کورونا سے پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی، رپورٹ

31 مارچ 2020

ای میل

یو این سی ٹی اے ڈی کے ترقیاتی حکمت عملی کے ڈائریکٹر رچرڈ کوزول رائٹ نے کہا کہ یہ واقعی بہت خراب ہو گا - فائل فوٹو:رائٹرز
یو این سی ٹی اے ڈی کے ترقیاتی حکمت عملی کے ڈائریکٹر رچرڈ کوزول رائٹ نے کہا کہ یہ واقعی بہت خراب ہو گا - فائل فوٹو:رائٹرز

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ کورونا وائرس بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی حالات سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے اور اس نقصان سے نمٹنے کے لیے 25 کھرب ڈالر تک کے معاون پیکیج کی ضرورت ہوگی۔

اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی سے متعلق کانفرنس (یو این سی ٹی اے ڈی) کی گزشتہ روز جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان، ارجنٹائن اور افریقہ کے صحرائی ممالک کو ’خوفناک امتزاج‘ کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں قرضوں کے اضافے شامل ہیں جس کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے پر تباہ کن اثرات بھی رونما ہوں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشتیں اعلی سرمایے کے بہاؤ سے ’بری طرح متاثر‘ ہوں گی، اشیا کی گرتی ہوئی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے برآمدات کے منافع میں کمی ہوگی، جس کا مجموعی اثر 2008 کے بحران سے کہیں زیادہ خراب ہوگا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: وزیر اعلیٰ پنجاب کا انصاف امداد پیکج کا اعلان

رپورٹ کی نگرانی کرنے والے یو این سی ٹی اے ڈی کے ترقیاتی حکمت عملی کے ڈائریکٹر رچرڈ کوزول رائٹ نے کہا کہ ’یہ واقعی بہت خراب ہو گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی اداروں کو اس قسم کی تجاویز کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ یہ واحد راستہ ہے جس سے ہم پہلے ہی سے ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے دیکھ سکتے ہیں اور جو بدتر ہوں گے‘۔

کوزول رائٹ نے تخمینہ لگایا کہ اس سال اور اگلے سال میں کورونا وائرس 20 سے 30 کھرب ڈالر کے مالی خسارے کا سبب بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں: روس: کورونا کی غلط معلومات پھیلانے پر 5 سال کی سزا

رپورٹ میں کہا گیا کہ ترقی پذیر ممالک کو اس سال معاشی بحران کا سامنا کرنے کے لیے 25 کھرب ڈالر کے امدادی پیکیج کی ضرورت ہوگی۔

مطلوبہ اقدامات میں 10 کھرب ڈالر کا لیکویڈیٹی انجیکشن اور ایک کھرب ڈالر کا قرض سے نجات پیکیج شامل ہوگا اور ہنگامی صحت سروسز اور متعلقہ پروگراموں کے لیے حکومت کے کنٹرول میں بالترتیب مزید 50 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہوگی۔

"ترقی پذیر ممالک کو کووڈ - 19 کا جھٹکا" کے عنوان سے جاری رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پہلے تخمینے سے ملتے جلتے ہیں۔