کورونا بحران سے نمٹنے کیلئے اسٹیٹ بینک کی پیش کردہ سہولتیں جانتے ہیں؟

04 اپريل 2020

ای میل

کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے، جس کے باعث عالمی معیشت کو تو زبردست دھچکا پہنچا ہی ہے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کا پہیہ بھی رُک گیا ہے۔

اس مفلوج کاروبارِ زندگی میں کسی حد تک جان ڈالنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے عوام خصوصاً بیروزگاروں اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کے لیے معاشی پیکجوں کے اعلانات بھی کیے جارہے ہیں اور اس پر کُھل کر بحث بھی ہورہی ہے۔

ایسے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد گرتے ہوئے کاروبار کو سہارا دینا اور ایسے افراد کی مدد کرنا ہے جو معاشی سست روی سے متاثر ہوئے ہیں۔ ٔ لیکن حکومتی پیکج کے برعکس اسٹیٹ بینک کی جانب سے اعلان کردہ مراعات اور سہولیات ملک کے امیر طبقے کے لیے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے ایسے لوگوں کو ریلیف دیا ہے جنہیں بینک قرضہ دے چکا ہو اور وہ کاروبار کی بندش کی وجہ سے ادائیگی کے قابل نہیں ہیں یا مشکلات کا شکار ہیں۔

مالیاتی صنعت کو سہولت دینے اور اس کے ذریعے انفرادی، کاروباری اور غیر ملکی تجارت میں کسی حد تک سہولت کو پیدا کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے متعدد پالیسی اور ریگولیٹری اقدامات کیے ہیں۔

بنیادی شرح سود میں کمی

معیشت پر کورونا وائرس بحران کے اثرات کے حوالے سے گزشتہ تحریر میں اسٹیٹ بینک کے 17مارچ کے اقدامات کا ذکر کیا تھا۔ اس دن اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود کو 0.75 فیصد کم کرکے 13.25فیصد سے 12.50فیصد کردیا تھا۔ اسٹیٹ بینک کے اس اقدام پر کاروباری برادری نے کڑی تنقید کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ بنیادی شرح سود میں مزید کمی کی جائے۔

جس کے بعد مرکزی بینک نے 24 مارچ کو ایک مرتبہ پھر مالیاتی پالیسی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا اور بنیادی شرح سود میں مزید ڈیڑھ فیصد کمی کا اعلان کردیا۔ اس طرح مارچ میں 2 مرتبہ بنیادی شرح سود میں کمی کی گئی اور مجموعی کمی 2.25 فیصد رہی اور اس وقت بنیادی شرح سود 11فیصد ہوچکی ہے۔

پاکستان کی معیشت میں قرض کا حجم 33 ہزار ارب روپے ہے۔ جس میں حکومتی قرض 24 ہزار ارب اور نجی شعبے کا قرض 7 ہزار ارب روپے ہے۔ شرح سود میں ایک فیصد کی کمی کا مطلب ہے 330 ارب روپے سودی ادائیگی میں کمی، اس طرح اسٹیٹ بینک کی جانب سے 2.25 فیصد کمی سے حکومت اور نجی شعبے کو مجموعی طور پر 800 ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔

انفرادی اور کاروبار ی قرض کے لیے ریلیف پیکج

اسٹیٹ بینک نے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر ایک ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔ اس پیکج میں گھریلو بینک صارفین کے علاوہ مائیکرو فنانس، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (small and medium enterprises-ایس ایم ای) کا شعبہ، کمرشل ریٹیل اور زرعی قرض وصول کنندہ شامل ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے قرض دینے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کردیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے کیپیٹل کنزرویشن بفر کو ڈھائی فیصد سے کم کرکے ڈیڑھ فیصد کردیا ہے۔ اس فیصلے سے بینکوں کو 800 ارب روپے اضافی قرض دینے کی سہولت فراہم ہوگئی ہے جو بینکوں کے مجموعی قرضوں کا 10 فیصد ہے۔

قرض کی ادائیگی میں سہولت

اسٹیٹ بینک اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے تیار کردہ ریلیف پیکج میں ایک سال تک قرض کی اصل رقم کی ادائیگی مؤخر کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ اس دوران قرض لینے والے کو معاہدے کے مطابق سود کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ بینک مؤخر شدہ اصل زر پر اضافی سود یا کوئی جرمانہ وصول نہیں کریں گے۔ تاہم یہ سہولت انہی صارفین کو حاصل ہوگی جنہوں نے دسمبر 2019ء تک تمام ادائیگیاں بروقت کی ہوں۔ اس حوالے سے قرض لینے والوں کو تحریری درخواست اپنے متعلقہ بینک کو 30 جون 2020ء سے پہلے دینا ہوگی۔

اگر کسی قرض لینے والے صارف کی مالی حالت خراب ہو تو وہ اپنے پورے قرضے کو ری اسٹرکچر یا ری شیڈول کرنے کی درخواست کرسکتا ہے۔ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے اپنے قوانین میں تبدیلی کردی ہے۔

اصل زر کی مؤخر ادائیگی یا قرض کی ری شیڈولنگ سے صارف کی کریڈٹ ہسٹری پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ یہ سہولت گاڑی، گھر، ذاتی اخراجات، اور کریڈٹ کارڈ کے صارفین کے علاوہ زرعی، ایس ایم ای، کارپوریٹ اور کمرشل قرض وصول کنندہ کے لیے بھی دستیاب ہے۔

چونکہ کاروبار کی بندش اور نقد رولنگ کے رُک جانے سے کاروباری اور ذاتی نوعیت کی مالی ضروریات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ لہٰذا اس ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے قرض لینے کی صلاحیت کی شرط کو بھی نرم کردیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک قرض لینے والوں کی آمدنی کا 50 فیصد تک قرض کا بوجھ یا ڈیٹ برڈن کا تناسب دیکھتا ہے مگر اب اس تناسب کو آمدنی کے 50 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد کردیا گیا ہے۔ اس سے 23 لاکھ صارفین کے قرض لینے کی صلاحیت میں 10 فیصد کا اضافہ ہوجائے گا۔

ایس ایم ایز کو قرض دینے کی حد میں اضافہ

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو کسی بھی معاشی طور پر مشکل حالات میں لیکوئیڈیٹی کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ایس ایم ای کا شعبہ بُری طرح متاثر ہورہا ہے۔ اسی لیے اسٹیٹ بینک نے کسی بھی ایس ایم ای کے لیے قرض کی حد 12کروڑ 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر 18کروڑ روپے کردی ہے۔ یوں بینک ایس ایم ای سیکٹر کو اضافی 470 ارب روپے کا قرض فراہم کرسکیں گے۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اس رعایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اضافی قرض حاصل کرسکیں گے جبکہ ایس ایم ای شعبے کے لیے سستے قرضوں کی اسکیم پہلے ہی متعارف کی جاچکی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے اس اقدام سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار چلانے والے اضافی قرض لے کر اپنی لیکوئیڈیٹی کی صورتحال کو بہتر بنا سکیں گے جو کاروبار کی بندش کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے پر یہ سہولت کاروباری ماحول کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

غیر ملکی تجارت میں رعایت

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا پہلے سے دباؤ کا شکار برآمدی شعبہ مزید متاثر ہوا ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے بھی پاکستان کی شرح نمو کو 2.9 کے بجائے 2 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے اس صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے برآمدی شعبے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے متعدد مراعات کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے مرکزی بینک نے اپنے فارن ایکسچینج قوانین میں تبدیلی اور نرمی بھی کی ہے۔ اسی طرح درآمدات پر بھی چھوٹ دی گئی ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے برآمد کنندگان کو زرِمبادلہ کے حوالے سے سہولت کا اعلان کیا ہے۔ فارن ایکسچینج ریگولیشن کے تحت برآمد کنندگان کو ایکسپورٹ آمدنی ملک میں منتقل کرنے کی مدت 180دن سے بڑھا کر 270 دن کردی ہے۔

پاکستان کے پیداواری شعبے کو خام مال، فاضل پرزہ جات اور مشینری کی درآمدات کے لیے پیشگی ادائیگی کی موجودہ حد جو اس سال جنوری میں 10 ہزار ڈالر کی گئی تھی اسے 25 ہزار ڈالر تک بڑھا دیا گیا ہے۔ درآمد کنندگان کے لیے پیشگی ادائیگی کی مدت 120 دن سے بڑھا کر 210 دن کردی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کی صنعتوں خصوصاً برآمدی صنعتوں میں پیداواری عمل کو بلاتعطل جاری رکھنا ہے۔

برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک سستے قرضے کی ایکسپورٹ ری فنانس اور طویل مدتی اسکیمیں پہلے ہی جاری کرچکی ہے، جس میں برآمدکنندگان کے لیے 3 سے 6 فیصد شرح سود پر 660 ارب روپے کا قرض برآمدی صنعتوں کو جاری کیا ہوا ہے۔

طویل مدتی قرض اسکیم میں قرض لینے کے لیے اہلیت کی شرط نرم کردی گئی ہے۔ اب 50 فیصد یا 50 لاکھ ڈالر کی برآمدات کے بجائے، اہلیت 40 فیصد یا 40 لاکھ ڈالر کردی گئی ہے جبکہ کارکردگی کا معیار 4 سال کے بجائے 5 سال کردیا گیا ہے۔

ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم میں بھی اہلیت کو نرم کردیا گیا ہے اور اب برآمد کنندگان کو اس قرض کو حاصل کرنے کے لیے دگنی برآمدات کے بجائے ڈیڑھ گنا برآمدات کو بڑھانا ہوگا۔ یہ شرط آئندہ مالی سال کے لیے لاگو رہے گی۔ ری فنانس اسکیم کی مدت میں بھی 6 ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔

برآمدی مال کی ترسیل کی مدت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے کیونکہ کورونا کی وجہ سے متعدد ملکوں میں لاک ڈاؤن ہے اور مارکیٹیں بند ہیں۔ سستے قرضوں کی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والے برآمد کنندگان کو 6 ماہ میں آرڈر کی ترسیل کرنا ہوتی ہے مگر اب اس میں مزید 6 ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔

طبّی سامان کی بیرون ملک سے خریداری

بیرون ملک سے طبّی سامان کی خریداری کے لیے اسٹیٹ بینک نے خصوصی رعایت کا بندوبست کیا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی سرکاری محکمے، ہسپتال، فلاحی تنظیمیں، صنعتکار اور تجارتی درآمد کنندگان کو اب طبّی سامان، ادویات اور دیگر ذیلی سامان کی درآمدات کے لیے پیشگی ادائیگی کی اجازت دے دی ہے اور اس پر لاگو حد کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔

سماجی فاصلے کو ممکن بنانے کے لیے ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ بینکاری کا فروغ

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اس وقت دنیا کے باقی حصوں کی طرح پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن جاری ہے۔ اس لاک ڈاؤن کا مقصد عوام میں سماجی فاصلہ پیدا کرکے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ اس حوالے سے بھی اسٹیٹ بینک نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کرنسی نوٹ بھی وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بنتے ہیں اس لیے اسٹیٹ بینک نے اپنی کرنسی نوٹوں کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ ایسے کرنسی نوٹ جو ہسپتال سے آرہے ہوں انہیں غیر معینہ مدت کے لیے قرنطینہ کردیا جائے۔ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کے آئندہ احکامات کا انتظار کیا جائے۔ اس کے علاوہ وہ کرنسی نوٹ جو دیگر ذرائع سے بینکوں کو موصول ہورہے ہیں انہیں کم از کم 14دن تک قرنطینہ میں رکھنے کے بعد دوبارہ جاری کیا جائے۔

بینکوں کو رمضان المبارک کے دوران جاری کرنے کے لیے فراہم کیے گئے نئے کرنسی نوٹوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اگر کسی بینک کے پاس صاف کرنسی نوٹ کی کمی ہو تو وہ مرکزی بینک سے حاصل کرسکتا ہے۔

اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک نے ڈیجیٹل بینکاری کو فروغ دینے کے لیے بھی بینکوں کو ہدایت جاری کی ہے اور انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے ایک بینک سے دوسرے بینک رقوم کی منتقلی پر عائد فیس کو ختم کردیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ بینکاری کے پلیٹ فارم کی صلاحیت میں اضافہ کریں، عوام کو گھر بیٹھے ہر قسم کی بینکاری سہولت فراہم کریں تاکہ وہ کرنسی نوٹ استعمال کیے بغیر اسکول فیس کی ادائیگی، رقوم کی منتقلی، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی یا دیگر لین دین کرسکیں۔ بینکوں کو اپنی ڈیجیٹل گنجائش میں اضافے کے ساتھ ساتھ سائبر سیکیورٹی بہتر بنانے اور 24 گھنٹے فون بینکنگ فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو مزید اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک کے تمام اقدامات متمول اور ایسے طبقے کے لیے ہیں جن کو بینک قرض دینے میں سہولت محسوس کرتے ہیں۔ تاہم اس سے یہ تاثر لینا کہ اسٹیٹ بینک نے کوئی قرض معاف کردیا ہے درست نہیں ہوگا۔

لیکن معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے کاروباری طبقے کو کسی حد تک سہولت ملے گی اور وہ اپنا کاروباری سلسلہ جاری رکھ سکے گا مگر یاد رکھیے کہ کورونا کی وبا پر قابو پانے میں مشکلات بڑھیں تو معیشت کو سبنھالنا مشکل نہیں بلکہ بہت مشکل ہوجائے گا۔