ڈنمارک میں لاک ڈاؤن اور ہمارا ڈھابہ

06 اپريل 2020

ای میل

عجب موسمِ بہار اترا ہے کہ دھوپ تو نکل رہی ہے مگر لوگ گھروں سے نہیں نکل پارہے۔ معاشرے کا ہر ایک فرد اپنے گھر میں دبکا پڑا ہے، کاروبارِ حیات معطل ہوچکا، بسیں اور ٹرینیں چل تو رہی ہیں لیکن خالی سڑکوں اور بنا سورایوں کے گھوم رہی ہیں۔

لوگ بلاضرورت گھر سے نہیں نکل رہے، ہم لوگ اپنی زندگی کے بہت بڑے سانحے کے درمیان سے گزر رہے ہیں، اب بھی یقین نہیں آتا کہ ہم خود یہ تجربہ کر رہے ہیں۔

کورونا وائرس نے اتنی دہشت پھیلا رکھی ہے کہ لوگ کئی کئی میٹر دُور سے ہاتھ ہلا کر ملنے جلنے کا تاثر دے رہے ہیں۔ وہ جو خواہشیں حجرہ شاہ مقیم کی جٹی تھیں کہ سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے (گلیاں ویران ہوجائیں اور ان میں میرا یار پھرے)، بس ویسے ہی گلیاں سنسان پڑی ہیں، بس جٹیاں خود منہ چھپائے زندگی سے بیزار ہیں اور مرزے کونوں کھدروں میں دبکے پڑے ہیں۔

ڈنمارک کا ایک منظر—رمضان رفیق
ڈنمارک کا ایک منظر—رمضان رفیق

پچھلے 2 ہفتے سے ڈنمارک میں عملی طور پر لاک ڈاؤن ہے اور مزید 2 ہفتوں کے لیے اس میں توسیع کردی گئی ہے۔ اب 12 اپریل تک سرکاری دفاتر، ریسٹورینٹ، شراب خانے، پارٹی ہال، مساجد، چرچ ہر وہ جگہ جہاں لوگ اکٹھے ہوسکتے ہیں وہ بند کردی گئی ہے۔

10 سے زیادہ لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے پر جو پابندی لگائی گئی تھی اس کو اب 2 افراد تک لائے جانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ پچھلے ہفتے ایک حقہ کیفے میں جمع ہونے والے 23 افراد کو 1500کرون فی فرد کے حساب سے جرمانہ بھی کردیا گیا ہے۔

گروسری اور میڈیکل اسٹور طرز کی دکانوں کے علاوہ باقی ہر طرح کی دکانوں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ ان اسٹور پر بھی داخلی دروازے کے ساتھ ہینڈ سینیٹائزر اور دستانے رکھ دیے گئے ہیں۔ کیش کاونٹر کے پاس ایک گاہگ سے دوسرے گاہگ کے درمیان فاصلے کی نشاندہی کرتی ہوئی فرشی پٹیاں لگا دی گئی ہیں اور ساتھ ساتھ پرچہ بھی آویزاں کردیا گیا ہے کہ فاصلے کا خیال رکھا جائے۔

تقریباً تمام فلائٹس کو معطل کردیا گیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ڈنمارک کے تمام شہریوں کو واپس ڈنمارک بلا لیا گیا ہے۔ پھر کسی شہری کو اشد مجبوری کے علاوہ ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ ائیر پورٹ پر مسافر کو لینے آنے والوں کو لاؤنج تک آنے کی اجازت کو ختم کردیا گیا ہے اور اب مسافروں کو ٹرمینل سے باہر ہی آنا ہوگا۔ ہسپتالوں میں لوگوں کا داخلہ محدود کردیا گیا ہے، جبکہ کھانے کی ٹیک اوے سروسز کے علاوہ اور کسی قسم کا کھانا پیش کرنے کی اجازت ختم کردی گئی ہے۔

تصاویر بشکریہ جوہنا ہینسن

ظاہر ہے اتنی پابندیوں کے بعد نظامِ زندگی تو متاثر ہونا ہی تھا، کاروبار بھی بالکل ٹھپ ہوچکے ہیں۔ حکومت کی شروع دن سے کوشش تھی کہ کاروباری طبقے اور عام عوام کے لیے ریلیف پیکج کا بندوبست کرے، سب سے پہلے ایسی تمام کمپنیاں جن کے ملازم 50 سے زیادہ تھے ان کو حکومت کی جانب سےکہا گیا کہ وہ کام کی کمی کی وجہ سے اپنے ورکرز کو نہ نکالیں بلکہ ان کو کام کے بغیر ہی گھروں میں بھیج دیں اور ان کی تنخواہ کا 80 فیصد حکومت ادا کرے گی۔

اس کے بعد اس پیکج میں مزید تبدیلیاں آئیں اور یہ طے ہوا کہ تنخواہ دار طبقے کو ان کی تنخواہ کے ایک بڑے حصے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ بعدازاں چھوٹی کمپنیوں کے لیے بھی اسی طرز کی مراعات کا اعلان ہوا کہ ایسی کمپنیاں جن کا ماہانہ ٹرن اوور 30 فیصد تک کم ہوجائے گا، حکومت ان کے تمام فکسڈ خرچوں کا 80 فیصد برداشت کرے گی، جیسا کہ بجلی کا بل، کرایہ، انشورنس وغیرہ۔ علاوہ ازیں کام کرنے والوں کی تنخواہ میں مراعات بھی دی جائیں گی۔

ڈنمارک میں ویرانیوں کا بسیرہ

حکومت کے اس اعلان کے بعد لوگوں کی بے چینی میں کسی حد تک کمی آئی، مزید برآں حکومت نے تنخواہوں پر ٹیکس کو بھی مؤخر کردیا، یعنی مارچ کے مہینے کا ٹیکس بعد کے کسی مہینے کے ساتھ دیا جائے گا۔

بہت سی نجی کمپنیوں نے بھی اپنے طور پر صارفین کے لیے ایسے پیکج متعارف کروائے جن سے ان کو سہولت مل سکے، جیسے ہمارے دوست کے پاس مرسیڈیز کمپنی کی ایک کار لیزنگ پر ہے، کمپنی والوں نے ان 2 مہینوں کی اقساط کو مؤخر کرکے لیزنگ پیریڈ کے آخر میں 2 مہینوں کا اضافہ کردیا۔ ٹھیک اسی طرح ہماری بجلی کمپنی نے اس مہینے کے کرائے کو اگلے مہینوں کے ساتھ شامل کرکے بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔

میں زندگی گزارنے کے لیے یہاں ایک پاکستانی ریسٹورنٹ سے وابستہ ہوں جس کا نام 'فلیمز پاکستانی ریسٹورنٹ' ہے۔ ریسٹورنٹ بند کرنے کے بعد حکومت نے صرف ہوم ڈلیوری یا ٹیک اوے کی اجازت ہی دی ہے۔ ہم 3 بڑی ڈلیوری کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں، ان میں سے ایک کا نام جسٹ ایٹ ہے، اور ایک کا نام وولٹ ہے۔ جسٹ ایٹ آپ سے کھانا بیچنے کے تقریباً 18 فیصد چارج کرتی ہے اور وولٹ چونکہ ڈلیوری بھی ساتھ کرتی ہے اس لیے اس کا کمیشن 33 فیصد ہے۔

فلیمز پاکستانی ریسٹورنٹ—تصویر رمضان رفیق
فلیمز پاکستانی ریسٹورنٹ—تصویر رمضان رفیق

تاہم جسٹ ایٹ نے اپنے کمیشن کی حد 12 فیصد کردی ہے اور وولٹ نے کہا کہ اگر کوئی ہوم ڈلیوری آپشن استعمال نہیں کرتا اور کھانا خود پِک کرتا ہے تو ایسے سبھی آرڈر پر وہ اپنا کمیشن وصول نہیں کریں گے، مزید برآں اس مشکل وقت میں کاروبار کو سہارا دینے کے لیے اس نے 50، 50 کرون کے واؤچر دینے کا اعلان کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ہوم ڈلیوری کی اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے متوجہ ہوسکیں۔

ہمارے ریسٹورنٹ کا کام بھی پہلے سے 80 فیصد تک کم ہوچکا ہے، لیکن حکومت کی مددگاری اسکیموں کی وجہ سے ایک حوصلہ سا ملا ہے کہ یہ کاروباری نقصان ہمیں بینک کرپٹ نہیں کرے گا، وگرنہ ہمارے ریسٹورنٹ کے فکسڈ اخراجات تنخواہوں کے علاوہ 40، 50 ہزار کرون کے لگ بھگ ہوں گے اور اتنی بڑی رقم بنا کروبار پوری کرنا کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے۔

پچھلے 2 ہفتے سے ڈنمارک میں عملی طور پر لاک ڈاؤن ہے

گوکہ کاروباری مراکز ، اسکول، سرکاری دفاتر بند ہیں لیکن پھر بھی لوگوں کی ایک محدود تعداد سڑکوں یا ساحلوں کے آس پاس دکھائی دیتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے عید کی چھٹیوں میں بڑے شہروں کی سڑکیں اور بازار خالی ہوجاتے ہیں۔

یہاں ایک خوف کا عالم ہے، تقریبات اور کنسرٹ منعقد کروانے والی کمپنیاں، ان سے منسلک لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

لاک ڈاؤن کے پہلے اعلان سے لوگوں میں ایک بے چینی کی لہر دوڑی اور لوگوں نے ضروریاتِ زندگی کا سامان ذخیرہ کرنے کے لیے بازاروں کا رُخ کیا۔ ہنگامہ خیزی کے پیش نظر حکومت نے فوری مداخلت کرتے ہوئے لوگوں سے درخواست کہ ضروریات زندگی کو جمع نہ کریں ان میں کسی قسم کی کمی یا تعطل نہیں آنے دیا جائے گا، لیکن ایک دو دن ایسی بے چینی دیکھنے میں آئی کہ ہر سوں نفسا نفسی کا سا عالم تھا لیکن اس بیچ جو ایک خاص بات دیکھنے کو ملی وہ یہ تھی کہ اس دن سے آج تک کسی چیز کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا اور ضروریاتِ زندگی کی ہر چیزیں بلاتعطل دستیاب ہیں۔