پیمرا کا 'نیو ٹی وی' کو 10 لاکھ روپے جرمانہ، لائسنس کے مطابق مواد نشر کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 30 اپريل 2020

ای میل

—فائل فوٹو: ڈان نیوز
—فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان الیکڑونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نیو ٹی وی کو فوری طور پر غیرقانون نیوز و کرنٹ افئیرز پر مبنی پروگرام بند کرکے صرف منظور شدہ ’انٹرٹینمنٹ‘ مواد نشر کرنے کا حکم دیتے ہوئے 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔

پیمرا کے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ نیو ٹی وی لائسنس میں جاری شدہ انٹرٹینمنٹ کیٹیگری پر مبنی مواد نشر کرے۔

علاوہ ازیں بتایا گیا کہ نیو ٹی وی نے پیمرا کے احکامات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چینلج کیا تھا تاہم کورٹ نے نیو ٹی وی کی اپیل رد کرتے ہوئے پیمرا کے احکامات کو درست قرار دیا۔

پیمرا کے مطابق نیو ٹی وی کو متعدد مرتبہ باورا کرنے کے باوجود وہ مسلسل پیمرا قوانین کی خلاف وزری کرتا رہا۔

اس ضمن میں پیمرا نے کہا کہ اتھارٹی نے متعدد مواقع فراہم کیے کہ وہ صرف منظور شدہ انٹرٹینمنٹ مواد نشر کرے اور نیوز و کرنٹ افئیرز پروگرام بند کردے۔

مزیدپڑھیں: خلیل الرحمٰن قمر کے نامناسب جملوں پر ٹی وی انتظامیہ کی ماروی سرمد سے معذرت

پیمرا کے مطابق نیو ٹی وی نے پیمرا کے احکامات کو نظر انداز کیا اور مسلسل اتھارٹی کے قوانین کی خلاف ورزی جاری رکھیں۔

اتھارٹی نے نیو ٹی وی پر زور دیا کہ ’نیوز بند کر کے انٹرٹیمنمنٹ چلائیں‘۔

علاوہ ازیں پیمرا نے چینل کو 7 یوم میں ایف پی سی اتھارٹی کو ارسال کرنے کی ہدایت کی۔

پیمرا نے نیو ٹی وی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں چینل کے خلاف پیمرا قوانین کے مطاب تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پیمرا نے نیو ٹی وی پر اتھارٹی کے احکامات کی خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بے بنیاد الزام نشر کرنے پر ’نیو ٹی وی‘ کو نوٹس

اس سے قبل پیمرا نے وزیراعظم کی تنخواہ میں اضافے کی جعلی خبر نشر کرنے پر نجی ٹی وی چینل 'نیو ٹی وی' پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

مذکورہ معاملے پر ایک پیمرا عہدیدار نے بتایا تھا کہ ’چینل پر وزیراعظم کی تنخواہ میں اضافے کی خبر نشر کرنے کا معاملہ ایک ٹاک شو کے دوران اٹھایا گیا تھا‘۔

نوٹس میں لکھا گیا تھا کہ چینل نے 2015 کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اور باضابطہ طور پر اس کی تردید بھی نہیں کی۔

تاہم ٹی وی چینل انتظامیہ نے سماعت میں دعویٰ کیا کہ اسی ٹاک شو کے دوران تردید نشر کردی گئی تھی لیکن پیمرا نے اس دلیل کو اس بنیاد پر مسترد کردیا کہ تردید، اظہار وجوہ کا نوٹس جاری ہونے کے بعد کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: 'خودکشی کے مناظر' دکھانے پر پیمرا کا جیو انٹرٹیمنٹ کو نوٹس

واضح رہے کہ پیمرا کے زیادہ تر فیصلوں کا اختتام قانونی چارہ جوئی پر ہوتا ہے اور پیمرا کے خلاف دائر 500 مقدمات اس کی جانب سے دیے گئے فیصلوں اور جرمانے سے متعلق ہیں۔