کیا سارک تمام تر اختلافات کو بھلا کر کورونا سے جنگ لڑ سکتا ہے؟

19 اپريل 2020

ای میل

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کو 'عالمی صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتحال' قرار دیے ہوئے اب 2 ماہ گزر چکے ہیں لیکن عالمی رہنما تاحال اس وبائی پھوٹ کو پوری طرح سے سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ جنوبی ایشیا اپنی سیاسی تقسیم اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باعث کٹھن چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔

اگرچہ جنوبی ایشیا میں رپورٹ شدہ کیسوں کی تعداد نسبتاً کم ہے لیکن اس خطے کے ملکوں میں تشخیصی جانچ کے محدود اور قابلِ اعتراض معیار کے ساتھ طبّی سہولیات کی کمی کے پیش نظر یہاں وبائی پھوٹ کی شدت اختیار کرنے اور بحران سے نمٹنے کی تیاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بہرحال یہ بحران جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کے ممالک یعنی افغانستان، پاکستان، ہندوستان، مالدیپ، نیپال، سری لنکا، بھوٹان اور بنگلہ دیش کو ایک موقع فراہم کرسکتا ہے کہ وہ مل کر اس وبائی امراض کا مقابلہ کریں۔

مشترکہ تعاون کے لیے ہندوستان نے ایک کروڑ امریکی ڈالر، پاکستان نے 30 لاکھ امریکی ڈالر، سری لنکا نے 50 لاکھ امریکی ڈالر ، بنگلہ دیش نے 15 لاکھ ڈالر، نیپال اور افغانستان نے 10، 10 لاکھ ڈالر، مالدیپ نے 2 لاکھ ڈالر اور بھوٹان نے ایک لاکھ امریکی ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔

‘کووڈ-19 کے حوالے سے اقدامات پر تبادلہ خیال کے لیے سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس
‘کووڈ-19 کے حوالے سے اقدامات پر تبادلہ خیال کے لیے سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس

ذوفین ٹی ابراہیم نے پاکستانی وزیر اعظم کی ہیلتھ ٹاسک فورس اور عالمی ادارہ صحت پاکستان کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تشکیل دی جانے والی مشاورتی کمیٹی کے ممبر ذوالفقار اے بھٹہ سے بات کی، اور ان سے پوچھا کہ سارک کے لیے اس مشن میں شامل ہونا کیوں ضروری ہے؟

کیا جنوبی ایشیا کے سائنسدان اور طبی برادری اس وبائی مرض سے نمٹنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟

جی ہاں بالکل اہلیت رکھتے ہیں، لیکن یہ اس وقت ہی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم آپسی اختلافات کو ایک طرف رکھیں اور مل کر کام کریں۔ لیکن اگر اس خطے کے لوگ ایک دوسرے کے لیے تعصب اور کینہ رکھیں گے تو یہ کام ممکن نہیں ہوگا۔

سیاستدانوں کے برعکس کورونا وائرس سیاسی حدود یا مذہب کی بنیاد پر لوگوں میں فرق نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کو یکساں طور پر متاثر کرتا ہے۔ آغاز کے طور ہر ملک کی حکومت کو اپنے سائنسدانوں اور صحتِ عامہ کے ماہرین کو اہمیت دینا ہوگی، لیکن ان کو بمشکل ہی مشاورت کے لے بلایا جاتا ہے بلکہ جو افراد حکومت کے اندرونی حلقے تک پہنچنے میں کامیاب ہوبھی جاتے ہیں ان کے مشوروں کو اکثر سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اور ان کے مجوزہ اقدامات پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔

ہم جانتے ہیں کہ حکومتوں کو تعاون اور اعتماد بحال کرنے اور معلومات کے تبادلے میں مشکل پیش آتی ہے۔ کیا سائنسی برادری بھی اس مسئلے سے دوچار ہے؟

سارک سیکریٹریٹ صحت عامہ کے اقدامات اور وبا کی تیاریوں کے سلسلے میں کتنا غیر فعال رہا ہے اس کی ایک بہترین مثال موجودہ عالمی وبا کا بحران ہے کہ جس میں تاخیری سربراہی اجلاس کے بعد، وزرائے صحت کو ایک دوسرے سے رابطے میں آنے کے لے ایک ماہ کا وقت لگا۔

یہی نہیں بلکہ عملی طور پر صحت عامہ کے رہنماؤں اور سائنسدانوں کو ایک جگہ لانے کے لیے کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی گئی ہے۔ یہ سب علاقائی سیاست اور عدم اعتماد کا ہی نتیجہ ہے۔ ممکن ہے کہ سائنسی برادری میں تعصب کم ہو لیکن وہ بھی قوم پرستی کے گھمنڈ اور دباؤ سے محفوظ نہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے عہد کے اس بڑے صحت عامہ کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومتیں انفرادی اور یونیورسٹی سطح پر تبادلوں پر عائد پابندیاں ختم کردیں۔

ذوالفقار اے بھٹہ
ذوالفقار اے بھٹہ

کیا اب بھی ایک ایسا مرکز تیار کرنے کا وقت ہے جہاں معلومات اکٹھی کی جاسکیں، تجاویز کی جانچ اور حل تیار کیے جاسکیں؟ یہ مرکز کہاں ہوگا؟ اس کا عملہ کہاں سے آئے گا؟

جی بالکل، سارک سیکریٹریٹ کو اس کام میں سہولت فراہم کرنی چاہیے۔ وبائی صورتحال کی تازہ معلومات، وبا سے متعلق علم، رسک بڑھانے والے عناصر کے جائزوں، وبائی پھیلاؤ کی روک تھام اور علاج کے لیے اپنائے جانے والے طریقوں کے تبادلے کے ساتھ ساتھ بنیادی تحقیق کی سہولت فراہم کرنی چاہیے۔ اس خطے کے ممالک اور بالخصوص وہاں کے دیہی علاقوں میں صحت عامہ کا ناقص معیار یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہمیں ایک جٹھ ہو کر اس بحران کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

ایک جٹھ ہو کر اس بحران کا مقابلہ کرنا کیوں ضروری ہے؟

ہمارا ایک مشترکہ دشمن ہے جسے پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہے اور وہ خطے کے ایک ملک سے دوسرے ملک میں خاموشی سے منتقل ہوسکتا ہے۔ اگر خطے کو 1918ء-1919ء کے انفلوئنزا جیسی 60 لاکھ سے ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کی جانیں لینے والی تباہ کاری سے بچانا ہے تو ہمیں متحد ہوکر کام کرنا ہوگا، ایک دوسرے سے معلومات بانٹنی ہوں گی، نتائج کا ڈیٹا بیس تیار کرنے کے ساتھ ساتھ وبا کی روک تھام اور علاج کے لیے معیاری طرز عمل اپنانا ہوگا۔

کیا آپ کے پاس اس حوالے سے کوئی جامع مرحلہ وار منصوبہ ہے؟

پہلا قدم اعتماد سازی اور مشترکہ وسائل اور مواصلاتی مرکز کی تعمیر ہے۔ میں اس پر کام کر رہا ہوں۔ اس کام کے لیے ضروری ہے کہ مختلف سطحوں پر باہمی تعاون بحال اور غیر ضروری جمود کو توڑا جائے۔ خطے کے اندر طلباء ، ماہرین تعلیم اور محققین کے مابین تعاون کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ یہاں کاروباری افراد / اسٹارٹ اپس (مقامی کاروباری اداروں)، ریاست (جو سیکیورٹی پلان مہیا کرسکتی ہے)، اور صنعت (جیسے بایو ٹیکنالوجی، دواسازی) کے مابین 3 طرفہ تعاون قائم کرتے ہوئے ملکی اور علاقائی سطح کے رابطے بحال کیے جاسکتے ہیں۔

اس کام کے لیے مرکز اور صوبوں کے مابین مربوط رابطہ بھی ضروری ہے۔ چونکہ خطے میں جدید دواسازی اور بائیوٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم موجود ہیں اس لیے تعاون کے قیام سے جلد کم لاگت اور اعلیٰ معیار کے تشخیصی نظام اور وقت کے ساتھ ساتھ ویکسین کی تیاری اور علاج معالجے کے طریقوں کو دریافت کرنا ممکن ہوجائے گا۔

تعاون کا تیسرا پڑاؤ اس وقت ملکوں کے مابین اور ان کے اندر دشواریاں پیش کی ہوئی ہیں (وفاقی اور صوبائی سطحوں پر تعلق)۔ پاکستان جیسے ملک کے اندر مرکز اور صوبوں کے مابین بات چیت صرف وزرائے صحت، حکومتی عہدیداروں اور صحت میں ترقیاتی شراکت داروں کے مابین ویڈیو کانفرنسوں تک ہی محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ فنانس، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو بھی اس میں شامل رکھا جائے۔

ممکن ہے کہ آپ کا تجویز کردہ حل مفید ہو، لیکن پیسے کہاں سے آئیں گے؟ اس کے لیے درکار سامان اور تربیت یافتہ انسانی وسائل کا انتظام کیسے ہوگا؟

یہ ایک مرحلہ وار عمل ہوگا اور مجھے پورا یقین ہے کہ اچھے منصوبوں کی سہولت کاری کے لیے اس خطے میں مناسب وسائل موجود ہیں۔ پہلا مرحلہ ایک ایسے پورٹل کی تیاری ہے جہاں ہم فکری و علمی کوششوں اور وسائل کو ایک جگہ لاسکیں۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے موجودہ فنڈز اور وقت کو استعمال کیا جاسکتا ہے اور دوسرے اس میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سارک کے پاس اس کے لیے معقول وسائل موجود ہیں اور پھر سہولت کاری کے لیے عالمی مدد ہمیشہ ہی دستیاب ہوتی ہے۔ یاد رکھیں منصوبے روپے کی پیروی نہیں بلکہ روپے منصوبے کی پیروی کرتے ہیں۔

اس علاقائی تعاون کا مستقبل کیا ہے؟

ہمیں اپنی بھرپور تیاری رکھنی ہوگی۔ یہ مستقبل کی محض ایک جھلک ہے اور ایسے واقعات آگے بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ کل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمیں آج سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

کورونا وائرس نے شعبہ صحت میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو اُجاگر کیا ہے جسے ہمیشہ غیرضروری خرچہ سمجھا گیا۔ اس شعبے میں بہت سی کمزوریاں ہیں جسے اس وائرس نے بے نقاب کیا ہے۔

مثال کے طور پر ، وبائی بیماریوں کی نگرانی اور کنٹرول کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ بحران سے نمٹنے کے لیے برطانیہ اور امریکا دونوں کو پالیسی میں رہنمائی کرنے والے لندن کے امپیئرل کالج طرز کا اس خطے میں ایک بھی وبائی علوم کے ماہرین پر مشتمل ہیلتھ تھنک ٹینک یا اعلیٰ علمی و تحقیقی ادارہ موجود نہیں ہے۔

تو کیا جنوبی ایشیا خصوصی کردار ادا کرسکتا ہے؟ ویکسین ابھی تیاری کے مراحل سے گزر رہی ہے ایسے میں کیا متاثرہ شخص کے پلازما کو استعمال کرتے ہوئے غیر فعال مدافعت کے ذریعے تشویشناک مریضوں کا علاج کیا جاسکتا ہے؟

ابھی جنوبی ایشیا ابتدائی دنوں سے گزر رہا ہے اور اس نے ابھی ہمیں اس طرح متاثر نہیں کیا جس طرح برطانیہ اور امریکا ہوئے ہیں۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہم علاج تلاش کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ تاہم اس سے زیادہ اہم معاملات اپنے تعلقات کی درستی، اختلافات کا خاتمہ، خطے کے اندر امن کو فروغ ہے تاکہ دنیا کو ہمیں یہ درس دینا نہ پڑے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔

جہاں تک پلازما سے علاج کا تعلق ہے تو یہ فی الحال ایک مستند طریقہ علاج نہیں ہے۔ چینیوں نے مریضوں کے علاج کے لیے (پلازما سے) اضافی اینٹی باڈی کو تیار کرلیا ہے لیکن فی الحال یہ زیرآزمائش ہے۔

مجھے خدشہ ہے کہ پاکستان میں بہت سے لوگ بڑے پیمانے پر لوگوں کے ڈر اور اس صورتحال سے فائدہ اٹھائیں گے اور غیرمستند و بلا توثیق طریقہ علاج استعمال کریں گے۔ کورونا انفیکشن کے لیے پلازما تھراپی کی وکالت کرنے والے بھلے ہی موجود ہوں لیکن مرحلہ وار عوامل کے بعد کسی چیز کی سائنسی توثیق ہوپاتی ہے۔

پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے مرض کی سنگینی سے دوچار مریضوں سے حاصل ہونے والا تجربہ فی الحال کم ہے اور شواہد بھی اتنے زیادہ نہیں ہیں کہ جس کی بنا پر تحقیق کے بغیر کسی طریقے کو تجویز کیا جاسکے۔


ذوالفقار اے بھٹہ سک کڈز سینٹر فار گلوبل چلڈرن ہیلتھ (ٹورنٹو ، کینیڈا) اور کراچی کی آغا خان یونیورسٹی میں خواتین اور بچوں کی صحت سے متعلق سینٹر آف ایکسیلنس کی ڈائریکٹر شپ رکھتے ہیں، وہ مشہور بین الاقوامی تنظیموں کے چیئرمین اور لینسیٹ اور برٹش میڈیکل جرنل (بی ایم جے) جیسے میڈیکل جرائد کے ایڈیٹوریل ایڈوائزر ہیں۔گزشتہ مہینے، انہوں نے بی ایم جے میں جنوبی ایشیا میں کووڈ 19 صورتحال پر نیپال، بنگلہ دیش اور ہندوستان کے ذرائع کے اشتراک سے ایک مشترکہ ایڈیٹوریل تصنیف کیا۔


یہ مضمون ابتدائی طور پر دی تھرڈ پول پر شائع ہوا، جسے بہ اجازت یہاں شائع کیا گیا ہے۔