کورونا وائرس کے خلاف آزمانے کے لیے درجنوں ادویات کی شناخت

23 مارچ 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — اے پی فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — اے پی فوٹو

دنیا بھر میں نئے نوول کورونا وائرس کی وبا میں تیزی کے بعد سے سائنسدانوں کی جانب سے اس کے علاج کی دریافت کے لیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں،

اور اب سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ 70 کے قریب ادویات اور تجرباتی مرکبات کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے علاج میں ممکنہ طور پر موثر ہوسکتے ہیں۔

ان میں سے کچھ ادویات پہلے ہی دیگر امراض کے علاج کے لیے استعمال ہورہی ہیں اور انہیں اب کووڈ 19 کے علاج کے لیے تجویز کیا جارہا ہے،جو کہ ممکنہ طور پر نئی اینٹی وائرل دوا کو تیار کرنے کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار طریقہ ہوگا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس نئی تحقیق کے نتائج کو ویب سائٹ bioRxiv پر شائع کیا گیا ہے اور اس مقالے کو طبی جریدے میں شائع کرنے کے لیے بھی جمع کرایا گیا ہے۔

اس فہرست کی تیاری کے لیے سیکڑوں محققین نے کورونا وائرس کی جینز پر ہونے والی غیرمعمولی تحقیق کا آغاز کیا۔

پھیپھڑوں کے خلیات کو متاثر کرنے کے لیے کورونا وائرس کو اپنے جینز کو اس میں داخل کرنا ہوتا ہے، جس کے بعد خلیات وائرل پروٹین بنانے لگتے ہیں، جو لاکھوں نئے وائرسز کی تیاری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ایسے تمام وائرل پروٹینز کو اپنے کام کے لیے ضروری انسانی پروٹینز کو جکڑنا ہوتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے کورونا وائرس کے 29 میں سے 26 جینز کی جانچ پڑتال کی جو کہ وائرل پروٹینز کو بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ کورونا وائرس 332 انسانی پروٹینز کو ہدف بناتا ہے ، کچھ وائرل پروٹین بظاہر صرف ایک انسانی پروٹین کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ دیگر وائرل پروٹین متعدد انسانی خلیاتی پروٹینز کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

محققین نے ایسی ادویات کو بھی دریافت کرنے پر کام کام کیا جو ان انسانی پروٹینز کو اپنی حفاظت میں لے سکے جو کورونا وائرس کا نشانہ بنتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم نے ایسی 24 ادویات کی شناخت کی جن کے استعمال کی منظوری امریکا کے ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے مختلف امراض جیسے کینسر، بلڈ پریشر اور پارکنسن کے لیے دے رکھی ہے۔

اس فہرست میں شامل کچھ بالکل ہی مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی جیسسے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کو دی جانے والی metformin بھی شامل تھی۔

سائنسدانوں نے ایسے مرکبات کو بھی دریافت کیا جو اس وقت کلینیکل ٹرائلز یا ابتدائی تحقیقی عممل سے گزر رہے ہیں۔

اس فہرست میں اینٹی باڈیز کو بھی شامل کیا گیا جو کہ پروٹین کے اجتماع کے لیے استعمال ہونے والی خلیاتی مشینری میں بیکٹریا کو مارنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

اس نئی تحقیق میں اس امکان کو اجاگر کیا ہے کہ یہ سائیڈ ایفیکٹ ممکنہ طور پر اینٹی وائرل علاج کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

اس فہرست میں شامل ایک دوا ملیریا کے خلاف ہونے والی کلوروکوئن (جسے Hydroxychloroquine بھی کہا جاتا ہے) بھی شامل ہے، جس کے بارے میں سائنسدان طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ یہ انسانی خلیاتی پروٹین سگما 1 ریسیپٹر سے اٹیچ ہوجاتی ہے، اور یہ وہی ریسیپٹر ہے جو کورونا وائرس کا ہدف ہوتا ہے۔

یہ دوا گزشتہ ہفتے سے دنیا بھر کے میڈیا کی خبروں کا حصہ رہا ہے کیونکہ اس کے بارے میں کئی ممالک میں اسے ابتدائی تجربات میں اسے موثر قرار دیا گیا۔

گزشتہ ہفتے 18 مارچ کو عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا تھا کہ وہ کلوروکوئن سمیت دیگر ادویات کی افادیت پر تحقیق کا آغاز کیا جارہا ہے۔

اس تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ماہر حیاتیات پروفیسسر نوین کروگن نے خبردار کیا کہ کلوروکوئن کے متعدد سائیڈ ایفیکٹس ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ دوا بظاہر متعدد انسانی خلیاتی پروٹینز کو ہدف بناتی ہے۔

انہوں نے کہا 'اس حوالے سے بہت احتیاط کی ضرورت ہے، ہمیں اس کے ہر پہلو کے بارے میں مزید ڈیٹا کی ضرورت ہے'۔

اس تحقیقی ٹیم میں امریکا کے ایشکن اسکول آف میڈیسین اور پیرس کے پیسٹیور انسٹیٹوٹ کے سائنسدان شامل تھے۔