وزیراعظم کا کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے درست اعداد وشمار مرتب کرنے پر زور

اپ ڈیٹ 17 اپريل 2020
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کو علم ہونا چاہیئے کہ کس علاقے میں بیماری زیادہ پھیل رہی ہے—تصویر: پی آئی ڈی
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کو علم ہونا چاہیئے کہ کس علاقے میں بیماری زیادہ پھیل رہی ہے—تصویر: پی آئی ڈی

اسلام آباد: وزیراعظم نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فیصلہ سازوں کو درست اعداد و شمار درکار ہیں۔

رمضان کے مہینے میں وبا کو قابو کرنے کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریٹنگ سینٹر کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک کے تمام بڑے شہروں میں کووِڈ 19 کے مریضوں کے علاج کے لیے قرنطینہ مراکز قائم کیے جائیں گے۔

اجلاس میں شریک ایک فرد نے ڈان کو بتایا کہ ’وزیراعظم نے کراچی کے ایک ہسپتال میں ایک ہفتے کے دوران ہوئیں سیکڑوں اموات کی رپورٹس اور ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے گزشتہ 15 روز کے دوران 300 لاشیں موصول ہونے کے بیان پر تشویش کا اظہار کیا، اس لیے انہوں نے کووِڈ 19 کے مریضوں اور اموات کے درست اعداد و شمار اکٹھے کرنے کا حکم دیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم، پاکستان کیلئے جی-20 ممالک، آئی ایم ایف کے قرض ریلیف اقدامات کے معترف

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کو علم ہونا چاہیے کہ کس علاقے میں بیماری زیادہ پھیل رہی ہے تا کہ پالیسی میکرز، ڈاکٹرز اور دیکھ بھال کرنے والے اپنے اوپر عائد ذمہ داریوں کے حجم کا اندازہ کرسکیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا کہ ’ہمیں ہر علاقے میں ہونے والی اموات اور ان کی وجوہات کا علم ہونا چاہیے تا کہ ہر موت کو کووِڈ 19 میں نہ شمار کیا جاسکے‘۔

ساتھ ہی وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہر بڑے شہر میں اس طرح کے مراکز قائم کرنے کی ہدایت کی جیسا کہ فرنٹیئر ورکرز ورکس آرگنائزیشن نے اسلام آباد میں 250 بستروں پر مشتمل قرنطینہ مرکز قائم کیا۔

مزید پڑھیں: کیا کراچی میں پراسرار اموات کورونا وائرس کی وجہ سے ہورہی ہیں؟

اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں کورونا کی شناخت، تشخیص اور قرنطینہ کی سہولتوں سے آگاہ کیا، اس کے علاوہ انہوں نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد، اموات اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے اندازوں پر گفتگو کی۔

چیئرمین نیشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے اجلاس کو کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ہسپتالوں میں طبی آلات کی تقسیم کے انتظامات سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے کم خطرے والے کاروبار کھولنے پر اطمینان کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی قوم کو نصیحت کی کہ احتیاطی تدابیر پر عمل جاری رکھا جائے اور کہا کہ ’عوام رش کی جگہ پرجانے کے وقت ماسک استعمال کریں اور سماجی فاصلے کو برقرار رکھیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: مساجد کیلئے ہفتہ تک ایس او پیز بنا لیں گے، وزیر اعلیٰ سندھ

اس کے علاوہ انہوں نے بالخصوص دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے کووِڈ 19 سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم کو ماہِ رمضان کے دوران عوام کو نماز کے اجتماعات میں شرکت کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانے کے بارے میں آگاہی دینے کے منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کا اس سلسلے میں رہنما ہدایات تشکیل دینے کے لیے بڑے علما کے ساتھ اجلاس طلب کرنے کا ارادہ ہے‘۔

ساتھ ہی وزیراعظم نے عالمی وبا سے لڑنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں ’کورونا وائرس کی جنگ کے مجاہدین قرار دیا‘۔


یہ خبر 17 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

تبصرے (0) بند ہیں