‎حقائق مسخ کرنے سے وزیراعظم، وزیراعلی پنجاب کی چوری چھپ نہیں سکتی،مریم اورنگ زیب

اپ ڈیٹ 05 اپريل 2020

ای میل

مریم اورنگ زیب نے فردوس عاشق اعوان کے بیان پر ردعمل دیا—فائل/فوٹو:اے پی
مریم اورنگ زیب نے فردوس عاشق اعوان کے بیان پر ردعمل دیا—فائل/فوٹو:اے پی

‎پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے چینی کے قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ پر حکومتی ترجمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق مسخ کرنے سے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی چوری چھپائی نہیں جا سکتی۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی پریس کانفرنس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مریم اورنگ زیب نے کہا کہ حکومتی ترجمان کی پریس کانفرنس ایف آئی اے کی آٹا اور چینی چوری کے حقائق سے برعکس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‎حکومتی ترجمان کی رپورٹ الگ جبکہ ایف آئی اے کی رپورٹ الگ ہے، ‎حقائق مسخ کرنے سے وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کی چوری چھپ نہیں سکتی۔

مزید پڑھیں:آٹے اور چینی کے بحران کی تفصیلی رپورٹ 25 اپریل تک جاری کردیں گے، فردوس اعوان

ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ '‎وزیراعظم کے منہ پر کرپشن کی کالک لگ چکی ہے، حکومتی ترجمان اپنے جھوٹ سے دوسروں پر ملنے کی ناکام کوشش نہ کریں، ماضی کی حکومتوں کا نام لے کر اب عمران صاحب اور بزدار صاحب کی چوری کوئی حکمران نہیں چھپا سکتا'۔

انہوں نے کہا کہ 'نواز شریف اور شہباز شریف کے دور میں کسی کی جرات نہیں تھی کہ عوام کے حق پہ ڈاکا ڈالیں، عمران صاحب تاریخ میں اس بات کی بھی نظیر نہیں ملتی کہ ملک کا وزیراعظم عوام کا آٹا اور چینی چور ہو'۔

مریم اورنگ زیب نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ '‎جن اے ٹی ایمز سے وزیراعظم کا کچن چلتاہے، پارٹی کی فنڈنگ ہوتی ہے، انہیں کو وزیراعظم نے فائدہ پہنچایا، ‎عمران خان اپنی چوری پکڑے جانے پر آخر کب تک شریف خاندان پر الزامات لگا کر چھپتے رہیں گے'۔

ایف آئی اے کی رپورٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‎حکومتی ترجمان آٹا اور چینی چوری کے حوالے سے ایف آئی اے کی رپورٹ کو غلط رپورٹ ظاہر کر کے حقائق چھپا نہیں سکتے، ‎شریف خاندان نے ایک روپے کی سبسڈی لی اور نہ چینی برآمد کی۔

مریم اورنگ زیب نے کہا کہ ‎حکومتی ترجمان بتاتیں کہ چور وزیراعظم، وزیراعلی پنجاب کو آج کس وقت ہتھکڑی لگے گی، ‎ایف آئی اے رپورٹ میں شہبازشریف کا نام نہیں اور نہ ہی اس وقت وہ حکومت میں ہیں جبکہ ‎رپورٹ میں وزیراعظم عمران خان، عثمان بزدار، جہانگیرترین اور خسرو بختیارکا نام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی عوام کو گندم، چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی

انہوں نے کہا کہ ‎حکومتی ترجمان کو اب الزامات لگانے سے پہلے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے تمام فیصلے پڑھنے چاہئیں، ‎ثبوت دینے کی جب باری آئی تو نیب نیازی گھٹ جوڑ عدالتوں سے فرار ہوگیا۔

قبل ازیں وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے چینی کے حوالے سے ایف آئی اے کی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بحران کو پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے، وزیر اعظم نے انکوائری رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کرکے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ذاتی مفادات کی آبیاری اور سمجھوتوں کی روایت نے ماضی کی سیاسی قیادت کو اس اخلاقی جرات سے محروم رکھا جس کی بنیاد پر وہ ایسی رپورٹس جاری کرنے کی ہمت کر پاتیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چینی کی برآمد اور قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کے بھائی نے اٹھایا۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال گنے کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں درحقیقت ایک فیصد زیادہ ہوئی، پچھلے سال کے مقابلے میں کم رقبے پر گنے کی کاشت کی گئی'۔

رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ گزشتہ چند سالوں کے دورن چینی کی پیداوار مقامی ضرورت سے کہیں زیادہ تھی جس کی وجہ سے اس پہلو کی تحقیقات کرنا اور اسے شامل کرنا ضروری تھا کہ چینی کی برآمدات میں دی گئی سبسڈی، مقامی سطح پر چینی کی قیمت پر مرتب ہونے والے اثرات اور ان سبسڈیز سے کس نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔

مزید پڑھیں:چینی کی برآمد، قیمت میں اضافے سے جہانگیر ترین کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا، رپورٹ

دستاویز کے مطابق سال 17-2016 اور 18-2017 میں چینی کی پیداوار مقامی کھپت سے زیادہ تھی اس لیے اسے برآمد کیا گیا۔

ملک میں چینی کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں 2018 میں چینی کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے اور اس کے نتیجے میں پنجاب کی جانب سے 3 ارب روپے کی سبسڈی دینے کو بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2018 میں تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو اس وقت میں ملک میں چینی ضرورت سے زیادہ تھی، اس لیے مشیر تجارت، صنعت و پیداوار کی سربراہی میں شوگر ایڈوائزری بورڈ (ایس اے بی) نے 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی سفارش کی جس کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بھی منظوری دی، حالانکہ سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی نے اگلے سال گنے کی کم پیداوار کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

تاہم چینی کی برآمد کی اجازت دے دی گئی اور بعد میں پنجاب حکومت نے اس پر سبسڈی بھی دی۔

کمیٹی کی رپورٹ میں چینی کی برآمد اور قیمت میں اضافے سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں کے نام بھی سامنے لائے گئے ہیں جس کے مطابق اس کا سب سے زیادہ فائدہ جے ڈی ڈبلیو (جہانگیر خان ترین) کو ہوا اور اس نے مجموعی سبسڈی کا 22 فیصد یعنی 56 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد سب سے زیادہ فائدہ آر وائی کے گروپ کو ہوا جس کے مالک مخدوم خسرو بختیار کے بھائی مخدوم عمر شہریار خان ہیں اور انہوں نے 18 فیصد یعنی 45 کروڑ 20 روپے کی سبسڈی حاصل کی۔

اس گروپ کے مالکان میں چوہدری منیر اور مونس الہٰی بھی شامل ہیں جبکہ اس کے بعد تیسرے نمبر پر زیادہ فائدہ المُعیز گروپ کے شمیم احمد خان کو 16 فیصد یعنی 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کی صورت میں ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شمیم احمد خان کی ملکیت میں موجود کمپنیوں نے گزشتہ برس چینی کی مجموعی پیداوار کا 29.60 فیصد حصہ برآمد کیا اور 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کی سبسڈی حاصل کی۔

رپوورٹ کے مطابق اومنی گروپ جس کی 8 شوگر ملز ہیں اس نے گزشتہ برس برآمداتی سبسڈی کی مد میں 90 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل کیے، خیال رہے کہ اومنی گروپ کو پی پی پی رہنماؤں کی طرح منی لانڈرنگ کیس کا بھی سامنا ہےْ۔

تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس اہم پہلو کو بھی اٹھایا ہے کہ برآمدی پالیسی اور سبسڈی کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے سیاسی لوگ ہیں جن کا فیصلہ سازی میں براہ راست کردار ہے، حیران کن طور پر اس فیصلے اور منافع کمانے کی وجہ سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا اور اس کی قیمت بڑھی۔

وزیراعظم سمیت چینی چوروں کو گرفتار کیا جائے، رانا ثنااللہ

پاکستان مسلم لیگ(ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ نے ایف آئی اے کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم سمیت دیگر چینی چور مجرمان کو گرفتار کیا جائے، ایف آئی اے کی رپورٹ میں آٹا اور چینی چوروں کی نشان دہی ہوچکی ہے اب بلا تاخیر گرفتار کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران نیازی، وزیراعلی عثمان بزدار، جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کو ہتھکڑی لگائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ چئیرمین نیب اپنا قانونی فرض ادا کریں، عمران خان اور جہانگیر ترین سے نہ ڈریں کیونکہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کو کسی بہانے معاف نہیں کیا جاسکتا۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ چوروں کا اصل چہرہ قوم کے سامنے آگیا ہے۔