امریکی خام تیل کی قیمت 2 دہائیوں کی کم ترین سطح پر آگئی

اپ ڈیٹ 20 اپريل 2020

ای میل

تیل کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں میں کورونا وائرس کی وجہ سے عائد لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کی وجہ سے کمی دیکھی جارہی ہے — فائل فوٹو:اے ایف پی
تیل کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں میں کورونا وائرس کی وجہ سے عائد لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کی وجہ سے کمی دیکھی جارہی ہے — فائل فوٹو:اے ایف پی

کورونا وائرس کی وجہ سے مانگ میں کمی اور اسٹوریج بڑھنے کی وجہ سے امریکی خام تیل کی قیمت 15 ڈالر فی بیرل تک آگئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی)، امریکی بینچ مارک دن کے آغاز پر ایشیائی مارکیٹ میں 19 فیصد تک کم ہوکر 14.73 ڈالر فی بیرل پر آگیا تھا جس کے بعد مارکیٹ واپس بہتری کی طرف گئی اور قیمت 15.78 ڈالر فی بیرل پہنچ گیا۔

انٹرنیشنل بینچ مارک برینٹ میں 4.1 فیصد تک کمی آئی جس کے بعد قیمت 26.93 ڈالر فی بیرل ہوگئی تھی تاہم اس میں دوبارہ استحکام آیا اور قیمت 28.11 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

مزید پڑھیں: اوپیک پلس کا تیل کی پیداوار میں ریکارڈ کمی پر رضامندی، عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ

تیل کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں میں دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے عائد لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کی وجہ سے کمی دیکھی جارہی ہے۔

گزشتہ ماہ تیل پیداوار سے منسلک عالمی گروہ (اوپیک) کے اہم رکن سعودی عرب کی جانب سے نان اوپیک رکن روس کے خلاف قیمت پر جنگ کے آغاز پر تیل کی قیمت تیزی سے نیچے گری تھی۔

تاہم رواں ماہ کے آغاز میں ریاض اور ماسکو نے تیل کی پیداوار ایک کروڑ بیرل فی یوم تک کم کرنے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے اس تنازع کو ختم کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 30 فیصد تک کم ہوگئی

تاہم قیمتیں مسلسل کم ہورہی ہیں جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پیداوار میں یہ کمی وائرس کی وجہ سے مانگ میں بڑے پیمانے پر کمی کے حوالے سے کافی نہیں ہے۔

امریکی اینرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں خام تیل کی اسٹوریج بڑھ کر ایک کروڑ 92 لاکھ 50 ہزار بیرلز ہوگئی تھی۔