پیپلز پارٹی کی چیف الیکشن کمشنر سے آئی جی سندھ کیخلاف کارروائی کی درخواست

اپ ڈیٹ 26 فروری 2020

ای میل

الیکشن کمیشن نے صوبائی نشست پر 17 مارچ کو ضمنی انتخاب کروانے کا اعلان کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
الیکشن کمیشن نے صوبائی نشست پر 17 مارچ کو ضمنی انتخاب کروانے کا اعلان کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے عمر کوٹ میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب کے تناظر میں انسپکٹرجنرل پولیس (آئی جی پی) سید کلیم امام کے خلاف کارروائی کے لیے چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی) سکندر راجا سلطان سے رجوع کرلیا۔

پی پی پی نے چیف الیکشن کمشنر سے درخواست کی کہ آئی جی سندھ کی مبینہ بے ضابطگی پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں ’جانبدار ہونے سے روکا جائے‘۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ درخواست پی پی پی کے مرکزی الیکشن سیل کے سربراہ اور سابق سینیٹر تاج حیدر نے سی ای سی کے نام ارسال کردہ ایک خط میں کی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ کابینہ نے آئی جی کلیم امام کی خدمات وفاق کو واپس دینے کی منظوری دیدی

واضح رہے کہ اس سے 5 روز قبل آئی جی سندھ نے الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) سے رابطے کے ذریعے عمر کوٹ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) اور ڈپٹی کمشنر کے تبادلوں کی استدعا کی تھی۔

تاہم اپنے خط میں تاج حیدر نے چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کیا کہ آئی جی سندھ نے الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 5(4) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ’متنازع خط‘ لکھا۔

خیال رہے کہ پی ایس-52 عمر کوٹ کی نشست پی پی پی کے رکن صوبائی اسمبلی سید مردان شاہ کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھی جو وہاں سے 5 مرتبہ منتخب ہوئے تھے۔

اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے مذکورہ صوبائی نشست پر 17 مارچ کو ضمنی انتخاب کروانے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: 'آئی جی سندھ کا تبادلہ بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کی تیاری ہے'

میڈیا کو جاری کردہ خط کی نقل کے مطابق تاج حیدر نے کہا کہ ’توقع کے مطابق سرکاری حکام کو قانونی شرائط کی معلومات ہوتی ہیں جن کا اکثر سرِ عام تذکرہ کیا جاتا ہے، بدقسمتی سے آئی جی سندھ نے مذکورہ بالا ضلعی افسران کی غیر جانبداری پر شک و شبے کا اظہار کر کے اپنی جانبداری عیاں کردی ہے جو ایک اعلیٰ عہدیدار کے لیے مناسب نہیں‘۔

تاج حیدر نے چیف الیکشن کمشنر سے درخواست کی کہ ’بے ضابطگی کے مرتکب عہدیدار کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں ہدایات دی جائے کہ وہ غیرجانبدار کردار ادا کر کے اپنے عہدے کا وقار ملحوظ رکھیں‘۔

خیال رہے کہ 19 فروری کو الیکشن کمیشن نے سندھ کے چیف سیکریٹری اور آئی جی سندھ کو عمر کوٹ کے ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کو عہدے سے ہٹانے/تبادلے کے لیے خط لکھا تھا۔

جس کے جواب میں 20 فروری کو آئی جی سندھ نے کہا تھا کہ وہ پہلے ہی موجودہ ایس ایس پی کی ’بے ضابطگی‘ کی رپورٹ حکومت سندھ کو بھجواچکے ہیں، جن پر غلفت، غیر پیشہ ورانہ رویے اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کا الزام ہے کیوں کہ ’ان کے اقدامات متعصب اور جانبدارانہ ہیں‘۔

مزید پڑھیں: وفاق کا حکومت سندھ کی درخواست پر آئی جی کلیم امام کو فوری ہٹانے سے انکار

آئی جی پی کے الیکشن کمیشن کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا تھا کہ ’اُن کے غلط افعال کی رپورٹس اور ضلع میں ان کی مسلسل پوسٹنگ کے پس منظر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مناسب ہوگا کہ انہیں غیر متنازع ڈسٹرک سپرنٹنڈٹ سے تبدیل کردیا جائے‘۔

اس سے قبل آئی جی سندھ کلیم امام کو گزشتہ ہفتے اس وقت پی پی پی کی جانب سے برہمی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے صوبائی وزیر تیمور تالپور کے ساتھ کھلی کچہری میں سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد کی موجودگی کا نوٹس لیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق آئی جی سندھ نے کراچی پولیس چیف سے اس واقعے کی تحقیقات کرنے اور اس کی روشنی میں قانونی کارروائی کرنے کے ساتھ تفصیلی رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

دوسری جانب تیمور تالپور نے کہا تھا کہ انہوں نے ضلع جنوبی میں سیکیورٹی کے لیے نجی گارڈز کی خدمات حاصل کی تھیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گارڈز کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ تھا اور اس سلسلے میں پاکستان کرمنل پروسیجر کی دفعہ 144 کے تحت باقاعدہ اجازت لی گئی تھی‘۔

آئی جی سندھ، پی پی پی تنازع

خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے آئی جی سندھ سید کلیم امام کےساتھ اختلافات کھل کر گزشتہ ماہ سامنے آئے تھے اور اس تناظر میں 15 جنوری کو سندھ کابینہ نے آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی خدمات وفاق کو واپس دینے کی منظوری دی تھی۔

سندھ حکومت نے آئی جی سندھ پولیس کلیم امام سے ان کا عہدہ واپس لینے اور ان کی جگہ دوسرا آئی جی پولیس لانے کے لیے وفاقی حکومت کو 3 نام بھی تجویز کیے تھے۔

بعدازاں 27 جنوری کو عمران خان نے دورہِ کراچی کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کی آئی جی کلیم امام کی تبدیلی کے لیے کی گئی درخواست پر 'مثبت اشارہ' دیا تھا۔

تاہم ایک روز بعد ہی کابینہ اجلاس میں آئی جی سندھ کی تبدیلی کا معاملہ پیش کیا گیا تو کابینہ نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کلیم امام کو عہدے سے ہٹانے سے انکار کردیا تھا۔