کیا فاسٹ چارجنگ سے بیٹری کو نقصان تو نہیں پہنچتا؟

24 فروری 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کسی اسمارٹ فون کی بیٹری کا دورانیہ ان ڈیوائسز کا سب سے زیادہ ذہن کو متاثر کرنے والا حصہ ہوتا ہے۔

کیونکہ اکثر بیٹری پورا دن بھی کام نہیں کرتی اور شام کے وقت فون کو دوبارہ چارج پر لگانا پڑتا ہے۔

مگر آج کل بیشتر فونز کے ساتھ فاسٹ چارجنگ کا فیچر دیا جاتا ہے جس کا مقصد بیٹری کو روزمرہ کی مصروفیات کے دوران تیزی سے چارج کرنے میں مدد دینا ہوتا ہے۔

مختلف کمپنیوں کے اس حوالے سے مختلف واٹ کے چارجر دستیاب ہیں۔

اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ فاسٹ چارجنگ سے بیٹری کو زیادہ کرنٹ ملتا ہے تاکہ وہ جلد بھر سکے۔

ایک عام چارجر 5 سے 10 واٹ آﺅٹ پٹ فراہم کرتا ہے جبکہ فاسٹ چارجر 8 گنا زیادہ کرنٹ فراہم کرسکتا ہے۔

جیسے ہواوے کا 10 واٹ/ 4A سپر چارج سے 40 واٹ کرنٹ ملتا ہے جبکہ کچھ کمپنیاں تو اس ٹیکنالوجی کو سو واٹ تک بڑھانے پر بھی کام کررہی ہیں، بنیادی طور پر تمام فاسٹ چارجنگ سروسز کا ایک مقصد ہے زیادہ پاور کم وقت میں فراہم کرنا۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا فاسٹ چارجنگ بیٹری کی زندگی کو کم کرنے کا باعث تو نہیں بنتی ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر بیٹری یا چارجر الیکٹرونکس میں کوئی تیکنیکی مسئلہ نہ ہو تو فاسٹ چارجر کا استعمال طویل المعیاد بنیادوں پر فون بیٹری کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

فاسٹ چارجنگ بیٹریاں 2 مراحل میں کام کرتی ہیں، پہلے مرحلے میں خالی یا لگ بھگ خالی بیٹری کو زیادہ مقدار میں وولٹیج ملتی ہے یعنی اولین 10، 15 یا 30 منٹ میں بیٹری 50 سے 70 فیصد تک چارج ہوجاتی ہے، اس مرحلے میں بیٹریاں چارج کو کسی منفی اثر کے بغیر تیزی سےس جذب کرتی ہیں۔

مگر دوسرے مرحلے میں باقی 20 سے 30 فیصد بیٹری کے بھرنے کا عمل سست ہوجاتا ہے اور احتیاط سے چارجنگ اسپیڈ کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آپ بیٹری کو اسفنج سمجھ لیں تو پہلی بار خشک اسفنج پر پانی ڈالا جاتا ہے تو وہ پانی کو تیزی سے جذب کرلیتا ہے، بیٹری کے لیے یہ فاسٹ چارجنگ کا مرحلہ ہوتا ہے۔

مگر پانی کو مسلسل ڈالا جائے تو گیلا اسفنج سے پانی سطح سے باہر نکلنے لگتا ہے اور بیٹری میں یہ جذب نہ ہونے والا چارج طویل المعیاد بنیادوں پر بیٹری کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

تاہم یہ نقصان اس وقت نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے جب فون کے اندر سب کچھ اچھے طریقے سے ہینڈل کیا جائے۔

بیٹری منیجمنٹ سسٹم چارج کے ان 2 مراحل کو باریک بینی سے مانیٹر کرتا ہے اور دوسرے مرحلے میں چارجنگ اسپیڈ کو کم کرکے بیٹری کو کرنٹ جذب کرنے کا وقت فراہم کرتا ہے اور مسائل سے بچاتا ہے۔

یی وجہ ہے کہ آخر میں چند فیصد بیٹری کو مکمل چارج کرنے کے لیے تھوڑا زیادہ وقت لگتا ہے۔