'کشمیری آبادی کے تناسب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تازہ ترین بھارتی کوشش مسترد کرتے ہیں'

03 اپريل 2020

ای میل

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حالیہ غیر قانونی اقدام کا تو وقت بھی قابل مذمت ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حالیہ غیر قانونی اقدام کا تو وقت بھی قابل مذمت ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں متعارف کروائے گئے نئے ڈومیسائل قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اہلِ کشمیر کے ساتھ یک زباں ہوکر مقبوضہ جموں اور کشمیر میں آبادی کے تناسب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تازہ ترین بھارتی کوشش مسترد کرتے ہیں۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کو ان کے حقِ خوداردیت کی فراہمی سے انکار کو دنیا کے سامنے عیاں کرتا رہے گا۔

انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ حالیہ غیر قانونی اقدام کا تو وقت بھی قابل مذمت ہے کیونکہ مودی سرکار نے دنیا کی کورونا وائرس پر مرکوز توجہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہندو بالادستی کے ایجنڈے (ہندوتوا) کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ/عالمی برادری بھارت کے ہاتھوں سلامتی کونسل کی قراردادوں/عالمی قانون کی مسلسل پامالی روکیں۔

انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ہم ہندوبالادستی کے ایجنڈے پر کاربند نسل پرست مودی سرکار کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں اور کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کیلئے بھارت کے نئے 'غیر قانونی' ڈومیسائل قانون کو مسترد کردیا

وزیراعظم نے عالمی برادری کو باور کروایا کہ 'جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر-2020' چوتھے جینیوا کنونشن کی واضح خلاف ورزی ہے۔

خیال رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد اب جموں و کشمیر سول سروسز ایکٹ لاگو کیا ہے جس کے مطابق جو جموں و کشمیر میں 15 سال سے مقیم ہے وہ اپنے ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دے سکیں گے۔

ایکٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دینے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ اس نے جموں و کشمیر کے وسطی علاقے میں 15 سال تک رہائش اختیار کی ہو یا 7 سال کی مدت تک تعلیم حاصل کی ہو یا علاقے میں واقع تعلیمی ادارے میں کلاس 10 یا 12 میں حاضر ہوا ہو اور امتحان دیے ہوں۔

اس سے قبل جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ 35 اے میں شہری سے متعلق تعریف درج تھی کہ وہ ہی شخص ڈومیسائل کا مستحق ہوگا جو مقبوضہ علاقے میں ریلیف اینڈ ری ہیبیلٹیشن (بحالی) کمشنر کے پاس بطور تارکین وطن رجسٹرڈ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کیلئے ڈومیسائل کے نئے قوانین متعارف کرادیے

واضح رہے کہ وزیراعظم سے قبل دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ پاکستان، بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں متعارف کروائے گئے نئے ڈومیسائل قانون کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ جموں اور کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جموں کشمیر تنظیمِ نو آرڈر 2020 بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

عائشہ فاروقی نے بھارت کے اس اقدام کو 'غیر قانونی' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جنیوا کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہے اور عالمی وبا کی آڑ میں بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کی آبادکاری کر رہا ہے۔