سیاحوں کی بڑھتی تعداد سے پریشان شہر کے 'انوکھے منصوبے'

21 فروری 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے بہت زیادہ کوششیں کی جارہی ہیں مگر ایک یورپی شہر میں ہر سال اتنے لوگ آتے ہیں کہ وہاں کے رہائشی اس سے پریشان ہوگئے ہیں۔

نیدرلینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں سالانہ ایک کروڑ 90 لاکھ سیاح آتے ہیں اور یہ تعداد ایک دہائی میں 3 کروڑ کے قریب پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ وہاں کے رہائشیوں کی کل تعداد 10 لاکھ ہے، جو سیاحوں کی بھرمار سے زیادہ خوش نہیں۔

نہروں کے وسیع جال، انسٹاگرام کی تصاویر کے لیے بہترین گلیاں، پرانی سائیکلیں اور بہت کچھ ایمسٹرڈیم کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بناتا ہے۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ اکثر شہروں کے لیے تو سیاحت کا فروغ مثبت ہوتا ہے مگر ایمسٹرڈیم کے رہائشیوں کی پریشانی کو محسوس کرتے ہوئے نیدرلینڈ بورڈ آف ٹورازم اینڈ کنونشنز (این بی ٹی سی) نے 'نیا نظریہ' پیش کرتے ہوئے سیاحت کو فروغ کی بجائے سیاحوں کی تعداد کو مثبت چیزوں کے لیے استعمال کرنے کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی۔

اس کو مدنظر رکھتے ہوئے شہر کے حکام اب اپی توجہ ایسے سیاحوں پر دے ہیں جو نیدرلینڈ کے لیے کچھ اچھا کرسکیں اور اسی مقصد کے لیے کئی طرح کے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں جن میں سب سے نمایاں ان ٹورسٹ گائیڈ ٹو ایمسٹرڈیم نامی تحریک ہے جس کا مقصد سیاحوں کی بڑھتی تعداد کو شہر میں مثبت کاموں کے لیے استعمال کرنا ہے۔

ایلینا سائمنز اور ایلکو ہیمر نے اس تحریک کی بنیاد رکھی اور اس میں متعدد کاروباری ادارے، ہوٹل، میوزیم اور ٹور آپریٹرز شامل ہوچکے ہیں۔

اس تحریک کے تحت متعدد سرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ سیاحوں کو 'پرتفریح شراکت' کا موقع فراہم کیا جاسکے۔

اس کے علاوہ دیگر منصوبے اور کمپنیاں بھی سیاحت کی نئی قسم کی تشکیل میں مدد دے رہی ہیں اور وہاں چند چیزوں پر کام ہورہا ہے جو عجیب محسوس ہوتی ہیں مگر مقامی افراد کے خیال میں اس سے شہر کو ہی فائدہ ہوگا۔

ایمسٹرڈیم کے رہائشی سے ایک دن کی' شادی اور ہنی مون'

ان ٹورسٹ گائیڈ کی شراکت سے شروع ہونے والی یہ سرگرمی گزشتہ برس دنیا بھر میں شہہ سرخیوں کا حصہ بنی تھی۔

اس کے تحت سیاح کسی مقامی رہائشی سے ایک روایتی تقریب میں شادی کرسکیں گے یعنی انگوٹھیوں کا تبادلہ، وعدے اور عروسی ملبوسات وغیرہ۔

اس تقریب میں 35 منٹ لگیں گے جبکہ جوڑے اپنا 'ہنی مون' شہر کے ان حصوں کو دریافت کرتے ہوئے گزاریں گے جو زیادہ معروف نہیں۔

بنیادی طور پر یہ شادی قانونی نہیں بلکہ علامتی ہوگی اور اس تحریک کے آرگنائزر کا کہنا تھا کہ یہ یہاں آنے والے کے لیے کسی مقامی فرد سے بامقصد رابطے کا ایک موقع ہوگا۔

ان تقاریب کا انعقاد کرنے والے ادارے ویڈ اینڈ وال کی بانی جونا رینز کا کہنا تھا کہ سیاحوں کو یہ تجربہ بہت پسند آیا، جس کا مقصد سیاحوں اور مقامی افراد کے درمیان پل تعمیر کرنا ہے، جب وہ ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں تو یہ تفریح سے بھرپور ہوتا ہے، جبکہ ہم سیاحوں کو کچھ کرنے کا موقع بھی دینا چاہتے ہیں۔

کینالز کا منفرد دورہ

ایمسٹرڈیم میں سیاح نہروں کی سیر کے لیے ہی جاتے ہیں اور یہ بھی اسی کا حصہ ہے مگر کچھ مختلف انداز سے، کیونکہ اس میں ایسی کشتی میں سفر کرایا جاتا ہے جو ایک سابق تارک وطن کی کشتی ہوتی ہے جسے ایک تارک وطن ہی چلاتا ہے، اس ٹور میں نیدرلینڈ میں باہر سے آکر بسنے والوں کی تاریخ اور اثر پر توجہ دی جاتی ہے۔

اپ سائیکل اسٹور

بیکار اشیا کو کسی کارآمد چیز میں بدلنا اس پروگرام کا مقصد ہے جیسے سائیکل کے پہیوں کو بیلٹ اور بالیوں میں بدلنا، پلاسٹک بیگ سے نوٹ بکس بنایا وغیرہ۔ تفریح اور تخلیقی صلاحیت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اس کا مقصد سیاحوں کو ماحولیاتی مسائل کے بارے میں تعلیم اور معلومات فراہم کرنا ہے۔

پلاسٹک وہیل

اس منصوبے کے تحت نہروں میں شکار کے لیے جانا ہوتا ہے مگر مچھلی جگہ پلاسٹک کا شکار۔ جال سے لیس سیاحوں اور مقامی افراد کشی میں سفر کرتے ہوئے پانی میں موجود پلاسٹک نظر آنے پر اسے نکال لیتے ہیں، اس پلاسٹک کو آف فرنیچر اور مزید کشتیوں کی تیاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔

ٹریش ہیرو ایمسٹرڈیم

گلوبل ٹریش ہیرو نامی نیٹ ورک کی ایمسٹرڈیم شاخ کی جانب سے ہر ہفتے شہر کی صفائی کا کام کیا جاتا ہے جس میں مقامی افراد کے ساتھ سیاحوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے، تاکہ وہ آپس میں گھلنے ملنے کے ساتھ کام بھی کرسکیں۔ اس کا مقصد ماحولیاتی اثرات سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔