روس سے چھٹکارا دلانے پر امریکا نے معافی کی پیشکش کی، جولین اسانج کے وکیل کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 20 فروری 2020

ای میل

جولین اسانج کو لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے گرفتار کیا گیا تھا — فوٹو: اے پی
جولین اسانج کو لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے گرفتار کیا گیا تھا — فوٹو: اے پی

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ہفتے حوالگی کی سماعت کے دوران دعویٰ کریں گے کہ 2016 کے امریکی انتخابی مہم کے دوران ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی (ڈی این سی) کے ای میل لیک کرنے میں روس کے ملوث نہ ہونے کے بیان دینے پر ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں معافی کی پیش کش کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق برطانوی جیل میں قید جولین اسانج کو جاسوسی کے الزام میں امریکا حوالگی کیس کا سامنا ہے جس کی فل کورٹ سماعت آئندہ ہفتے ہونی ہے۔

لندن میں ابتدائی سماعت کے دوران ان کے وکیل ایڈورڈ فٹز جیرالڈ کا کہنا تھا کہ سابق ریپبلکن کانگریس مین ڈانا روہرا باچر نے اگست 2017 میں ایکواڈیرین سفارتخانے میں جولین اسانج سے ملاقات کی تھی۔

انہوں نے جولین اسانج کے دوسرے وکیل جینیفر رابنسن کا بیان یاد دلایا جس میں کہا گیا تھا کہ 'ڈانا روہراباچر نے امریکی صدر کے احکامات کے پیش نظر جولین اسانج سے ملاقات کرنے جائیں گی اور وہ انہیں معافی دینے یا کیس سے باہر نکلنے پر کوئی پیشکش کا ارادہ رکھتی ہیں اگر جولیس اسانج کہیں کہ ڈی این سی لیکس میں روس ملوث نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ: وکی لیکس کے بانی جولین اسانج سفارتخانے سے گرفتار

وکیل کے دعوے پر رد عمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری اسٹیفنی گرشمان کا کہنا تھا کہ 'یہ بالکل جھوٹ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ ڈانا روہراباچر کو اس سے زیادہ نہیں جانتے ہیں کہ وہ سابق کانگریس مین ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے اس معاملے پر یا تقریباً کسی بھی معاملے پر کبھی بات تک نہیں، یہ بالکل من گھڑت اور جھوٹ ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ ڈی این سی کی شاید کبھی نہ ختم ہونے والی چال اور مکمل جھوٹ ہے'۔

واضح رہے کہ ڈیموکریٹس اور ہلری کلنٹن کی صدارتی مہم کے لیے شرمندگی کا باعث بننے والی ای میلز کو 2016 میں وکی لیکس کی جانب سے شائع کیے جانے سے قبل ہیک کیا گیا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے ڈانا روہراباچر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کبھی جولین اسانج کے بارے میں بات نہیں کی اور نہ ہی انہیں کوئی صدر یا ان سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد کی جانب سے جولین اسانج سے ملنے کے احکامات ملے تھے۔

انہوں نے وکی لیکس کے بانی سے اپنی ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ 'میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر وہ مجھے ڈی این سی ای میلز کے حوالے سے معلومات اور شواہد فراہم کریں گے تو میں صدر ٹرمپ سے ان کی معافی کی بات کروں گا، میں نے انہیں کسی معاہدے کی پیشکش نہیں کی اور نہ ہی کہا کہ میں صدر کی جانب سے آیا ہوں'۔

خیال رہے کہ امریکی استغاثہ نے 48 سالہ آسٹریلوی کمپیوٹر ہیکر پر وکی لیکس کی جانب سے ہزاروں سرکاری دستاویزات چوری کرنے پر جاسوسی کا الزام عائد کیا تھا۔

یہ الزام اگر ان پر ثابت ہوگیا تو انہیں 175 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

جولین اسانج کی قانونی جنگ کا مستقبل قریب میں خاتمہ نظر نہیں آتا۔

ان کے خلاف حوالگی کی سماعت کا آغاز پیر کو ہوگا جس کی پورے ہفتے سماعت ہوگی اور بعد ازاں اس پر سماعت مئی میں ہوگی جبکہ اس پر فیصلہ آنے کی کئی مہینوں تک امید نہیں جبکہ کیس ہارنے والے کے پاس اپیل کا بھی اختیار ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: وکی لیکس کے بانی کےخلاف ’ریپ کیس‘ کی تحقیقات ختم کرنے کا اعلان

واضح رہے کہ جولین اسانج کو گزشتہ سال اپریل کے مہینے میں 7 سال کی طویل سیاسی پناہ گزارنے کے بعد برطانیہ سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

جولین اسانج کو لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے گرفتار کیا گیا۔

واضح رہے کہ وکی لیکس کے بانی جنسی زیادتی کیس میں سوئڈن حوالگی سے بچنے کے لیے 7 سال سے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں مقیم تھے، تاہم ان کی سیاسی پناہ ختم کرنے کے اعلان پر انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔

48 سالہ جولین اسانج کا کہنا تھا کہ وکی لیکس کی سرگرمیوں کے لیے سوالات پر انہیں امریکا منتقل کیا جاسکتا ہے۔