کرغیزستان میں سوات کے400 طلبہ محصور، حکومت سے انتظامات کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 20 اپريل 2020

ای میل

—فائل/فوٹو:ڈان
—فائل/فوٹو:ڈان

کرغیزستان میں پھنسے ہوئے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے400 طلبہ لاک ڈاؤن اور بندشوں کے باعث خوراک اور دیگر اشیا کی کمی کا شکار ہوگئے ہیں جبکہ حکومت سے واپسی کے لیے انتظامات کرنے کا مطالبہ کردیا۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کرغیزستان میں بھی لاک ڈاؤن ہے۔

جان ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق کرغیزستان میں اب تک کورونا وائرس کے 554 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور5 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

کرغیزستان میں موجود سوات سے تعلق رکھنے والے محمد عماد نے بتایا کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے اور ہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے پچھلے ایک مہینے سے اپنے اپارٹمنٹ میں محصور ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خصوصی فلائٹ آپریشن تیار، 5ہزار سے زائد پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جائے گا

ان کا کہنا تھا کہ ہم جب بھی مارکیٹ میں ضروری اشیا خریدنے کے لیے جاتے ہیں تو یہاں کی پولیس دستاویزات ہونے کے باوجود ہم سے بھاری رشوت لیتی ہیں۔

مینگورہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سلمان نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایک دوست کو معدہ کی تکلیف تھی جو دو دن تک اپارٹمنٹ میں درد سے تڑپتا رہا جب ہم دو دن کے بعد ان کیلئے میڈیکل اسٹور سے دوائی لینے گئے 6 ہزار کرغیستانی سوم (تقریباً 12 ہزار روپے) جرمانہ کیا گیا۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ ساری مشکلات کے باوجود جب بھی ہم پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کرتے ہیں تو عملہ ہمیں جواب میں کہتا ہے کہ اپ لوگوں نے اگر یہاں داخلہ لیا ہے اور پڑھ رہے ہیں تو اپ لوگوں کے پاس پیسے بہت ذیادہ ہوں گے، اس لیے آپ خریداری کرتے وقت پولیس کو رشوت دیا کریں تاکہ اپ لوگوں کی مشکلات میں کمی آسکے۔

سوات کی تحصیل مٹہ سے تعلق رکھنے والے وقار کا کہنا تھا کہ وہ کنٹریکٹرز جن کے ذریعے ہم یہاں پہنچے ہیں ان کی طرف سے بھی ہمیں کوئی جواب نہیں مل رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے وفاقی وزیر مراد سعید، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں ہمیں او کے لکھ کر بھیج دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ اگر والدین ہمیں پیسے بھیج بھی دیتے ہیں تو ہم وصول نہیں کرسکتے اور اگر وصول کرنے کے لیے باہر جاتے ہیں تو پولیس پکڑ کر دھمکی دیتی ہے کہ رشوت دے دیں بصورت دیگر قرنطینہ مرکز میں بھیج دیں گے یا اپ لوگوں کو ڈی پورٹ کرکے ہمیشہ کے لیے ملک سے نکال دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں مقامی زبان بھی نہیں آتی جس کی وجہ سے ہمیں کسی تیسرے شخص کو پولیس سے بات کرنے کے لیے مداخلت کرنا پڑتی ہے'۔

مزید پڑھیں:'رواں ہفتے 6 ہزار پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا'

طلبہ نے کہا کہ یہاں جب فری ماسک اور سینیٹائزر دیے جاتے ہیں تو ہمیں ان سے بھی محروم کیا جاتا ہے۔

شانگلہ کے علاقے بشام سے تعلق رکھنے والے ارباز خان یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ہم یہاں محفوظ نہیں ہیں کیونکہ ہمارے پاس راشن ختم ہوچکا ہے خوراک کی شدید قلت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں اب ہماری آن لائن کلاسز جاری ہیں جوکہ ہم اپنے گھر میں رہتے ہوئے بھی لے سکتے ہیں۔

ایک اور طالب علم اشفاق خان نے کہا کہ یہاں بھارت کے طلبہ کی حالت پاکستانی طلبہ سے کافی اچھی ہیں کیونکہ ان کا سفارت خانہ بہتر خیال رکھتا ہے۔

طلبہ نے کہا کہ رمضان المبارک کا مہینہ آنے والا ہے اور اشیائے ضروریہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم مستقبل کے بارے میں کافی خوف زدہ ہیں۔

انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خصوصی پروازوں کے ذریعے یہاں سے نکال کر گھر بجھوا دیں تاکہ ہمیں ان مشکلات سے چھٹکارا مل سکے۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے اس حوالے سے کہا کہ 'ہم کرغیزستان میں اپنے طلبہ کے حالات سے آگاہ ہیں، بشکک میں سفارت خانہ ان کے ساتھ رابطے میں ہے اور انہیں براہ راست کھانے پینے اور دیگر اشیا فراہم کیے جارہے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں:بیرونِ ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن جزوی بحال

وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں لیکن اس وقت محدود وسائل ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی معید یوسف نے کہا تھا کہ حکومت خصوصی پروازوں کے انتظام کے ساتھ ساتھ تمام شہریوں کو قرنطینہ کی سہولت فراہم کرنے کو یقینی بنارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت تمام شہریوں کو فوری طور پر واپس لانے کے لیے ہرممکن کوشش کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'اس ہفتے 6 ہزار مسافر لائیں گے جن میں سب سے زیادہ مزدور طبقہ اور متحدہ عرب امارات میں جن کے ویزے ختم ہوئے ہیں وہ شامل ہیں، اس ہفتے لگ بھگ 16 سے 17 پروازیں متحدہ عرب امارات سے پی آئی اے اور امارات کی پروازیں ہمارے شہریوں کو واپس لائیں گی'۔