افغانستان: گزشتہ 10 برس میں ایک لاکھ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، اقوام متحدہ

اپ ڈیٹ 22 فروری 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق پچھلے برس 3 ہزار 493 شہری ہلاک اور 6 ہزار 989 زخمی ہوگئے تھے—فائل فوٹو: اے پی
رپورٹ کے مطابق پچھلے برس 3 ہزار 493 شہری ہلاک اور 6 ہزار 989 زخمی ہوگئے تھے—فائل فوٹو: اے پی

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں گزشتہ 10 برس کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں کوئی ایسا افغان باشندہ نہیں جو کسی نہ کسی سطح پر تشدد یا اس کے اثرات سے بچ سکا ہو۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں رواں برس شہری ہلاکتوں میں 3 گُنا اضافہ، رپورٹ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندہ تادامیچی یاماموتو نے کہا کہ تمام فریقین کے لیے لڑائی روکنا اور شہریوں کی جانوں کا تحفظ بہت ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق پچھلے برس 3 ہزار 493 شہری ہلاک اور 6 ہزار 989 زخمی ہوگئے تھے۔

اقوام متحدہ کے مطابق داعش کے حملوں کے مقابلے میں طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز اور ان کے امریکی اتحادیوں کے ہاتھوں زیادہ شہری ہلاک ہوئے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان کے ہاتھوں شہری ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

علاوہ ازیں افغان سیکیورٹی فورسز اور ان کے امریکی اتحادیوں کے ہاتھوں ہلاکتوں میں 18 فیصد اضافہ ہوا۔

اقوام متحدہ نے انکشاف کیا کہ امریکا نے 2013 کے بعد سے گزشتہ برس سب سے زیادہ بم گرائے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: بارودی سرنگ کے دھماکے میں 9 بچے ہلاک

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے جب امریکا اور طالبان کے مابین عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے جس کے تحت اگلے 7 روز تک طالبان پرتشدد کارروائیوں میں غیر معمولی کمی لائیں گے۔

اس پر افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان اور امریکا کے مابین پرتشدد کارروائیوں میں کمی کے منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ 'اگر طالبان نے منصوبے کی پاسداری نہیں کی تو افغان سیکیورٹی فورسز ملک کا دفاع کرنے کے لیے جوابی کارروائی کا حق رکھتے ہیں'۔

جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات کو سرکاری میڈیا سے خطاب کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ طالبان کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں میں کمی کا اقدام پائیدار امن کی بحالی کی طرف ایک نمایاں اور اہم قدم ہے تاہم منصوبے کے دوران ہمیں بہت محتاط رہنا ہوگا۔

خیال ہے کہ پرتشدد کارروائیوں میں کمی کے منصوبے کی کامیابی کے بعد دوحہ میں دونوں فریقین کے مابین 18 ماہ کے لیے افغان امن عمل معاہدے پر دستخط ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: مشرقی افغانستان میں 2 بم دھماکے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک

علاوہ ازیں چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سمیت سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی پرتشدد کارروائیوں میں کمی کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔

چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے ٹوئٹ میں کہا کہ 'میں امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے اس اعلان کا خیرمقدم کرتا ہوں جس میں انہوں نے کہا کہ پرتشدد کارروائیوں میں کمی کے منصوبے پر مکمل عملدرآمد کے بعد 29 فروری کو افغان امن عمل سے متعلق معاہدے پر دستخط ہوں گے'۔

سابق صدر حامد کرزئی نے ٹوئٹ میں کہا کہ امریکا اور طالبان کے مابین امن معاہدے پر دستخط کے لیے تاریخ کا اعلان خوشخبری ہے۔