پولیو کے مزید 2 کیسز سامنے آگئے، رواں سال مجموعی تعداد 41 ہوگئی

اپ ڈیٹ 17 جولائ 2020

ای میل

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ  کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں ایک ایک نیا کیس سامنے آیا — اے ایف پی:فائل فوٹو
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں ایک ایک نیا کیس سامنے آیا — اے ایف پی:فائل فوٹو

اسلام آباد: ہفتے کے اختتام پر ملک میں پولیو کے مزید دو کیسز سامنے آگئے، جس کے بعد رواں سال کی مجموعی تعداد 41 ہوگئی۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں ایک ایک نیا کیس سامنے آیا۔

سندھ کے ضلع خیرپور کی تحصیل کنگری میں 14 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں 5 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز

ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘بلوچستان کے ضلع پشین کی یونین کونسل بازار کونا میں 8 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’بچے کے ہاتھ پیر مفلوج ہوگئے ہیں، وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے والد کسان ہیں‘۔

خیال رہے کہ پولیو ایک انتہائی معتدی مرض ہے جو زیادہ تر 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے، یہ اعصابی نظام پر اثر انداز ہو کر معذوری بلکہ موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب، خیبرپختونخوا میں ویکسین سے اخذ شدہ پولیو وائرس کے 6 کیسز رپورٹ

پولیو کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا البتہ ویکسینیشن بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔

ہر مرتبہ جب ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں تو وائرس سے اس کی حفاظت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

دنیا میں صرف دو ممالک، پاکستان اور افغانستان، ہیں جہاں سے اس وائرس کا خاتمہ نہیں ہوسکا ہے۔

پاکستان پر عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پولیو سے متعلق سفری پابندیاں بھی عائد ہیں جو بیرون ملک سفر کرنے والے ہر شہری کو ویکسینیشن کا سرٹفکیٹ دکھانا لازمی قرار دیتا ہے۔