سارک اجلاس میں معاون خصوصی کے بیان پر بھارتی ردعمل مسترد

اپ ڈیٹ 20 مارچ 2020

ای میل

ویڈیو کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت دیگر سربراہان مملکت نے شرکت کی تھی—فائل/ڈان نیوز
ویڈیو کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت دیگر سربراہان مملکت نے شرکت کی تھی—فائل/ڈان نیوز

پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی سارک کانفرنس میں تبصرے پر سیاست کو مسترد کر دیا

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'سارک کے رکن ممالک کی ویڈیو کانفرنس میں ڈاکٹر ظفر مرزا کے تبصرے کے رُخ کو موڑنے کی بھارتی وزارت خارجہ کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں'.

مزید پڑھیں:سارک ممالک کی کووڈ-19 پر ویڈیو کانفرنس، ظفر مرزا کا خطاب

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 'ڈاکٹر ظفر مرزا کے تبصرے سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کی کوششیں گمراہ کن ہیں، ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا وائرس کے تناظر میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہیلتھ ایمرجنسی کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی'۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ڈاکٹر ظفر مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلات پر پابندیوں کو ختم کرنے اور طبی سامان کی رسائی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا، اس حوالے سے نہ صرف پاکستان بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت سمیت دنیا بھر سے متعدد آوازیں اٹھ رہی ہیں۔'

سارک ممالک کے اجلاس میں پاکستان کی شرکت کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ 'کوویڈ 19 پر سارک کے رکن ممالک کی ویڈیو کانفرنس میں پاکستان کی شرکت کا مقصد رکن ممالک سے اظہار یکجہتی کرنا تھا'۔

ترجمان دفتر خارجہ اپنے ردعمل میں کہا کہ 'جنوبی ایشیا کے عوام بخوبی واقف ہیں کہ کون سا ملک سارک کے عمل کو سیاسی بنانے کے لیے کوشاں ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'پاکستان نے مناسب وقت پر سارک کے وزرائے صحت کی کانفرنس کی میزبانی کے لیے اپنی تیاری کی تصدیق کردی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کے 180 ممالک میں پھیلے کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز

یاد رہے کہ 15 مارچ کو کورونا وائرس سے متعلق سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس ہوئی تھی جہاں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس حوالے سے رکن ممالک کے وزرائے صحت کے اجلاس کی میزبانی کی پیش کش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے توجہ کی ضرورت ہے۔

معاون خصوصی برائے صحت نے کہا تھا کہ ‘مجھے یقین ہے کہ سارک اراکین کووڈ ایمرجنسی کے دوران پورے خطے تک رسائی کریں گے کیونکہ صحت بنیادی حق ہے، اس حوالے سے بھارت کے زیر تسلط کشمیر سے کورونا وائرس کے کیسز کی رپورٹ تشویش کا باعث ہے’۔

مقبوضہ جموں اور کشمیر میں 5 اگست 2019 سے لاک ڈاؤن ہے جہاں انٹرنیٹ سروس سمیت دیگر سہولیات پر پابندی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سارک اجلاس کے حوالے سے کہا تھا کہ سارک اجلاس میں بھارت کے ماضی میں منفی کردار کے باوجود شرکت کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے کانفرنس میں شرکت کی اور پاکستان نے سارک وزرائےصحت کےفوری اجلاس کی میزبانی کی پیش کش کی ہے۔

کورونا وائرس پر سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے علاوہ بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد، سری لنکا کے صدر گوتابایا راجا پاکسے، مالدیپ کے صدر ابراہیم محمد صالح، نیپال کے وزیراعظم شرما اولی، بھوٹان کے وزیراعظم لوتے شیرنگ اور افغان صدر اشرف غنی بھی شریک ہوئے تھے۔