‘کورونا کی وبا نصف ارب لوگوں کو غربت میں دھکیل سکتی ہے‘

اپ ڈیٹ 09 اپريل 2020

ای میل

رپورٹ کے مطابق مشرقی ایشیا کے لوگ بھی غربت میں چلے جائیں گے —فوٹو: اے ایف پی
رپورٹ کے مطابق مشرقی ایشیا کے لوگ بھی غربت میں چلے جائیں گے —فوٹو: اے ایف پی

اقوام متحدہ (یو این) اور عالمی ادارے آکسفیم کی تازہ رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس کی وبا سے دنیا بھر میں نصف ارب لوگ غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

آکسفیم اور اقوام متحدہ سمیت دیگر معاشی و فلاحی ادارے پہلے ہی کورونا کی وبا سے ترقی پذیر ممالک میں معاشی مسائل بڑھ جانے سے متعلق آگاہ کر چکے ہیں اور بتا چکے ہیں کہ وبا متوسط آمدنی والے ممالک کی معیشت کو کمزور کر سکتی ہے۔

متوسط اور کم آمدنی والے ممالک میں کورونا کی وجہ سے غربت بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جانے کے بعد دنیا کے 100 معاشی و فلاحی اداروں نے دنیا کے امیر ممالک سے مطالبہ بھی کیا تھا کہ وہ غریب ممالک کو مالی مدد فراہم کریں۔

آکسفیم نے بھی گزشتہ ماہ 30 مارچ کو دنیا کے امیر ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غریب اور متوسط ممالک کو وبا کی وجہ سے غربت میں چلے جانے سے بچانے کے لیے کردار ادا کرتے ہوئے ان کے لیے 160 ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کریں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: اقوام متحدہ کے 2 ارب ڈالر کے امدادی منصوبے کا آغاز

اور اب آکسفیم سمیت اقوام متحدہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عین ممکن ہے کہ وبا کی وجہ سے دنیا کے غریب افراد میں نصف ارب لوگوں کا اضافہ ہو۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں 40 سے 60 کروڑ افراد غربت میں چلے جائیں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر ایسا ہوتا ہے کہ تو یہ اقوام متحدہ کے غربت کے خاتمے کے 2030 کے وژن میں بھی رکاوٹ ہوگی اور اس سے اہداف کو حاصل کرنا مشکل ہوجائے گا۔

رپورٹ کے مطابق افریقہ و جنوبی ایشیا میں بھی غربت میں اضافہ ہوگا — فوٹو: اے پی
رپورٹ کے مطابق افریقہ و جنوبی ایشیا میں بھی غربت میں اضافہ ہوگا — فوٹو: اے پی

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کے لیے مذکورہ رپورٹ کنگز کالج لندن اور آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ماہرین نے کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا، جس سے عندیہ ملا کہ وبا کے پھیلاؤ سے تقریبا نصف ارب لوگ غربت میں چلے جائیں گے۔

اسی حوالے سے برطانوی اخبار دی گارجین نے بتایا کہ عالمی فلاحی و مالیاتی ادارے آکسفیم نے بھی بتایا کہ کورونا کی وبا سے دنیا بھر میں تقریبا نصف ارب لوگ غربت میں جا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں غریب لوگوں میں اضافے کے بعد دنیا کے 7 ارب 80 کروڑ انسانوں میں سے نصف لوگ غربت کی زندگی گزار رہے ہوں گے جو پہلے ہی پینے کے صاف پانی کی قلت سمیت غذائی بحران و بیماریوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے غربت میں چلے جانے والے نصف ارب لوگوں میں سے ایک تہائی افراد کا تعلق افریقہ اور جنوبی ایشیائی خطے سے ہوگا۔

مزید پڑھیں: امیر ممالک کورونا سے نمٹنے کے لیے غریب ممالک کو امداد دیں، آکسفیم

رپورٹ کے مطابق کورونا کی وبا سے غربت میں چلے جانے والے 40 فیصد افراد کا تعلق مشرقی ایشیائی اور بحرالکاحل کے خطے سے ہوگا۔

عالمی اداروں کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آئندہ ہفتے عالمی بینک، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور دنیا کے 20 بڑے معاشی و امیر ممالک کے وزرائے خزانہ کا اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے۔

عالمی اداروں نے ایک بار پھر دنیا کے امیر ممالک و مالیاتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک کی مالی مدد کے لیے منصوبہ بندی بنائیں تاکہ لوگوں کو غربت میں جانے سے روکا جا سکے۔

عالمی اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اٹھنے والے اسی بحران کی وجہ سے افریقہ و جنوبی ایشیا کے متعدد ممالک تقریبا تین دہائیاں پیچھے چلے جائیں گے۔