معروف یوٹیوبر نادر علی پر ٹیکس جمع نہ کروانے کا الزام

اپ ڈیٹ 08 اپريل 2020

ای میل

نادر علی کے یوٹیوب کو لاکھوں کی تعداد میں لوگ سبسکرائب کرچکے ہیں، فوٹو: یوٹیوب
نادر علی کے یوٹیوب کو لاکھوں کی تعداد میں لوگ سبسکرائب کرچکے ہیں، فوٹو: یوٹیوب

اسلام آباد: نادر علی کا شمار پاکستان کے کامیاب سوشل میڈیا اسٹار کے طور پر کیا جاتا ہے جو اپنی مزاحیہ ویڈیوز سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں تاہم اب ٹیکس حکام نے انہیں ٹیکس کا نوٹس بھیجتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نادر علی کے ذمہ ایک کروڑ 30 لاکھ روپے کا ٹیکس واجب الادا ہے۔

نادر علی یوٹیوب پر ’پی فار پکاؤ‘ نامی چینل پر مزاحیہ ویڈیوز ریلیز کرتے ہیں جبکہ ان کے چینل کو اب تک 30 لاکھ سے زائد افراد سبسکرائب کرچکے ہیں۔

نادر علی کی ویڈیوز کو ریلیز کے بعد چند ہی منٹوں میں لاکھوں کی تعداد میں ویوز اور لائکس مل جاتے ہیں جبکہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان کے چینل کو اب تک 82 کروڑ ویوز مل چکے ہیں، جس کے باعث نادر علی کے یوٹیوب چینل کا شمار پاکستان کے سب سے بڑے یوٹیوب چینلز میں کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: یوٹیوب نے بڑا سنگ میل طے کرلیا

تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کچھ عرصے سے نادر علی سے اپنی آمدنی چھپانے کے حوالے سے تفتیش کررہی ہے، البتہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس تحقیقات کا آغاز کب ہوا تھا۔

محکمہ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن سے وابستہ افراد کے مطابق تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں اور اس معاملے کو ٹیکس کی وصولی کے لیے کراچی کے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو ٹیکس آفس بھیج دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ٹیکس عہدیداروں نے ڈان کو بتایا کہ تفتیش کے دوران نادر علی کو متعدد نوٹسز بھیجے گئے تاہم انہوں نے کسی ایک کا جواب نہیں دیا اور اب ان کے پاس کراچی کے آر ٹی او آفس میں کمشنر کی اپیل سے پہلے اس فیصلے پر اپیل کرنے کا اختیار موجود ہے۔

ایف بی آر عہدیداروں کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جب کسی فرد نے آن لائن مواد سے کمائی بڑی آمدنی کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے ظاہر نہ کیا ہو۔

پاکستانی آن لائن اسٹارز کی بات کی جائے تو نادر علی کی کہانی خاصی متاثر کن ہے، جو ایک معمولی کامیڈین سے صرف 4 برسوں میں انٹرنیٹ اسٹار بن گئے، انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل کا آغاز 2016 مئی کو کیا اور اب فیس بک اور انسٹاگرام پر بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

ایک رہائشی ہونے کی حیثیت سے، نادر علی نے 13 اکتوبر 2017 میں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ ہوئے اور 2016 سے 2019 تک کے ٹیکس ریٹرن فائل کیے، پہلے دو برسوں (2016 اور 2017) میں انہوں نے اپنی آمدنی کچھ بھی ظاہر نہیں کی جبکہ اگلے دو برسوں (2018 اور 2019) میں ان کی آمدنی بالترتیب 8 لاکھ 9 ہزار 762 اور ایک کروڑ 44 لاکھ 40 ہزار روپے ظاہر کی گئی۔

ایف بی آر کی تفتیش سے پتہ چلا کہ نادر علی کے ٹیکس ریٹرن میں ان کی آمدنی کا پورا ریکارڈ موجود نہیں، جس کے باعث انہیں اس بات پر یقین ہوگیا کہ نادر علی نے اپنی آمدنی کو چھپا رکھا ہے۔

مزید تفصیلات میں یہ بات سامنے آئی کہ 2017 میں نادر علی کی مجموعی آمدنی 21 لاکھ 86 ہزار روپے، 2018 میں 2 کروڑ 83 لاکھ 35 ہزار اور 2019 میں 4 کروڑ 67 لاکھ 62 ہزار روپے تھی۔

خیال رہے کہ ایف بی آر نے ادائیگی کی تفصیلات کی تصدیق یوٹیوب کے ذریعے کی۔

اس کے علاوہ، ٹیکس دہندہ نے ایک سال میں ایک کروڑ سے زائد زرمبادلہ بھی وصول کیا، جس پر محکمہ ٹیکس کو ثبوت پیش کیے بغیر استثنیٰ کا دعوی کیا گیا تھا، علاوہ ازیں اس دوران ٹیکس دہندہ نے ایک بینک اکاؤنٹ بھی رکھا جس کا ذکر انہوں نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات (ویلتھ اسٹیٹ منٹ) میں نہیں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ کو رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کی پیشکش

یہاں یہ واضح رہے کہ یہ کیس ایف بی آر کی آن لائن آمدنی کے دائرے تک اپنی وسعت کو بڑھانے کی جاری کوششوں میں پہلا سنگ میل ہے، ایک طرف سوشل میڈیا اسٹارز اور نامور شخصیات یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ٹوئٹر جیسے پلیٹ فارمز پر اپنے کاروبار کو بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں وہیں اس کے نتیجے میں ہونے والی آمدنی کی نشاندہی کرنے کے لیے ٹیکس حکام اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

آنے والے دنوں میں، بہت سارے دوسرے سوشل میڈیا اسٹارز اور نامور شخصیات کو بھی ایف بی آر کی جانب سے کال موصول ہوسکتی ہے جو آن لائن مواد سے آمدنی کمارہے ہیں۔

ایف بی آر کے سینئر عہدیدار کے مطابق ’لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ آن لائن مواد سے کمائی جانے والی آمدنی پر بھی ٹیکس بھرنا ضروری ہے اور اس کے لیے 5 سال کا ریکارڈ رکھنا ضروری ہے اور اسے سالانہ ریٹرن فائل میں بھی ظاہر کیا جائے‘۔

دوسری جانب اپنے وکیل کے توسط سے ڈان سے بات کرتے ہوئے نادر علی نے ایف بی آر کو جواب نہ دینے کے الزام کو مسترد کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہمیں ان کا نوٹس موصول ہوا اور ہم نے اس کا جواب بھی دیا اور وقت میں توسیع کی درخواست کی اور ہماری یہ درخواست منظور بھی ہوئی، اب ہم مناسب طریقے سے ان معاملات کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔


یہ خبر 8 اپریل 2020 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی