’دنیا بہتر ہورہی ہے، ہم اسے نقصان پہنچاتے ہوئے لاپرواہ ہوگئے تھے‘

اپ ڈیٹ 30 مارچ 2020

ای میل

عروہ حسین کا شمار پاکستان کی مقبول اداکاراؤں میں کیا جاتا ہے— فوٹو: انسٹاگرام
عروہ حسین کا شمار پاکستان کی مقبول اداکاراؤں میں کیا جاتا ہے— فوٹو: انسٹاگرام

پاکستان کی نامور اداکارہ عروہ حسین کا جہاں ماننا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا کو تباہی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں ان کے مطابق کہیں نہ کہیں اس وائرس سے دنیا بہتر بھی ہورہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اداکارہ نے سلسلہ وار ٹوئٹس میں کورونا وائرس کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

عروہ حسین نے لکھا کہ ’میں سوچ رہی تھی کہ اس عالمی وبا کے حوالے سے میری سوچ خاصی الگ ہے، جہاں میں یہ سوچ رہی ہوں کہ اس وائرس کے باعث خوب تباہی ہورہی ہے وہیں میں نے یہ بھی نوٹس کیا کہ ہماری دنیا بہتر ہورہی ہے اور اسے بہتر ہونے کی ضرورت بھی تھی کیوں کہ ہم اسے نقصان پہنچاتے پہنچاتے بہت زیادہ لاپرواہ پوچکے تھے‘۔

اداکارہ کے مطابق ’جہاں مجھے اس وقت اپنی ماں کی اور گھر والوں کی یاد آرہی ہے، وہیں میں اس بات کا بھی شکر ادا کررہی ہوں کہ میں خود اپنے گھر میں محفوظ ہوں، مجھے چاہنے والے موجود ہیں جن سے میں بات کرسکتی ہوں‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’مجھے ان تمام لوگوں سے ہمدردی ہے جو اس وقت کسی نہ کسی مشکل میں گرفتار ہیں، جن کے پاس کھانے کو کچھ موجود نہیں یا جنہیں اپنی صحت کے حوالے سے کسی قسم کی پریشانی ہے، یا پھر وہ ڈاکٹرز اور پولیس اہلکار جو سب سے آگے کھڑے ہوکر اس جنگ میں لڑ رہے ہیں‘۔

عروہ حسین نے آخر میں لکھا کہ ’بہادر بن کر رہیں اور مثبت رہنے کی کوشش کریں اور سب سے ضروری شکر ادا کریں اور اپنے گھروں میں ہی رہیں‘۔

خیال رہے کہ دنیا بھر کو اپنی دہشت سے خوف زدہ کرنے والے کورونا وائرس کا پاکستان میں بھی تیزی سے پھیلاؤ جاری ہے، اب تک اس وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 17 جبکہ متاثرین کی تعداد 1600 سے تجاوز کر گئی ہے۔

نکورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس ایک عام وائرل ہونے والا وائرس ہے جو عام طور پر ایسے جانوروں کو متاثر کرتا ہے جو بچوں کو دودھ پلاتے ہیں تاہم یہ وائرس سمندری مخلوق سمیت انسانوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

اس وائرس میں مبتلا انسان کا نظام تنفس متاثر ہوتا ہے اور اسے سانس میں تکلیف سمیت گلے میں سوزش و خراش بھی ہوتی ہے اور اس وائرس کی علامات عام نزلہ و زکام یا گلے کی خارش جیسی بیماریوں سے الگ ہوتی ہیں۔

کورونا وائرس کی علامات میں ناک بند ہونا، سردرد، کھانسی، گلے کی سوجن اور بخار شامل ہیں اور چین کے مرکزی وزیر صحت کے مطابق 'اس وبا کے پھیلنے کی رفتار بہت تیز ہے، میں خوفزدہ ہوں کہ یہ سلسلہ کچھ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے اور کیسز کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے'۔

مزید پڑھیں: لاک ڈاؤن کے دوران پاکستانی فنکار گھروں میں کیا کررہے ہیں؟

وائرس کے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد چین کے کئی شہروں میں عوامی مقامات اور سینما گھروں سمیت دیگر اہم سیاحتی مقامات کو بھی بند کردیا گیا تھا جب کہ شہریوں کو سخت تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ متعدد شہروں کو قرنطینہ میں تبدیل کرتے ہوئے عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی اور نئے قمری سال کی تعطیلات میں اضافہ کر کے تعلیمی اداروں اور دیگر دفاتر کو بند رکھا گیا تھا۔

واضح رہے کسی کورونا وائرس کا شکار ہونے پر فلو یا نمونیا جیسی علامات سامنے آتی ہیں جبکہ اس کی نئی قسم کا اب تک کوئی ٹھوس علاج موجود نہیں مگر احتیاطی تدابیر اور دیگر ادویات کی مدد سے اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔