کورونا کے باعث لاک ڈاؤن: دنیا بھر میں گھریلو تشدد میں اضافہ

اپ ڈیٹ مارچ 29 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق یورپ میں گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے — فوٹو: رائٹرز
رپورٹ کے مطابق یورپ میں گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے — فوٹو: رائٹرز

کورونا وائرس جیسی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے اگرچہ دنیا کے درجنوں ممالک نے مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا ہے اور اس عمل سے عوام کے کورونا میں مبتلا ہونے کے امکانات واضح طور پر کم ہوئے ہیں۔

تاہم کورونا جیسی وبا سے بچنے کے لیے لاک ڈاؤن کیے جانے کی وجہ سے دنیا بھر میں دیگر مسائل سامنے آنے لگے ہیں اور ایسے مسائل میں شادی شدہ جوڑوں کے درمیان علیحدگی سمیت گھریلو تشدد میں اضافہ بھی شامل ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والی رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے باعث گھریلو تشدد اور خاص طور پر خواتین پر تشدد کے واقعات میں حیران کن اضافہ دیکھا گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد یورپ میں گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

رپورٹ میں برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر ممالک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے ساتھ ہی گھریلو تشدد کی رپورٹس میں 30 فیصد تک اضافے کا دعویٰ کیا گیا۔

خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں برطانیہ کے مختلف عہدیداروں، سماجی تنظیموں اور صحت کے عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف برطانیہ میں ہی لاک ڈاؤن کے دوران 30 فیصد گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا۔

فرانس و جرمنی میں بھی گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھا گیا—فوٹو: ڈینیئل مہیلسکو/ یورو نیوز
فرانس و جرمنی میں بھی گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھا گیا—فوٹو: ڈینیئل مہیلسکو/ یورو نیوز

برطانوی اخبار دی گارجین نے اپنی خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران چین سے لے کر فرانس اور اٹلی سے لے کر اسپین جب کہ جرمنی سے لے کر برازیل جیسے ممالک میں گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ میں چین میں گھریلو تشدد کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں اور رضاکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران چین مین گھریلو تشدد میں حیران کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق کورونا سے چین کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے ہوبے میں ہی لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کی رپورٹس میں تین گنا اضافہ دیکھا گیا جب کہ وہاں ہونے والے گھریلو تشدد کے 90 فیصد واقعات کا تعلق کسی نہ کسی طرح کورونا وائرس سے ہی منسلک تھا۔

رپورٹ میں برازیلی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ برازیل میں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہونے کے بعد گھریلو تشدد کے واقعات میں 40 سے 50 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور تشدد کا سب سے زیادہ شکار خواتین ہو رہی ہیں جب کہ اس سے بچے بھی محفوظ نہیں۔

برازیل میں سب سے زیادہ تشدد کے کیس سب سے بڑے شہر ریوڈی جنیرو سے سامنے آئے۔

اسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات والے ملک اٹلی میں بھی حیران کن طور پر گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھا گیا اور کئی ایسے علاقوں سے تشدد کی زیادہ رپورٹس سامنے آئیں جہاں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد زیادہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اٹلی کے علاقے کیٹالان میں ہی صرف گھریلو تشدد کی شکایات میں 20 فیصد جب کہ سائپرس میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ اٹلی سے گھریلو تشدد کی شکایات کے حوالے سے ہاٹ لائن پر فون کم آ رہے ہیں تاہم خواتین موبائل پیغامات اور ای میل کے ذریعے تشدد کی شکایات کر رہی ہیں اور خواتین نے لاک ڈاؤن میں تشدد کی وجہ سے خود کو واش رومز تک بند کرکے اپنی حفاظت کی ہے۔

اٹلی کی طرح اسپین میں بھی جہاں کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وہیں وہاں گھریلو تشدد میں بھی لاک ڈاؤن کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا اور حکومت کو گھریلو تشدد کی شکار خواتین کے لیے لاک ڈاؤن کو نرم کرنا بھی پڑا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ اسپین میں انتہائی سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے تاہم حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی گھریلو تشدد کا شکار خاتون کو لاک ڈاؤن میں بھی گھر سے نکلنے کی مکمل اجازت ہے۔

اسپین میں تو گھریلو تشدد کے باعث خواتین کے قتل کی رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں۔

اٹلی، اسپین، چین و برازیل کی طرح فرانس میں بھی گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور حکومت کے مطابق لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد ملک میں گھریلو تشدد کے واقعات میں 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

فرانس میں بھی جہاں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وہیں حکومت کو گھریلو تشدد کے بڑھتے واقعات کا بھی سامنا ہے اور وہاں گھریلو تشدد کا شکار بننے والی خواتین کی عمریں 18 سے 75 سال تک ہیں۔

دی گارجین کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد بڑھنے کا واقعہ برازیل و چین تک ہی محدود نہیں بلکہ گھریلو تشدد میں اضافہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسے ممالک میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں سیاستدان اور حکومتی شخصیات اس ضمن میں مزید قوانین بنانے کی باتیں بھی کر رہے ہیں۔

یورپی ممالک کی طرح بھارت سے بھی لاک ڈاؤن کے درمیان گھریلو تشدد اور خاص طور پر خواتین پر تشدد کے واقعات کی رپورٹس میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

لاک ڈاؤن کے درمیان گھریلو تشدد کو روکنے کے لیے برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے سیاستدان حکومت سے خصوصی قوانین نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

ایک طرف تو دنیا کے درجنوں ممالک کورونا جیسی وبا سے نمٹ رہے ہیں، وہیں لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کے احکامات کے بعد دنیا کے کئی ممالک گھریلو تشدد، خاندانی تباہی یعنی طلاقوں جیسے بڑھتے واقعات سے بھی نمٹ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ 29 مارچ کی صبح تک دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 6 لاکھ 65 ہزار سے زائد ہو چکی تھی جب کہ اس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 30 ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔

29 مارچ کی صبح تک کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض ایک لاکھ 24 ہزار امریکا میں تھے جب کہ اموات کے حوالے سے اٹلی 10 ہزار اموات کے ساتھ سر فہرست تھا۔