کہتے کہ مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ اسی لیے ملک مظفر کبھی بوڑھا نہیں ہوگا لیکن 5 سال پہلے جب وہ شہر سے اپنے گاؤں گیا تو اس نے دیکھا کہ ملک مظفر کو اس کے ملازم ویل چئیر پر سیر کروا رہے ہیں۔

یہ والا ملک مظفر 5 سال پہلے والے سے یکسر مختلف تھا۔ جھریوں بھرا چہرہ، آنکھوں کے گرد لٹکی ہوئی جلد، سفید مونچھ اور داڑھی۔ اس روز اسے معلوم ہوا کہ گھوڑوں کا تو نہیں پتا لیکن آدمی ضرور بوڑھا ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے اسے اپنے 17 سفید بال دیکھ کر کچھ پریشانی ہوئی تھی۔

’کیا مجھے ان سفید بالوں پر سیاہ رنگ کرا لینا چاہیے؟‘، اس نے خود سے سوال کیا لیکن ابھی تو اس کے پاس وقت نہیں تھا۔ 4 بج چکے تھے اور 5 بجے اس نے سارہ سے ملنے ریسٹورینٹ پہنچنا تھا۔

’سفید بالوں سے کچھ نہیں ہوتا اور دوسرا سارہ مجھے کون سا پہلی بار دیکھ رہی ہے، ہم اتنے اچھے دوست ہیں‘، اس نے اس سوچ کے ساتھ گھر سے قدم نکالے تھے۔

وہ 36 سال کا تھا اور پچھلے ایک سال سے لوگوں سے اپنی عمر چھپاتا آرہا تھا۔ دراصل گزشتہ سال جب اس نے آفس میں اپنے ایک ساتھی کو 35 سال کا بتایا تو وہ بہت ہنسا اور کہا کہ اس نے زندگی میں پہلی بار 35 سال کا کنوارہ لڑکا دیکھا ہے، وہ دکھی ہوگیا اور تب اس نے فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ وہ کسی کو اپنی عمر نہیں بتائے گا۔

اسے نیند آگئی تو اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ صحرا میں پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگ رہا ہے۔ پھر اسے ایک قافلہ دکھائی دیا جن کے پاس پانی کے بھرے مشکیزے تھے۔ وہ دوڑ کر ان کے پاس گیا لیکن جوں جوں وہ قافلے کے پاس جاتا ہے، وہ لوگ اور دُور ہوجاتے۔ وہ انہیں پکارتا رہا کہ رکو ورنہ میں پیاس سے مرجاؤں گا لیکن وہ لوگ آگے چلتے گئے حتٰی کہ وہ چیخ مار کر اُٹھ بیٹھتا ہے۔ رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی اور کمرے میں گھڑی کی ٹِک ٹِک کے سوا کوئی آواز نہیں تھی۔ اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھا تو وہ بخار سے تپ رہا تھا۔

اس قدر سرد رات میں بھی اسے پسینے آرہے تھے۔ اس کی سوچوں کا رُخ پھر سارہ کی طرف چلا گیا۔ کاش وہ میرے ساتھ یوں نہ کرتی۔ اس آدمی کو ذرا گمان بھی نہیں تھا کہ سارہ کا ردِعمل یہ ہوگا ورنہ وہ عمر بھر کے لیے یہ اظہارِ محبت ملتوی کردیتا۔ اس کی زندگی کچھ اس ڈھب سے گزری تھی کہ وہ عورتوں کے بارے کچھ زیادہ جان نہیں پایا تھا۔ 3 سال پہلے ایک این جی او میں کام کرتے ہوئے اس کی ملاقات سارہ سے ہوئی تھی اور یہ ملاقات بہت جلد دوستی میں بدل گئی۔

’لیکن مجھے اس کا چہرہ یاد کیوں نہیں آرہا؟ کیا سارے چہرے یونہی آدمی کی یادوں سے نکل جاتے ہیں؟‘، اس نے سوچا اور موبائل میں موجود تصویریں دیکھنے لگا۔ کچھ دن پہلے کی سارہ کی تصویر نظر آئی، کون تھی یہ لڑکی؟ اسے تو وہ بالکل بھی نہیں جانتا تھا۔ پھر اس نے سارہ کی وہی تصویر اپنے موبائل کے وال پیپر کے طور پر لگا دی۔

وہ کمرے میں اکیلا تھا کہ اسے چھت پر کسی کے قدموں کے چاپ سنائی دی۔

’اِس وقت بھلا کون ہوسکتا ہے؟‘، ڈرا ہوا آدمی مزید ڈر گیا۔

کوئی چھت پر تھا آواز ابھی بھی آرہی تھی، پھر کوئی سیڑھیاں اترنے لگا، اتنی خاموشی تھی کہ اس نے چھت کا دروازہ آہستگی سے دھکیلنے اور سیڑھیوں پر قدموں کی چاپ سُن لی تھی۔

’یہ کون ہے اور بھلا مجھ سے کیا چاہتا ہوگا؟‘، اس نے اپنے اوپر سے کمبل سرکایا اور چارپائی سے نیچے ٹھنڈے فرش پر پاؤں رکھا۔ سردی کی ایک لہر اسے اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس ہوئی تھی۔ سر بہت بھاری ہورہا تھا اور جسم میں شدید نقاہت اُتر آئی تھی، حالانکہ اس شام وہ بالکل ٹھیک تھا۔ سوچیں آدمی کو کتنی جلدی بوڑھا کردیتی ہیں، ایک شام گزری اور وہ خود کو کئی سال پرانا محسوس کررہا تھا۔ اس نے کمرے کی لائٹ جلالی۔

اب کوئی برآمدے میں چل رہا تھا۔ وہ دروازے کے پاس آگیا اور کان لگا کر آوازوں پر غور کرنے لگا۔

دروازے کے بالکل دوسری جانب کوئی تھا۔ پھر ایک تیز بلیڈ دروازے کے ایک سِرے سے اندر آیا اور لوہے کی چٹخنی کو کاٹنے لگا۔

’افف اب کیا کروں‘، وہ شدید خوفزدہ ہوگیا۔

’ککککون ہے؟‘ اس نے تھوک نگل کر بہت آہستگی سے کہا تھا۔

ذرا دیر کے لیے بلیڈ رک گیا تھا۔ پھر کچھ کھسر پھسر ہوئی، شاید وہ 2 لوگ تھے۔ بلیڈ دوبارہ چلنے لگا۔

’کون ہو تم؟ کیا چاہتے ہو؟‘، وہ چلّایا لیکن بلیڈ بدستور چلتا رہا۔

اس نے کبھی اپنے پاس پستول نہ رکھا کہ اسے کبھی ایسی ضرورت محسوس نہ ہوئی تھی۔ اس نے تکیے کے نیچے سے موبائل نکالا اور پولیس کا نمبر ملانے لگا۔

دوسری طرف جیسے ہی کسی نے فون اٹھایا تو اس نے کہا۔

’جی میری مدد کیجیے، میرے گھر میں ڈاکو گھس آئے ہیں اور دروازہ کاٹ رہے ہیں۔ پتا نوٹ کیجیے، سعادت علی ،مکان نمبر 60‘۔

’مکان نمبر 60‘، دوسری طرف سے آواز آئی۔

’نہیں، 7، 7 کہہ رہا ہوں، پلیز جلدی آئیے، میں خطرے میں ہوں، دروازہ ٹوٹنے والا ہے‘۔

’پتا نوٹ کرلیا اے جی، گھنٹے تک گڈی آندی ہے تے فرتہاڈے ول آوندے ہاں‘، دوسری طرف موجود پولیس والے نے کہا تھا۔

’لیکن ڈاکو گھر میں گھس آئے ہیں‘، اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں فوراً کہا تھا۔

’بس انتظار کرو جی، گڈی تے آجاوے‘۔

اس نے غصے سے فون بند کیا اور دروازے کو گھورنے لگا۔

’تم جو کوئی بھی ہو چلے جاؤ یہاں سے، میں نے پولیس کو فون کردیا ہے، وہ پہنچتے ہی ہوں گے‘، اس نے کہا۔ بلیڈ رُکا، لیکن پھر زیادہ تیزی سے چلنے لگا۔ وہ چٹخنی کو کٹتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور سمجھ نہیں پارہا تھا کہ کیسے وہ انہیں روکے، پھر وہ کمرے میں کوئی ایسی چیز ڈھونڈنے لگا جس سے ڈاکوؤں پر حملہ کیا جاسکے لیکن اسی دوران دروازہ کھل گیا اور سامنے 2 نقاب پوش کھڑے تھے جن میں سے ایک کے ہاتھ میں پستول تھا۔

’دیکھو گولی مت چلانا۔ تم نے جو کچھ لینا ہے لے لو‘، اس نے ڈرتے ڈرتے کہا۔

پستول والا آدمی آگے بڑھا اور ایک زوردار گھونسا اس کے منہ پر رسید کیا۔

’بڑا ہوشیار بنتا ہے، پولیس بلاتا ہے؟‘، ڈاکو نے کہا۔

پھر وہ کمرے کی تلاشی لینے لگے، اس کا والٹ میز پر پڑا تھا، وہ اُٹھا لیا، اس کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا۔ یہ کون ہے؟ ڈاکو نے موبائل پر وال پیپر دیکھ کر پوچھا۔

اس کی آنکھیں خوف سے پھٹی جارہی تھیں اور اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

’بیوی ہے تیری؟‘، ڈاکو نے پوچھا۔

’نہیں۔‘

’معشوق ہے؟‘

’نہیں۔‘

’پھر کون ہے؟‘

’معلوم نہیں، بیوی نہیں ہے، معشوق بھی نہیں ہے، میں نہیں جانتا یہ کون ہے۔‘

’ہاں اس عمر میں اب تیری کیا معشوق ہوگی‘، ڈاکو نے یہ کہا تو اسے اپنے 17 سفید بال یاد آگئے۔

’استاد اور تو کچھ قیمتی سامان نہیں ملا اس کے مکان سے، بس 2، 4 ہی کام کی چیزیں ملی ہیں‘، دوسرے کمرے سے ڈاکو ہاتھ میں ایک تھیلا لیے آیا تھا۔

’چل نکل پھر یہاں سے’، پستول والے ڈاکو نے دوسرے سے کہا اور وہ دونوں تیزی سے کمرے سے نکل کر چھت کی سیڑھیاں چڑھنے لگے، جبکہ ابھی تک پولیس نہیں پہنچی تھی۔

وہ خوفزدہ ہوکر کمرے کی ایک ایک چیز دیکھنے لگا، سامنے دیوار پر نصب شیشے میں اس نے اپنے آپ کو دیکھا، بالکل ڈرا اور سہما ہوا آدمی جس کی آنکھوں میں آنسو تھے، اپنا چہرہ بھی اسے اجنبی محسوس ہورہا تھا۔ شیشے میں اپنے الجھے بالوں کی جانب نظر گئی تو اسے سارہ کی آخری بات یاد آگئی تھی۔

’اظہارِ محبت سے پہلے اپنی عمر اور سفید بال ہی دیکھ لیتے۔‘