لاہور کراچی بھائی بھائی، دونوں نے ہارنے کی قسم کھائی

اپ ڈیٹ 03 مارچ 2020

ای میل

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پانچویں ایڈیشن کے مقابلے پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہیں۔ پاکستان سپر لیگ میں اب تک ملتان میں کھیلے گئے میچوں میں جس انداز سے شائقین نے ملتان کی پذیرائی کی ہے وہ یقیناََ قابلِ دید ہے اور شاید یہ شائقین کی طرف سے ملنے والی داد و تحسین کا نتیجہ ہی ہے کہ ملتان کی ٹیم اس میدان پر اپنے دونوں میچ باآسانی جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔

اب تک اس ٹورنامنٹ میں کراچی اور لاہور کی ٹیموں کی کارکردگی روایتی طور پر خاصی غیر معیاری رہی ہے اور پوائنٹس ٹیبل پر یہ دونوں ٹیمیں بالترتیب پانچویں اور چھٹی پوزیشن پر موجود ہیں، یعنی ہمیشہ کی طرح اس میں کچھ فرق نہیں آیا۔

جمعے کو اس لیگ میں 2 میچ کھیلے گئے۔ پہلا میچ ملتان کے میدان میں کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کے درمیان کھیلا گیا۔ اس میچ میں ملتان نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 186 رنز بنائے۔ ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز کی ٹیم 17ویں اوور میں صرف 134 رنز بنا کر ہی آؤٹ ہوگئی۔ یوں ملتان نے یہ میچ باآسانی 52 رنز سے جیت لیا۔ اس میچ کے کچھ اہم لمحات اور نکات پیشِ خدمت ہیں

کراچی کنگز بمقابلہ ملتان سلطانز


کراچی کنگز کی ناقص فیلڈنگ

کرکٹ کے کھیل میں ایک کہاوت ہے Catches win Matches اور یہ بات متعدد مرتبہ درست ثابت ہوچکی ہے۔ ایسا بار بار ہوا ہے کہ ایک ٹیم نے جس مخالف کھلاڑی کا کیچ چھوڑا اسی کھلاڑی نے میچ وننگ اننگز کھیل لی۔ اس میچ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

ملتان کی اننگز کا پہلا اوور مایہ ناز باؤلر محمد عامر کروا رہے تھے۔ اس اوور کی پانچویں گیند پر شرجیل خان نے معین علی کا ایک آسان کیچ اس وقت چھوڑا جب معین نے اپنا کھاتہ بھی نہیں کھولا تھا۔ پھر 9ویں اوور میں کیمرون ڈیلپورٹ کی گیند پر الیکس ہیلز نے ایک مرتبہ پھر معین علی کا آسان ترین کیچ چھوڑ دیا۔

ملتان کا پچھلے میچوں میں بڑا مسئلہ یہ رہا تھا کہ اسے اچھا آغاز نہیں مل پارہا تھا، لیکن کراچی کنگز کے فیلڈرز نے متعدد کیچ چھوڑ کر ملتان کو دوسری وکٹ کے لیے برق رفتار 71 رنز کی شراکت قائم کرنے کا موقع فراہم کیا اور یوں ملتان ایک ایسے ہدف تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا جو میچ جیتنے کے لیے کافی تھا۔

ملتان سلطانز کا بیٹنگ آرڈر

اگرچہ ملتان کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر پہلے نمبر پر تو آگئی، مگر آج اپنے چوتھے میچ میں بھی وہ درست بیٹنگ کمبی نیشن کی تلاش میں نظر آئی۔ ذیشان اشرف نے مشکل حالات میں نچلے نمبروں پر اسلام آباد یونائیٹڈ کیخلاف ایک شاندار اننگ کھیلی تھی اور اس اننگ کا انعام ان کو یہ ملا کہ ان کو نیچے کے نمبروں سے اٹھا کر اوپننگ کی ذمہ داری دے دی گئی، جو ان کی اصل جگہ بھی رہی ہے۔

ذیشان اشرف نے اب تک پی ایس ایل میں اچھی وکٹ کیپنگ کے ساتھ ساتھ متاثر کن بیٹنگ بھی کی ہے۔ قومی ٹیم کو ٹی20 فارمیٹ میں ایک وکٹ کیپر کی تلاش ہے اور ذیشان اشرف وہ تلاش بن سکتے ہیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ملتان ان کو ایک مخصوص نمبر پر بیٹنگ کروائیں تاکہ وہ مکمل فوکس ہوکر بیٹنگ کرسکیں۔

دوسری طرف ذیشان اشرف کو بھی اپنی وکٹ کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ ان کو ہر گیند پر شاٹ کھیلنے کی کوشش کرنے کے بجائے تحمل سے بیٹنگ کرنی ہوگی اور شاٹ کھیلنے میں جلد بازی کرنے کے بجائے اپنے اسٹروکس کھیلنے کے لیے سوجھ بوجھ کے ساتھ گیندوں کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ذیشان کی یہ خوش قسمتی بھی ہے کہ انہیں اینڈی فلاور جیسے منجھے ہوئے بیٹسمین اور کوچ کا ساتھ حاصل ہے اور ان کی موجودگی سے یہ نوجوان بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اس لیے امید ہے آئندہ میچوں میں ذیشان زیادہ ذمہ داری سے کھیلیں گے اور متواتر متاثر کن اننگز کھیل کر قومی سلیکٹرز کو اپنی جانب متوجہ کر لیں گے۔

عماد وسیم کی خراب کپتانی کا سلسلہ جاری

کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم کی خراب کپتانی کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ اتوار کو کوئٹہ کیخلاف میچ میں انہوں نے میچ کی صورتحال کو سمجھے بغیر کپتانی کی اور کوئٹہ کی ٹیم جو ایک کم اسکور کا تعاقب کرتے ہوئے پریشانی میں آگئی تھی وہ اس پریشانی سے نکل کر میچ جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔

ملتان کے خلاف میچ میں بھی ان کی کپتانی ایک ایسا معمہ رہی جس کو کرکٹ کے معروف تجزیہ کار بھی سمجھنے سے قاصر رہے۔ عماد نے آج شاید کسی دباؤ کے تحت بائیں ہاتھ سے اسپن کرنے والے باؤلر عمر خان کو ٹیم میں شامل تو کرلیا لیکن شاید کسی انجانے خوف کی وجہ سے ان کو باؤلنگ نہیں دی۔

ابتدائی میچوں میں کراچی کنگز کے لیے ایمرجنگ کیٹیگری میں کھیلنے والے میڈیم فاسٹ باؤلر ارشد اقبال مسلسل رنز دیتے رہے لیکن عماد نے کسی بھی موقع پر پارٹ ٹائم آف اسپنر افتخار احمد سے باؤلنگ کروانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اب جب ملتان کے خلاف عماد کے پاس ایک فل ٹائم اسپنر موجود تھا تو انہوں نے اس کو استعمال کرنے کے بجائے افتخار کو باؤلنگ دینا پسند کیا، اور اس انتخاب کا کراچی کو یہ نقصان اٹھانا پڑا کہ افتخار نے 3 اوور میں 42 رنز دے دیے۔

دوسری طرف اس پوری اننگ میں عماد نے عمر خان کو ایک بھی اوور دینے کی زحمت نہیں کی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ عماد وسیم نے عمر خان کے ساتھ ایسا سلوک کیا ہو۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ عماد یا تو عمر خان کو اوور دینا بھول جاتے ہیں ہا پھر عمر کو ان کے کوٹے کے پورے اوور پھینکنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔

عمر خان سے عماد وسیم کی گھبراہٹ واضح طور پر نظر آرہی ہے—فوٹو: پی ایس ایل
عمر خان سے عماد وسیم کی گھبراہٹ واضح طور پر نظر آرہی ہے—فوٹو: پی ایس ایل

عمر خان سے باؤلنگ نہیں کروانے کے ساتھ عماد وسیم کے ناروا سلوک کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ عماد وسیم اس نوجوان باؤلر سے گھبراتے ہیں، عماد کی طرح عمر بھی بائیں ہاتھ سے گیند کرتے ہیں۔ عماد کو شاید خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں پی ایس ایل میں اچھی کارکردگی دکھا کر عمر خان قومی ٹیم کا حصہ نہ بن جائیں، اس لیے وہ اس نوجوان کو جبری طور پر صلاحیتوں کے اظہار سے روک رہے ہیں۔

عماد وسیم کو آنے والے میچوں میں اپنی کپتانی سے متعلق بہت سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ جب میچ کے اختتام پر ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے عمر خان کو باؤلنگ کیوں نہیں دی تو انہوں نے بتایا کہ ملتان کے پاس زیادہ تر بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے ہیں اور پھر ہوا کی وجہ سے بھی مسائل زیادہ تھے اس لیے انہوں نے عمر کو باؤلنگ نہیں دی اور خود بھی صرف ایک ہی اوور کیا۔

عماد وسیم کو یہ فضول توجیح دینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ میچ کے آغاز سے قبل ہوا کا جو رخ تھا وہی رخ پوری دوپہر رہا ہے اور ملتان میں بائیں ہاتھ کے کھلاڑیوں کی موجودگی بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ اگر عماد وسیم اور کراچی کنگز کی انتظامیہ کو یہ نمایاں عوامل ٹیم منتخب کرتے وقت نظر نہیں آئے اور یکلخت ٹاس کے بعد نظر آئے تو پھر اس ٹیم کے ساتھ کوئی گھمبیر مسئلہ ہے اور اس نوعیت کی فاش غلطیاں کرنے والی ٹیم سے مداحوں کو کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

کراچی کنگز کی ناقص بیٹنگ

کراچی کنگز کی بیٹنگ آج کسی بھی حکمتِ عملی سے عاری نظر آئی۔ اس ٹیم کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ یہ بہت زیادہ انحصار بابر اعظم پر کررہی ہے، یعنی جیسے ہی بابر آؤٹ ہوجاتے ہیں تو پوری بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ کراچی کنگز کو اگر ٹورنامنٹ کے اگلے میچوں میں کچھ خاطر خواہ کارکردگی پیش کرنی ہے تو ان کو اپنی بیٹنگ کو بہت زیادہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

بابر اعظم پر کراچی کنگز کا انحصار کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے—فوٹو: پی ایس ایل
بابر اعظم پر کراچی کنگز کا انحصار کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے—فوٹو: پی ایس ایل


پشاور زلمی بمقابلہ لاہور قلندرز


آج کا دوسرا میچ راولپنڈی میں لاہور قلندرز اور ملتان سلطان کے مابین کھیلا گیا۔ اس میچ میں لاہور قلندر نے ٹاس جیت کر پشاور زلمی کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ راولپنڈی میں ہونے والی بارش کے باعث اس بات کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ شاید یہ میچ نہیں ہوسکے لیکن بارش رکنے کے بعد گراؤنڈ اسٹاف کی شاندار کارکردگی کی بدولت یہ میچ ممکن ہوگیا۔ بارش کے باعث اس میچ کو 12 اوورز فی اننگز تک محدود کردیا گیا۔

پشاور زلمی کی طرف سے ایک بار پھر ٹام بینٹن اور کامران اکمل نے اوپننگ کی۔ خیال تھا کا بینٹن کی خراب فارم کی وجہ سے شاید انہیں آرام کا موقع دیا جائے، لیکن ان پر ٹیم نے ایک مرتبہ پھر اعتماد کا اظہار کیا اور بینٹن اس اعتماد پر پورے اترے اور اننگ کے آغاز میں زبردست 34 رنز بنائے۔

ٹام بینٹن اس بار ٹیم کے اعتبار پر پورا اترے—فوٹو:اے ایف پی
ٹام بینٹن اس بار ٹیم کے اعتبار پر پورا اترے—فوٹو:اے ایف پی

پشاور زلمی کا اسکور جب 32 رنز تھا تو کامران اکمل 14 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ کامران اکمل اس ٹورنامنٹ میں اچھی فارم میں ہیں لیکن گزشتہ 2 اننگز میں انہوں نے جس انداز سے اپنی وکٹ گنوائی ہے وہ ایک تجربے کار کھلاڑی کو زیب نہیں دیتا۔ کامران اکمل کے آؤٹ ہونے کے بعد نوجوان ابھرتے ہوئے ستارے حیدر علی میدان میں آئے۔

حیدر موجودہ پی ایس ایل میں ہر اننگ کے بعد بتارہے ہیں کہ وہ کس قدر باصلاحیت کھلاڑی ہیں۔ لیکن پاکستان کے دیگر کھلاڑیوں کی طرح حیدر بھی اچھا کھیلتے کھیلتے یکایک ایک خراب یا غیر ضروری شاٹ کھیل کر اپنی وکٹ کھونے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ حیدر علی چند روز قبل ملتان کے خلاف بھی اچھا کھیلتے کھیلتے ایک غیر ضروری شاٹ کھیلنے کی کوشش میں آؤٹ ہوگئے تھے۔

قلندرز کے خلاف بھی حیدر نے صرف 12 گیندوں پر 4 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 34 رنز کی زبردست اننگز کھیلی۔ جس وقت حیدر علی آؤٹ ہوئے تو ان کی ٹیم کا اسکور 7.1 اوورز میں 90 رنز تک پہنچ گیا تھا۔ اگر حیدر علی مزید وکٹ پر رک جاتے تو شاید پشاور زلمی کی ٹیم اپنے مقررہ 12 اوورز میں 150 کا اسکور حاصل کرلیتی۔

پشاور زلمی کو 150 رنز تک نہ پہنچنے میں اگر کسی کا اہم کردار رہا تو وہ قلندرز کے فاسٹ باؤلر دلبر حسین کا رہا جنہوں نے آج نہایت مشکل حالات میں شاندار باؤلنگ کرکے اپنے ٹیلنٹ کا اظہار کیا۔ د لبر نے 3 اوورز میں صرف 23 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور پشاور کو مقررہ اوورز میں 132رنز تک محدود کردیا۔

ہدف کے تعاقب میں لاہور قلندرز نے ہمیشہ کی طرح شاندار آغاز لیا اور صرف 4 اوورز میں 48رنز بنا لیے۔ اس موقع پر امید تھی کہ قلندرز بھی دیگر ٹیموں کی طرح ایک بڑے ہدف کا کامیابی کے ساتھ تعاقب کرلیں گے لیکن پی ایس ایل میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والے لیوئس گریگری نے ٹورنامنٹ میں کروائی گئی اپنی پہلی ہی گیند پر کرس لن کی وکٹ حاصل کرکے قلندرز کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا۔

بات یہاں نہیں رکی بلکہ اس اوور کی پانچویں گیند پر انہوں نے تجربے کار کھلاڑی محمد حفیظ کو بھی پویلین کی راہ دکھا دی اور قلندرز ہمیشہ کی طرح اچھے آغاز کے بعد ہمیشہ کی طرح بھیانک انجام کی طرف جانے لگے۔

ان جلدی گرتی وکٹوں کا نقصان یہ بھی ہوا کہ اننگ کے پانچویں، چھٹے اور ساتویں اوور میں کوئی بھی باؤنڈری نہیں لگی اور اس دوران قلندرز کو فخر زمان کا بھی نقصان اٹھانا پڑ گیا۔ جیسے جیسے قلندر کی اننگز آگے بڑھ رہی تھی، ان کی وکٹیں گر رہی تھیں اور ہدف ان کی دسترس سے دُور ہوتا جا رہا تھا۔ اپنی اننگز کے اختتام پر لاہور قلندرز 6 وکٹوں کے نقصان پر 116 رنز بنا سکے۔ یوں پشاور زلمی نے یہ میچ 16 رنز سے جیت کر پوائنٹس ٹیبل پر چوتھی پوزیشن حاصل کرلی۔

لیوئس گریگری نے اپنے پہلے ہی میچ میں 4 وکٹیں لے کر مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کیا—فوٹو:اے ایف پی
لیوئس گریگری نے اپنے پہلے ہی میچ میں 4 وکٹیں لے کر مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کیا—فوٹو:اے ایف پی

لاہور قلندرز اب تک کھیلے گئے اپنے تینوں میچ ہار گئے ہیں۔ ان کے لیے ہر شکست کے بعد مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قلندرز کو جلد ہی اپنی ٹیم کا توازن ٹھیک کرکے زیادہ بہتر حکمتِ عملی کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔ قلندرز کی مسلسل شکست ناصرف ان کے لیے مشکلات کا باعث ہے بلکہ شائقین کے لیے بھی مایوسی کی بات ہے کیونکہ شائقین چاہتے ہیں کہ لیگ اسٹیج کے آخری میچوں تک اگلے راؤنڈ میں پہنچنے کے لیے ٹیموں کے درمیان رسہ کشی جاری رہے۔

ہار اور جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جس انداز سے کراچی اور لاہور کی ٹیمیں مسلسل شکست کو گلے لگا رہی ہیں وہ نا صرف ان ٹیموں کے لیے پریشانی کا باعث ہے بلکہ ان کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ مخالفین کو زیر کرنے کے لیے آپ کو بڑے نام والے کھلاڑیوں سے زیادہ بلند حوصلے والے ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو سوجھ بوجھ کے ساتھ میچ کی صورتحال کے مطابق کھیلیں اور اپنی ٹیم کو جیت کی راہ پر ڈال دیں۔