پاکستان میں رواں سال نمو منفی 1.5 فیصد ہوگی، آئی ایم ایف کی پیش گوئی

اپ ڈیٹ 15 اپريل 2020

ای میل

واشنگٹن میں قائم آئی ایم ایف کا ہیڈ کوارٹر - فائل فوٹو:ڈان
واشنگٹن میں قائم آئی ایم ایف کا ہیڈ کوارٹر - فائل فوٹو:ڈان

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کورونا وائرس سے متعلقہ ’دی گریٹ لاک ڈاؤن‘ کے بعد دنیا بھر کی معیشتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی معاشی بحران کی پیش گوئی کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں مالی سال کے دوران گزشتہ سال کے 3.3 فیصد کے نمو کے مقابلے میں پاکستان کی معیشت 1.5 فیصد تک سکڑ جائے گی۔

خیال رہے کہ یہ اندازہ عالمی بینک کی جانب سے ملک کے معاشی آؤٹ پٹ میں 1.3 فیصد کمی کے ساتھ عام موازنہ ہے۔

آئی ایف ایف کے سالانہ جاری ہونے والے ’عالمی معاشی منظرنامے' میں کہا گیا کہ ’وبا کے نتیجے میں عالمی معیشت 2020 میں 3 فیصد تک سکڑ جائے گی جو 09-2008میں آنے والے مالیاتی بحران سے بھی کہیں زیادہ برا ہے‘۔

مزید پڑھیں: وزیرخارجہ کی برطانوی ہم منصب کو فون، معاشی حوالے سے تشویش سے آگاہ کردیا

اس منظرنامے میں کہا گیا کہ ’اس بات کا بہت امکان ہے کہ رواں سال عالمی معیشت اپنی شدید بدحالی کا سامنا کرے گی جو ایک دہائی قبل دی گریٹ ڈپریشن (کساد عظیم) کی وجہ سے آنے والے عالمی مالیاتی بحران سے بھی بڑا ہوگا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن سے عالمی ترقی کی شرح سکڑنے کی پیش گوئی کی جارہی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ صحت کی اس ہنگامی صورتحال اور اسے روکنے کے اقدامات سے وابستہ آؤٹ پٹ میں ہونے والا نقصان ممکنہ طور پر ان نقصانات کو پیچھے چھوڑ دیں گے جو 09-2008 کے بحران کے دوران ہوئے تھے۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ مالی سال 2021 کے لیے آئی ایم ایف نے توقع کی تھی کہ 5.8 فیصد کے عالمی سطح پر معاشی بحالی کے دوران ملک کی معیشت 2 فیصد تک بڑھے گی تاہم عالمی بینک نے کہا تھا کہ مالی سال 21-2020 میں پاکستان کی معاشی نمو 0.9 فیصد پر خاموش رہے گی جبکہ مالی سال 2022 میں یہ 3.2 فیصد تک پہنچے گی۔

یہ بھی پڑھیں: معاشی پیکج: پیٹرولیم مصنوعات اگلے 3 ماہ میں مزید سستی ہوں گی، مشیر خزانہ

آئی ایم ایف کے اندازوں میں تجویز دی گئی کہ تمام بڑی معیشتیں منفی میں جائیں گی سوائے چند کے جن میں چین اور بھارت شامل ہیں جو بالترتیب 1.2 فیصد اور 1.9 فیصد تک بڑھے گی۔

ان دونوں ممالک کے بارے میں پیش گوئی کی گئی کہ یہ آئندہ مالی سال تک 9.2 فیصد اور 7.4 فیصد تک بحال ہوجائیں گی۔

آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی رواں سال کنزیومر پرائز انڈیکس 11.1 فیصد تک بڑھے گا تاہم آئندہ سال یہ کم ہوکر 8 فیصد آجائے گا۔

اس نے 2019-20 میں جی ڈی پی کے 1.7 فیصد تکک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کا بھی اندازہ لگایا جو اگلے مالی سال میں بڑھ کر 2.4 فیصد تک ہوجائے گا۔

اس کے علاوہ اگلے مالی سال میں ملک میں بے روزگاری کی شرح 4.5 فیصد اور آئندہ مالی سال 5.1 فیصد متوقع ہے۔

آئی ایم ایف ننے اندازہ لگایا گیا کہ امریکا اور یورپی یونین کی معیشتوں کو ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھانا پڑے گی جو گزشتہ سال شائع ہونے والی 1.7 فیصد اور 1.2 فیصد کی شرح کے مقابلے میں بالترتیب 5.9 فیصد اور 7.5 فیصد کے ساتھ سکڑ رہی ہے۔

قرضوں میں ریلیف

دریں اثنا آئی ایم ایف نے کورونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 25 ممالک کے لیے فوری طور پر قرضوں میں ریلیف کی منظوری دے دی ہے۔

پاکستان سمیت 90 سے زائد ممالک معاشی ریلیف کے خواہاں ہیں کیونکہ مہلک وائرس پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔