خطے کے 4 ممالک کا افغان گروہوں سے جنگ بندی پر متفق ہونے پر زور

اپ ڈیٹ 20 مئ 2020

ای میل

چاروں ممالک نے جلد از جلد امن مذاکرات شروع کرنے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا— فائل فوٹو:اے ایف پی
چاروں ممالک نے جلد از جلد امن مذاکرات شروع کرنے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا— فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد: خطے کے 4 ممالک نے افغان گروہوں سے جنگ بندی پر اتفاق کرنے، جلد از جلد امن مذاکرات شروع کرنے اور اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات لینے کا مطالبہ کردیا۔

مذکورہ مطالبہ افغانستان کی موجودہ صورتحال اور امن عمل کو درپیش مسائل سے متعلق پاکستان، ایران، روس اور چین کے مندوبین کے' ورچوول' اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اجللاس میں تمام افغان گروہوں اور جماعتوں بشمول طالبان سے جلد از جلد بین الافغان مذاکرات کی صورتحال کے مواقع پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ اجلاس 18 مئی کو منعقد ہوا تھا اور مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اس میں شریک تمام چاروں ممالک بالترتیب اسی روز اعلامیہ جاری کریں گے۔

مزید پڑھیں : افغانستان: سرکاری پوسٹوں،مسجد پر حملوں میں فوجی اہلکاروں سمیت 18 افراد ہلاک

تاہم گزشتہ روز مبصرین کی جانب سے اعلامیہ جاری نہ کرنے کی نشاندہی کرنے پر پاکستان کی جانب سے بیان جاری کیا گیا۔

بین الافغان مذاکرات کے لیے تعاون پر زور دیتے ہوئے، چاروں ممالک جن کا افغانستان میں امن سے مشترکہ مفاد ہے انہوں نے کہا کہ افغان گروہوں کے درمیان مذاکرات ہی قومی مفاہمت کا واحد راستہ ہے جو طویل تنازع کو فوری طور پر ختم کرسکتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا جس میں طے پایا تھا کہ افغان حکومت طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے طالبان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کے حوالے سے زیر گردش خبروں کا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہیں، ترجمان

قیدیوں کے تبادلے کا عمل 10 مارچ سے قبل مکمل ہونا تھا اور طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہونا تھا تاہم متعدد مسائل کی وجہ سے یہ عمل سست روی سے آگے بڑھا۔

تاہم افغانستان میں تشدد کی حالیہ لہر نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے، جن میں سے کچھ حملوں بشمول 12 مئی کو میٹرنٹی ہسپتال میں کیے گئے حملے کو داعش سے منسوب کیا گیا۔

جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے خلاف جارحانہ کارروائی کے دوبارہ آغاز کا حکم دیا تھا، افغان حکومت کے اعلان کے ردعمل میں طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان فورسز کے حملوں کے جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

طالبان نے کہا تھا کہ اب سے مزید کشیدگی کی ذمہ داری کابل انتظامیہ کے کاندھوں پر ہوگی۔

دو روز قبل طالبان نے دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ دہرایا تھا، دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ افغان مسئلے کا حل دوحہ معاہدے پر عمل میں ہے، قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل اور بین الافغان مذاکرات شروع ہونے چاہئیں۔

تاہم اسی شب طالبان نے قندوز میں حملہ کیا، اس حوالے سے افغان وزارت دفاع نے کہا کہ حملے کو ناکام بنادیا گیا اور طالبان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

اجلاس میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلامیے میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے عالمی جنگ بندی کے مطالبے کی حمایت کریں، ساتھ ہی افغانستان بھر میں جامع جنگ بندی کے اعلان کا مطالبہ کیا گیا جس پر تمام فریقین نے اتفاق کیا تھا۔

مزید پڑھیں:افغان حکومت نے 100 طالبان قیدیوں کو رہا کردیا

چاروں ممالک نے افغان حکومت اور دیگر گروہوں سے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خطرات کو بے اثر بنانے اور منشیات فروشی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان کا نام شامل ہے جو افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد حملے کرتی رہی ہے۔

افغانستان میں دہشت گردی کے سنگین خطرات کے باعث تمام فریقین نے القاعدہ، آئی ایس آئی ایل، ای ٹی آئی ایم، ٹی ٹی پی اور خطے کے ممالک کے خلاف سرگرم دیگر عالمی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا اور ملک میں منشیات کی پیداوار اور اس کی فروخت کے مکمل خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔


یہ خبر 20 مئی، 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی