پنجاب نے گندم اسد عمر کی ہدایات پر برآمد کی، سابق وزیر

اپ ڈیٹ 08 اپريل 2020

ای میل

سابق وزیر خوراک پنجاب کے مطابق اسد عمر نے وفاقی وزیر خزانہ کی حیثیت سے مخالفت کے باوجود گندم برآمد کرنے کا مطالبہ کیا تھا — فائل فوٹو:رائٹرز
سابق وزیر خوراک پنجاب کے مطابق اسد عمر نے وفاقی وزیر خزانہ کی حیثیت سے مخالفت کے باوجود گندم برآمد کرنے کا مطالبہ کیا تھا — فائل فوٹو:رائٹرز

لاہور: ایک روز قبل پنجاب کے وزیر خوراک کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا کے سامنے آنے پر سمیع اللہ چوہدری نے دعوٰی کیا ہے کہ اسد عمر نے اس وقت کے وفاقی وزیر خزانہ کی حیثیت سے مخالفت کے باوجود گندم برآمد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

گندم کے آٹے کے بحران سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ کی 'سازش' میں ملوث قوتوں کو بے نقاب کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیٹی نے کبھی بھی ان کو تحقیقات کے لیے طلب کرنے کی خواہش نہیں کی۔

اسد عمر نے بطور وفاقی وزیر خزانہ گزشتہ سال کے اوائل میں اسلام آباد میں ایک اعلٰیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی تھی اور اس وقت پنجاب میں 7.2 ملین ٹن گندم کا ذخیرہ برآمد کرنے کو کہا تھا۔

مزید پڑھیں: گندم بحران تحقیقاتی رپورٹ: صوبائی وزیر خوراک مستعفیٰ، 2 بیوروکریٹس سبکدوش

ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس اقدام کی مخالفت کی کیونکہ حکومت کو برآمدات کے لیے سبسڈی (دنیا کے نرخوں سے اناج مہنگا ہونے کی وجہ سے) فراہم کرنا ہوگی‘۔

انہوں نے کہا کہ 'میں نے ان سے کہا کہ ملک سبسڈی دینے کا متحمل نہیں ہے اور اسٹاک کو مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کا مشورہ دیا (مقامی آبادی کی بھلائی کے لیے)، اسلام آباد اور خیبر پختونخوا میں فلور ملوں کو اب بھی سبسڈی مل رہی ہے'۔

سمیع اللہ چوہدری نے بتایا کہ انہوں نے ایف آئی اے کی ڈی جی کی زیر قیادت انکوائری کمیٹی کو بھی اپنی رپورٹ میں اس حقیقت کو شامل کرنے کو کہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گندم کی خریداری میں کمی آٹے کے بحران کی وجہ بنی، رپورٹ

ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد اور کے پی ملوں کو فراہم کی جانے والی گندم پر دی جانے والی سبسڈی کی قیمت، پنجاب غیر منصفانہ طور پر اٹھا رہا ہے، فائدہ اٹھانے والوں کو لازمی طور پر اس کی ذمہ داری بانٹنی چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پنجاب نے گزشتہ سال پیدا ہونے والی گندم کا 83 فیصد خریدا جب کہ دیگر کسی اور صوبے نے اناج نہیں خریدا (جس کے نتیجے میں بعد میں آٹے کا بحران 2019 میں ہوا تھا)۔

انہوں نے ایف آئی اے کی رپورٹ کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے اس کے مقاصد کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ انکوائری کمیٹی کے ممبران ذمہ داری طے کرنے پر تلے ہوئے تھے، خواہ وہ صحیح ہوں یا غلط کیوں کہ وزیر اعظم نے انہیں یہ کام سونپ دیا تھا‘۔

سابق صوبائی وزیر نے دعوٰی کیا کہ کمیٹی نے انہیں کبھی طلب نہیں کیا اور وہ خود ہی تحقیقات میں شامل ہوئے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کمیٹی نے نہ تو ان کے بیان کو صحیح طریقے سے ریکارڈ کیا اور نہ ہی وہ خطوط جو انہوں نے محکمے کو لکھے ہیں، انہیں رپورٹ کا حصہ بنایا گیا۔