ایک خاتون نے امریکی خلائی مشنز کو کس طرح کامیاب کروایا؟

27 فروری 2020

ای میل

فوٹو: ٹوئٹر
فوٹو: ٹوئٹر

آئیے آج آپ کو امریکا سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی باہمت اور بہادر خاتون سے ملواتے ہیں جنہوں نے 1950 کے عشرے میں متعدد امریکی خلائی مشنوں کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

فلائٹ ٹراجیکٹری کے لیے (وہ راستہ جسے اختیار کرتے ہوئے راکٹ خلا میں جاتا اور واپس آتا ہے جس کا براہ راست تعلق راکٹ کی رفتار سے ہوتا ہے) ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار نے پہلے امریکی خلاباز ایلن شیفرڈ کے کامیاب خلائی سفر کو ممکن بنایا، خلاباز جان گلین کے زمین کے گرد مدار میں تین دفعہ چکر لگا کر باحفاظت زمین پر واپسی کے لیے بلکل درست اعداد وشمار فراہم کیے اور انہوں نے نیل آرم اسٹرانگ کی تاریخی چاند کے مشن کی کامیابی میں بھی بنیادی کردار ادا کیا تھا۔

جی ہاں، میں مایہ ناز ماہر ریاضی اور سائنسدان کیتھرائن جانسن کی بات کر رہی ہوں جن کا انتقال 24 فروری 2020 کو 101 برس کی عمر میں ہوا اور جنہیں حال ہی میں دنیا کی ان سات نامور ترین خواتین میں شامل کیا گیا تھا جنہوں نے سائنس کی مختلف فیلڈز میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

مزید پڑھیں: سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم کردار ادا کرنے والی پاکستانی خواتین

کیتھرائن جانسن 1918 کو ویسٹ ورجینیا میں پیدا ہوئیں اور وہ نسلاً افریقی – امریکی تھیں۔ جس دور میں وہ پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم حاصل کی اس وقت امریکا میں مقیم سیاہ فام افراد کو رنگ و نسل کے حوالے سے شدید تعصبیانہ رویوں کا سامنا تھا۔ یہاں تک کہ جس پبلک اسکول میں انہوں نے تعلیم حاصل کی وہاں آٹھویں کلاس کے بعد افریقی بچوں کا تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ مگر ریاضی میں ابتدا ہی سے غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل کیتھرائن جانسن نے اس نسلی تعاصب کو ابتدا ہی سے ایک چیلنج کے طور پر لیا اور وہ اس دور کے ان کلیدی افراد میں شمار کی جاتی ہیں جنہوں نے امریکا میں سیاہ فاموں کے خلاف تعصبانہ رویوں کی دیواریں گرانے میں اہم کر دار ادا کیا۔ وہ ریاضی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والی تیسری امریکی سیاہ فام خاتون تھیں۔

امریکی خلائی پروگرام میں کیتھرائن جانسن کا کردار

کیتھرائن جانسن نے جس دور میں لینگ لے میموریل لیبارٹری کو باحیثیت ماہرِ ریاضیات جوائن کیا اس دور میں امریکا اور روس کے درمیان خلائی جنگ زوروں پر تھی اور دونوں ممالک ایک دوسرے کو پچھاڑنے اور چاند پر پہنچنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے تھے۔

اگرچہ کیتھرائن جانسن کا کام وہاں جہازوں کے بلیک باکسز سے ڈیٹا حاصل کر کے ان کی فلائٹ سے متعلق معلومات اور حساب و کتاب کرنا تھا، مگر اپنے ایک ساتھی کی فلائٹ ریسرچ کے اعداد و شمار میں مدد کرنے کے بعد اعلیٰ حکام کو ان کی ریاضی میں غیر معمولی صلاحیتوں کا اندازہ ہوا۔

یہ وہ دور تھا جب آج کی طرح پیچیدہ کیلکولیشن کے لیے کمپیوٹرز دستیاب نہیں تھے اور جو افراد یہ کام کیا کرتے تھے انہیں 'انسانی کمپیوٹر' کہا جاتا تھا۔ کیتھرائن جانسن کی ریاضی اور خاص طور پر تجزیاتی جیومیٹری میں اعلیٰ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ناسا کے ماہرین نے انہیں ایسی میٹنگز میں شامل کیا جن میں مقامی امریکی (سفید فام ) خواتین کو بھی شمولیت کی اجازت نہیں تھی مگر کیتھرائن جانسن ہر آزمائش پر پوری اتریں اور ایلن شیفرڈ، جان گلین اور پھر نیل آرم سٹرانگ کے تاریخی چاند پر پہلے قدم والے مشن کے لیے بلکل درست اعداد و شمار فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: سائنس کے میدان میں نمایاں خدمات دینے والی 7 خواتین

آج ہم ایک ٹیکنالوجیکل دور میں جی رہے ہیں جہاں نئی نسل اپنی پاکٹ منی بھی موبائل کیلکولیٹر سے جمع تفریق کرتی ہے مگر 1960 کے عشرے میں ناسا نے خلائی مشن کی ٹراجیکٹری کے اعداد و شمار کے لیے جب الیکٹرانک کمپیوٹر کا استعمال شروع کیا تب انسانی صلاحیتوں کو کمپیوٹر پر برتری حاصل تھی اور یہ اعداد و شمار کیتھرائن جانسن سے تصدیق کروائے جاتے تھے۔ یہاں تک کے خلاباز جان گلین نے ایک موقع پر مؤقف اختیار کیا کہ جب تک کیتھرائن جانسن اس مشن کے اعدادو شمار کی تصدیق نہیں کرتیں وہ مشن پر روانہ نہیں ہوں گے۔ کیتھرائن جانسن نے اپولو 13 میں مشن کریو کی مدد کرتے ہوئے انہیں اسپیس شٹل کی ٹراجیکٹری کے بلکل درست اعداد شمار بھیجے حالانکہ ناسا کے حکام اس مشن کے کریو کی با حفاظت زمین پر واپسی کے حوالے سے تقریباً مایوس ہو چکے تھے۔

کیتھرائن جانسن کی سیاہ فام امریکی شہریوں کے حقوق کے لیے جنگ:

کیتھرائن جانسن نے جب 1958 میں لینگ لے فلائٹ ریسرچ ڈویژن میں کام کا آغاز کیا تو اس وقت وہاں ان کے علاوہ پورا اسٹاف سفید فام مردوں پر مشتمل تھا جو نہ صرف سیاہ فام امریکیوں کے لیے انتہائی تعصب رکھتے تھے بلکہ زیادہ تر کی سوچ یہ تھی کہ خواتین خلائی مشن سے متعلق تحقیق کے کام سر انجام دے ہی نہیں سکتیں۔ شاید اسی لیے اس آفس کو 'کلرڈ کمپیوٹرز' کا نام دیا گیا تھا جہاں کیتھرائن جانسن کے کھانے پینے کے برتن تک الگ تھے اور انہیں باتھ روم استعمال کر نے کی اجازت بھی نہیں تھی اور رفاع حاجت کے لیے انہیں دن میں کئی بار ایک کلومیٹر دور سیاہ فاموں کے واش روم جانا پڑتا تھا۔

اس شدید تعصبانہ ماحول میں یہ بہادر خاتون اپنی اعلی ٰ صلاحیتوں سے ناصرف جگہ بنانے میں کامیاب ہوئیں بلکہ انہوں نے سیاہ فام خواتین کے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور اپنے آفس میں 'کلرڈ کمپیوٹرز' کی تختی تڑوانے میں کامیاب ہوگئیں۔ اگرچہ اس کا سہرا مکمل طور پر کیتھرائن جانسن کے سر نہیں جاتا بلکہ لینگ لے لیبارٹریز میں ان کی سابق سیاہ فام باس ڈوروتھی ووگن نے بھی وہاں کام کرنے والی سیاہ فام خواتین کے خلاف معتصبانہ رویوں کو چیلنج کر نے میں ان کی معاونت کی۔

ہڈن فیگرز کا کیتھرائن جانسن کی مقبولیت میں کردار

اپولو 11 سمیت متعدد امریکی خلائی مشنوں کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرنے والی کیتھرائن جانسن 2013 تک گمنام تھیں۔ ان کا نام پہلی دفعہ عالمی میڈیا میں اس وقت آیا جب 2013 میں مارگریٹ شٹر لی کا ناول 'ہڈن فیگرز' منظر عام پر آیا.

یہ کتاب لینگ لے ریسرچ سینٹر ناسا میں خدمات سرانجام دینے والی تین سیاہ فام خواتین 'ہیومن کمپیوٹرز' کیتھرائن جانسن ، ڈوروتھی وو گن اور میری جیکسن کی جدوجہد کی داستان ہے، ان تین ریاضی دانوں نے اس دور میں سیاں فام ناسا جیسے معیاری تحقیقی ادارے میں بھی جگہ بنانے کے لیے سیاہ فام افراد خصوصاً خواتین کو بےپناہ مصائب و مشکلات کا سامنا تھا۔ مگر کیتھرائن جانسن کو اصل شہرت جنوری 2017 میں ریلیز ہونے والی اس نام کی فلم 'ہڈن فیگرز' سے حاصل ہوئی جس کے ڈائریکٹر تھیوڈور میلفی تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی خواتین کو ’ہڈن فگرز‘ جیسی فلمیں کیوں دیکھنی چاہئیں؟

اس فلم نے آسکر ایوارڈ کی 3 نامزدگیاں حاصل کرنے کے علاوہ 2017 کی ٹاپ ٹین فلموں میں شامل ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا اور دو گولڈن گلوب اور اسکرین گلڈ ایوارڈ بھی حاصل کیے، اس فلم کی کہانی ان 3 خواتین کی جدوجہد کے گرد گھومتی ہے، ایک جانب ڈوروتھی واگن کو ناسا میں مستقل سپر وائزر کی پوسٹ کے لیے اپنے سینئر آفیسرز کی مخالفت کا سامنا تھا، تو دوسری جانب کیتھرائن جانسن مرکزی منصوبے کے انجینئرز کے ساتھ ایسے ماحول میں کام کرنے پر مجبور تھیں جہاں اسے نہ باتھ روم کی سہولت حاصل تھی، نہ کھل کر بات کرنے کی، حتیٰ کے اچھوتوں کی طرح اس کے کافی کے برتن بھی الگ کر دیئے گئے تھے۔جبکہ اسپیس شٹل اور کیپسول کی تیاری میں انجینئر کے طور پر کام کرنے والی میری جیکسن کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے باقاعدہ قانونی جنگ لڑنا پڑی، مگر ابتدائی ناکامیوں، شدید رکاوٹوں اور ہتک آمیز رویوں نے ان کی ہمت پست کرنے کے بجائے، انہیں اپنے جائز حقوق کی جنگ لڑنے کا نیا حوصلہ عطا کیا۔

کیتھرائن جانسن کی خدمات:

چونکہ پاکستان میں عام افراد خلائی مشن کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں رکھتے لہذا بہت سے لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہوں گے کہ کیتھرائن جانسن کی جانب سے کیے جانے والے حساب و کتاب کو اتنی اہمیت کیون دی جاتی ہے؟ اس کا اندازہ مجھے پچھلے سال بھارت کے چاند کی تاریک سطح کی جانب بھیجے جانے والے مشن کی ناکامی سے بھی ہوا اور عوام و خواص یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ مشن کی لینڈنگ کی آخری لمحات انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

جب کسی راکٹ کو خلا میں بھیجا جاتا ہے تو پہلے مکمل تحقیق کرکے اس کے راستے کا ایک باقاعدہ فلائٹ چارٹ بنایا جاتا ہے جس کا براہ راست تعلق راکٹ کی رفتار سے ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ سیدھے راستے کے بجائے نصف دائرہ یا پیرا بولک راستے پر سفر کرنا ہے اور بلندی کے ساتھ مسلسل اس کے اسراع یا گردشی اثر میں اضافہ ہونے لگتا ہے جبکہ واپسی پر یہ صورتحال الٹی ہوتی ہے۔

زمین کے مدار میں داخلے یا اس سے باہر نکلتے وقت اس کی رفتار، چاند کے مدار میں داخلے اور اس کی سطح پر لینڈنگ کے وقت پر لمحہ رفتار میں کمی کے لیے باقاعدہ تحقیق کے ساتھ مکمل چارٹ بنایا جاتا ہے اور اس میں ذرا سی کمی بیشی سے مشن آخری مراحل میں ناکام ہو سکتا ہے جیسے کہ انڈیا کے وکرم لینڈر کے ساتھ ہوا جو دھڑام سے چاند کی سطح سے ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔

1950 اور 1960 کے عشرے میں آج کی طرح جدید ٹیکنالوجی دستیاب نہیں تھی جن کے ذریعے کمپیوٹر سائیمیولیشن یا ٹراجیکٹری بنائی جاسکے، لہذا امریکا کے متعدد ابتدائی خلائی مشن ناکامی کا شکار ہوئے اور روس سے سخت مسابقت کے باعث ناسا کے ماہرین شدید دباؤ کا شکار تھے مگر ان کی مشکل کیتھرائن جانسن نے آسان کی جو تجزیاتی جیومیٹری میں غیر معمولی مہارت رکھتی تھیں اور خلائی گاڑی کی ٹراجیکٹری اور رفتار سے متعلق ہر مشن کے لیے انہوں نے جو اعداد و شمار فراہم کیے وہ ہمیشہ درست ثابت ہوئے اور انہی کی سرکردگی میں ناسا نے ان کیلکیولیشن کے لیے باقاعدہ کمپیوٹر کا استعمال شروع کیا۔

ان معلومات سے یقیناً عام افراد کو اندازہ ہوا ہوگا کہ خلائی مشن کو ڈیزائن کرنا یقیناً اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا ہمارے سیاستدان اپنے بیانات میں ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستانی حکومت گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے خلائی مشن کے حوالے سے بیانات جاری کرتی رہی ہے اور وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی 2022 تک پہلا خلا باز خلا میں بھیجنے اور ان کی بھرتی اور تربیتی پروگرام کے حوالے سے ٹوئٹ بھی کرتے رہے ہیں۔

اگرچہ میڈیا یہ خبریں تو ضرور لگاتا ہے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کو اس حوالے سے معلومات فراہم کرنا نہ تو حکومت کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی میڈیا سمجھتا ہے کہ اسے خلائی مشن کی اہمیت کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنا چاہئے۔ موجودہ دور میں خلائی مشن یا خلاباز کو خلا میں بھیجنا کوئی نئی بات نہیں رہی مگر اس مشن کو اس طرح ڈیزائن کرنا ضروری ہے کہ محض خلا میں پہنچنے کا دعویٰ ہی نہیں کیا جائے بلکہ یہ مشن ملک کی معیشت میں بہتری لانے اور سائنسی تحقیق میں بھی مددگار ثابت ہو۔ جس کے لیے کیتھرائن جانسن جیسی بہت اعلیٰ صلاحیتوں کی حامل ٹیم کے علاوہ بڑے پیمانے پر تحقیق اور ماہرین کی ضرورت ہوگی جو اس مشن کی بھرپور پلاننگ کرسکیں۔

مگر ہم امید رکھتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی اس جانب توجہ دی جائے گی اور ہم ایک ایسا انسان بردار خلائی مشن ڈیزائن کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جو نہ صرف پوری طرح کامیاب ثابت ہوگا بلکہ اربوں کھربوں کے قرضوں کے بوجھ تلے دبی ملکی معیشت کے لیے سودمند بھی ثابت ہوگا۔


صادقہ خان کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہیں اور نیشنل سائنس ایوارڈ یافتہ سائنس رائٹر ، بلاگر اور دو سائنسی کتب کی مصنفہ ہیں۔ صادقہ [آن لائن ڈیجیٹل سائنس میگزین سائنٹیا][6] کی بانی اور ایڈیٹر بھی ہیں۔ ۔ ڈان نیوز پر سائنس اور اسپیس بیسڈ ایسٹرا نامی کے آرٹیکلز/بلاگز لکھتی ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں [[email protected]][7]