پاکستان کی وہ یادگار ٹیسٹ فتوحات جن کی کسی کو امید نہیں تھی

ای میل

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی مکمل رُکنیت حاصل کرنے والا پاکستان 7واں ملک ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کی شمولیت روایت سے ہٹ کر تھی اور پاکستان نے ابتدا ہی سے شاندار کارکردگی دکھا کر اپنی اہلیت ثابت کردی تھی۔

ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا اعزاز حاصل کرنے والے بہت سے ممالک کو کرکٹ کے اس فارمیٹ میں اپنی اوّلین فتح کے لیے ایک طویل عرصہ انتظار کرنا پڑا تھا لیکن قومی ٹیم وہ خوش نصیب ٹیم ہے جس نے اپنے دوسرے ہی میچ میں فتح کا تاج سر پر سجالیا تھا۔

پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ابتدائی دور میں اپنے 5 مضبوط اور تجربہ کار حریفوں کے خلاف گھر اور گھر سے باہر کھیلی جانے والی سیریز میں اس نے کم از کم ایک ٹیسٹ میں ضرور کامیابی سمیٹی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ کرکٹ کے میدان میں جو فتوحات حاصل کی ہیں، ان میں سے میرے تجزیے کے مطابق 5 بہترین کامیابیاں انتہائی غیر معمولی ہیں، جن کا بار بار ذکر ہونا ضروری ہے۔ آئیے تاریخ کو کھنگال کر ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

انگلینڈ کے خلاف اوول ٹیسٹ کی فتح (1954ء)

پاکستان کی نوجوان اور ناتجربہ کار ٹیم جب انگلستان کے پہلے دورے کے لیے روانہ ہوئی تو کوئی بھی ناقد یا تجزیہ کار اس ٹیم کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس دورے میں کاؤنٹی میچوں کے دوران تو قومی ٹیم نے خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن 4 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کے ابتدائی 3 ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ کی ٹیم مکمل طور پر چھائی رہی۔

پاکستانی ٹیم کے اسکواڈ میں شامل چند کھلاڑیوں کی تصویر
پاکستانی ٹیم کے اسکواڈ میں شامل چند کھلاڑیوں کی تصویر

لیکن اس کا نصیب کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا کیونکہ میچوں کے دوران ہونے والی مسلسل بارش کے باعث میزبان ٹیم ابتدائی 3 میں سے صرف ایک میچ ہی جیت سکی۔

پاکستان کو اپنے اس طویل دورے کا چوتھا اور آخری ٹیسٹ میچ اوول کے مقام پر کھیلنا تھا۔ بلاشبہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں یہ ٹیسٹ میچ فضل محمود کی جادوئی باؤلنگ کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ فضل محمود نے اس ٹیسٹ میچ میں 99 رنز دے کر 12 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔

فضل محمود وکٹ لینے کے بعد خوشی سے نہال
فضل محمود وکٹ لینے کے بعد خوشی سے نہال

انگلینڈ کی تجربے کار ٹیم نے جب جیت کے لیے درکار 167 رنز کے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو ان کے مایہ ناز کھلاڑی لین ہٹن جلد ہی پویلین لوٹ گئے لیکن بعد میں آنے والے کھلاڑیوں نے اچھی کارکردگی پیش کی اور انگلینڈ کا اسکور صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر 109 تک پہنچ گیا تھا۔

یہاں پاکستان کی شکست کے آثار واضح ہو رہے تھے اور کپتان کاردار باؤلنگ میں تبدیلی کا سوچ رہے تھے۔ اس موقع پر فضل محمود نے کمال خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کپتان کی مرضی کے برخلاف ان سے گیند چھین کر اپنی باؤلنگ جاری رکھی اور سوئنگ باؤلنگ کا ایسا جادو جگایا جس کی نظیر آج بھی نہیں ملتی۔

چوتھے روز کھیل کے اختتامی لمحات میں جب انگلینڈ کے 4 کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے اور ڈینس کامپٹن شاندار بیٹنگ کر رہے تھے، اس وقت فضل محمود نے باؤلنگ رن اپ کی طرف جاتے ہوئے اپنے کپتان سے پوچھا کہ اگر میں کامپٹن کو آؤٹ کردوں تو کیا ہوگا، کاردار نے جواب دیا تو پھر ہم میچ جیت جائیں گے۔ اس گفتگو کے تھوڑی ہی دیر بعد فضل محمود نے کامپٹن کو آؤٹ کرکے پاکستان کو جیت کی راہ پر گامزن کردیا۔

پاکستان کی نوجوان اور ناتجربے کار ٹیم جب انگلستان کے پہلے دورے کے لیے روانہ ہوئی تو کوئی بھی ناقد یا تجزیہ کار اس ٹیم کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں تھا
پاکستان کی نوجوان اور ناتجربے کار ٹیم جب انگلستان کے پہلے دورے کے لیے روانہ ہوئی تو کوئی بھی ناقد یا تجزیہ کار اس ٹیم کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں تھا

فضل محمود کی اس شاندار کارکردگی کی وجہ سے قومی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی پہلی اور اس وقت کی واحد ایسی ٹیم بن گئی جس نے انگلستان کے اپنے پہلے ہی دورے میں ٹیسٹ میچ جیتنے کا کارنامہ سر انجام دیا۔ فضل محمود نے اس میچ میں اپنی شاندار کارکردگی کی وجہ سے اوول کے ہیرو کی حیثیت سے شہرت پائی۔

آسٹریلیا کے خلاف سڈنی ٹیسٹ میچ میں فتح (1977ء)

77ء-1976ء کے دورہ آسٹریلیا نے قومی ٹیم کو مزید ٹیسٹ کامیابیوں سے ہمکنار کیا۔ اس دورے کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان ٹیم کو شکست ہوئی جبکہ دوسرا ٹیسٹ میچ آصف اقبال کی مزاحمتی بلے بازی کے باعث ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوا۔

اس سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ سڈنی کے مقام پر کھیلا گیا۔ اس میچ میں آسٹریلیا کے کپتان گریگ چیپل نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ گریگ چیپل کے اس فیصلے کے پیچھے یہ سوچ تھی کہ پاکستان کی فاسٹ باؤلنگ کمزور ہے اور آسٹریلوی بلے باز ان کا آسانی سے سامنا کرلیں گے، لیکن پاکستانی باؤلرز نے اس پچ پر اس قدر دھواں دار گیند بازی کی کہ آسٹریلیا کی پوری ٹیم محض 211 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

اس میچ سے قبل قومی ٹیم میں اپنی جگہ پکی کرنے کی تگ و دو میں لگے عمران خان نے پہلی مرتبہ صحیح معنوں میں خود کو بطور ایک فاسٹ باؤلر متعارف کروایا اور آسٹریلیا کی پہلی اننگز میں 102 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں۔ آسٹریلیا کے 211 رنز کے جواب میں پاکستان نے زبردست بیٹنگ کرتے ہوئے 360 رنز بناکر 149رنز کی برتری حاصل کرلی۔

مارش کو رن آوٹ کرنے پر قومی ٹیم کے کھلاڑی جشن منا رہے ہیں
مارش کو رن آوٹ کرنے پر قومی ٹیم کے کھلاڑی جشن منا رہے ہیں

پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی نوجوان عمران خان کے سامنے آسٹریلیا کی تجربے کار بیٹنگ لائن زیادہ مزاحمت نہیں کرسکی اور پوری ٹیم صرف 180رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ دوسری اننگز میں بھی عمران خان نے 6 وکٹیں حاصل کیں، اور پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے محض 32 رنز کا ہدف ملا جو اس نے 2 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔ یوں پاکستان نے سڈنی کا یہ ٹیسٹ میچ 8 وکٹوں سے جیت کر آسٹریلیا میں پہلی ٹیسٹ کامیابی کا کارنامہ سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ سیریز بھی برابر کردی۔

مارش اور عمران خان کے درمیان تلخ کلامی کا منظر
مارش اور عمران خان کے درمیان تلخ کلامی کا منظر

اس میچ میں عمران خان نے 165 رنز کے عوض 12 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور فضل محمود کے بعد ایک ٹیسٹ میچ میں 12 یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کرنے والے وہ پاکستان کے دوسرے باؤلر بن گئے۔ اس کارکردگی کے بعد عمران خان نے پھر کبھی پیچھے مُڑکر نہیں دیکھا اور وہ اپنے کرکٹ کیریئر میں کامیابی کی نئی منزلیں تواتر کے ساتھ طے کرتے رہے۔

بنگلور ٹیسٹ میچ کی کامیابی (1987ء)

پاکستان نے 87ء-1986ء کے کرکٹ سیزن میں بھارت کا ایک طویل دورہ کیا۔ اس دورے میں دونوں ٹیموں کے مابین 5 ٹیسٹ میچ اور 7 ایک روزہ میچوں پر مشتمل سیریز کھیلی گئی۔

ٹیسٹ سیریز کے ابتدائی 4 میچ ہار جیت کے بغیر ہی ختم ہوگئے تھے اور سیریز کا پانچواں اور فیصلہ کُن میچ بنگلور کے مقام پر کھیلا گیا۔ اس میچ میں پاکستان نے 16 رنز سے کامیابی حاصل کرکے بھارت میں پہلی مرتبہ سیریز جیتنے کا سنگِ میل عبور کیا۔ بنگلور کی اس تاریخی فتح کے معمار پاکستانی اسپنروں کی جوڑی اقبال قاسم اور توصیف احمد ٹھہرے۔

ٹاس سے قبل عمران خان اور کپل دیو
ٹاس سے قبل عمران خان اور کپل دیو

اسپن باؤلنگ کو اچھا کھیلنے کے لیے مشہور بھارتی ٹیم کے خلاف اقبال قاسم اور توصیف احمد نے ایک جوڑی کی طرح باؤلنگ کرتے ہوئے 18 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ اقبال قاسم نے پاکستان کی دوسری اننگز میں قیمتی 26 رنز بھی بنائے تھے جبکہ توصیف احمد نے بھی پاکستان کی دوسری اننگ میں وکٹ کیپر سلیم یوسف کے ساتھ 9ویں وکٹ کے لیے 51 رنز کی انمول شراکت قائم کرکے سب کو حیران کردیا۔

اظہرالدین کے آؤٹ ہونے پر پاکستانی کھلاڑی جشن منا رہے ہیں
اظہرالدین کے آؤٹ ہونے پر پاکستانی کھلاڑی جشن منا رہے ہیں

پاکستان کی اس جیت کے ایک خاموش کردار وکٹ کیپر سلیم یوسف بھی ہیں۔ ایک مشکل پچ پر انہوں نے 41 رنز کی شاندار اننگ کھیل کر پاکستان کو ایک ایسے اسکور تک پہنچا دیا جس کا دفاع کرنے میں باؤلرز کامیاب ہوگئے۔

بھارت کی دوسری اننگ میں سنیل گواسکر نے اپنے تجربے اور امپائروں کی معاونت کی بدولت 96 رنز کی شاندار اننگ ضرور کھیلی لیکن ان کو مین آف دی میچ قرار دے کر منتظمین نے اقبال قاسم اور توصیف احمد کی حق تلفی کی تھی۔

پاکستان نے 1952ء میں اپنے اوّلین دورہ بھارت میں لکھنؤ کے میدان پر بھارت کے خلاف پہلی مرتبہ ٹیسٹ میچ جیتا تھا اور اب 35 سال کے طویل انتظار کے بعد قومی ٹیم نے روایتی حریف کو ان کے ہی میدانوں پر دوسری مرتبہ شکست دی تھی۔ پاکستان کی فتح کا یہ لمحہ میں نے اسکول سے باہر نکل کر گاڑی میں ریڈیو پر نشر ہونے والے براہِ راست رواں تبصرے پر سنا تھا اور پاکستان کی فتح کا اعلان کرنے والے کمنٹیٹر کی آواز آج بھی میرے ذہن میں تر و تازہ ہے۔

ہیڈنگلے ٹیسٹ میچ کی جیت (1987ء)

بھارت کو بھارت میں پہلی مرتبہ ٹیسٹ سیریز میں شکست دینے کے چند ماہ بعد قومی ٹیم انگلستان کے خلاف 5 میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنے پہنچی تو سیریز کے پہلے 2 ٹیسٹ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئے۔ سیریز کا تیسرا میچ ہیڈنگلے، لیڈز میں کھیلا گیا۔ اس میچ میں انگلینڈ کے کپتان مائیک گیٹنگ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن ان کا یہ فیصلہ غلط ثابت ہوا اور انگلینڈ کی پوری ٹیم صرف 136رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

قومی ٹیم نے اپنی پہلی اننگ میں سلیم ملک کے شاندار 99 رنز، اعجاز احمد کی نصف سنچری اور وسیم اکرم کے جارحانہ 43 رنز کی بدولت 353 رنز بناکر اپنی مخالف ٹیم پر 217 رنز کی برتری حاصل کرلی۔

ایک بڑے خسارے کے دباؤ میں انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگ شروع کی تو کپتان عمران خان نے اپنی ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کرنے کا بِیڑا خود اٹھایا۔ انہوں نے اس اننگ میں صرف 40 رنز دے کر 7 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے پاکستان کو ایک اننگ اور 18 رنز سے میچ جتوادیا۔

اس میچ میں 77 رنز کے عوض 10وکٹیں حاصل کرنے پر عمران خان کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ اس سیریز کے پہلے 2 ٹیسٹ میچوں کی طرح آخری 2 میچ بھی ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ہی ختم ہوئے اور یوں پاکستان نے یہ سیریز 0-1 کے مارجن سے سیریز جیت کر انگلینڈ میں پہلی مرتبہ سیریز جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کردی۔

جب وسیم اکرم نے مائیک گیٹنگ کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا

ڈربن ٹیسٹ (1998ء)

نسلی تعصب کو خیرباد کہنے کے بعد جنوبی افریقہ کی ٹیم 42 سال بعد کرکٹ کے میدانوں میں واپس آئی اور آتے کے ساتھ ہی اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کردیا۔

1997ء میں جنوبی افریقہ نے پہلی مرتبہ ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کے اپنے پہلے ہی دورے میں سیریز میں کامیابی حاصل کرکے قومی ٹیم کو دھچکا پہنچا دیا۔ اپنے ہی میدانوں پر شکست کی ہزیمت اٹھانے کے بعد جب پاکستانی ٹیم ٹیسٹ سیریز کھیلنے جنوفی افریقہ پہنچی تو پاکستان سے کامیابی کی کوئی خاص توقع نہیں تھی۔

اس سیریز کا پہلا میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوا اور دوسرا میچ ڈربن کے مقام پر کھیلا گیا۔ جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو کھیلنے کی دعوت دی تو قومی ٹیم اظہر محمود کی شاندار سنچری کے باوجود اپنی پہلی اننگ میں 259 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ پاکستان کی پہلی اننگ کے اسکور کے مقابلے میں جنوبی افریقہ شعیب اختر کی شاندار باؤلنگ کے باوجود 231 رنز تک پہنچ گئی۔

شعیب اختر کی باؤلنگ کے جوہر

پاکستان نے دوسری اننگ میں سعید انور کی شاندار سنچری کی بدولت 226 رنز بنائے اور یوں جیت کے لیے جنوبی افریقہ کو 255 رنز درکار تھے لیکن اب لیگ اسپنر مشتاق احمد کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ مشتاق کی شاندار باؤلنگ کے باعث جنوفی افریقہ کے 8 کھلاڑی 133رنز پر آؤٹ ہوچکے تھے لیکن پھر پاکستان نے اپنی خراب فیلڈنگ کی بدولت جنوبی افریقہ کو 9ویں وکٹ کے لیے 86 رنز کی شراکت قائم کرنے کا موقع فراہم کرکے مخالف ٹیم کو میچ میں واپس آنے کا موقع فراہم کردیا۔

لیگ اسپنر مشتاق احمد کی گیند بازی کا جادو سر چڑھ کر بولا

اس موقع پر وقار یونس نے یکے بعد دیگرے مارک باؤچر اور ایلن ڈونلڈ کی وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کو ایک ناقابلِ یقین جیت دلوا دی۔ ڈربن ٹیسٹ میچ جیت کر پاکستان نے سیریز جیتنے کی امید جگالی تھی لیکن سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی بیٹنگ کی ناکامی کی وجہ سے جنوبی افریقہ نے 259 رنز سے کامیابی حاصل کرکے سیریز برابر کرلی۔

پاکستان اور جنوفی افریقہ کی اس ٹیسٹ سیریز میں نوجوان اظہر محمود نے 2 سنچریوں کی بدولت 327 رنز بناکر سب کو حیران کردیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اظہر محمود اپنے ٹیسٹ کیریئر کے اس شاندار آغاز کے بعد اپنی کارکردگی کو برقرار نہیں رکھ سکے اور اسی وجہ سے وہ پاکستان کے لیے صرف 21 ٹیسٹ میچ ہی کھیل سکے۔