وزیرستان: غیرت کے نام پر لڑکیوں کے قتل کے الزام میں ایک اور ملزم گرفتار

اپ ڈیٹ 21 مئ 2020

ای میل

لڑکیوں کو 14 مئی کو قتل کیا گیا تھا —فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
لڑکیوں کو 14 مئی کو قتل کیا گیا تھا —فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

میرامشاہ: پولیس نے غیرت کے نام پر قتل کی گئی 2 نوجوان لڑکیوں کے مشتبہ قاتل کو گرفتار کرلیا۔

دونوں لڑکیوں کو سوشل میڈیا پر ایک ’قابلِ اعتراض‘ ویڈیو وائرل ہوجانے کے بعد شمالی وزیرستان کے گاؤں شامپلان گڑیام میں 14 مئی کو گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

شمالی وزیرستان کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) شفیع اللہ گنڈا پور نے کہا کہ مشتبہ قاتل محمد اسلم دونوں لڑکیوں کا کزن تھا جسے نامعلوم مقام پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا جو لڑکیوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کے بعد روپوش ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرستان ویڈیو اسکینڈل: ’ویڈیو بنانے والا‘ مرکزی ملزم گرفتار

قبل ازیں پولیس نے سخت سیکیورٹی میں وقوعہ کے مرکزی ملزم عمر ایاز کو مقامی عدالت میں پیش کیا تھا جہاں ملزم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ویڈیو اسی نے بنائی تھی۔

ڈی پی او نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمر ایاز نے عدالت میں بتایا کہ اس نے اپنے دوست فدا وزیر کا موبائل فون استعمال کیا تھا جو پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم عمر ایاز شادی شدہ اور 2 بچوں کا باپ ہے، ڈی پی او کے مطابق پولیس کی تحقیقات درست سمت میں جاری ہیں اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: وزیرستان: غیرت کے نام پر لڑکیوں کے قتل میں ’ملوث‘ 2 افراد گرفتار

دوسری جانب خیبرپختونخوا پولیس کے انسپکٹر جنرل ثنا اللہ عباسی نے غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں گرفتاریوں پر پولیس اہلکاروں کو نقد انعام اور تعریفی اسناد سے نوازا۔

ان کا کہنا تھا کہ نو انضمام شدہ پولیس عوام کی خدمت کرے گی، ان تک انصاف کی رسائی کو یقینی بنائے گی اور عورتوں کے حقوق کے لیے لڑے گی۔

اس سے قبل اس کیس میں پولیس 4 ملزمان پہلے ہی گرفتار کرچکی تھی جس میں عمر ایاز، فدا محمد، لڑکیوں میں سے ایک کے والد زدوال خان اور ایک کا کزن روح الدین شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرستان میں غیرت کے نام پر قتل کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ لڑکی کے اہلِ خانہ اس قتل کو خفیہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں لہٰذا متعلقہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔

پولیس کے مطابق یہ خاندان جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف ہونے والے راہِ نجات آپریشن کے بعد ہجرت کر کے شمالی وزیرستان کے گاؤں گڑیام میں آکر آباد ہوگیا تھا۔

خیال رہے کہ لڑکیوں کو 14 مئی کو قتل کیا گیا تھا جبکہ رمزک پولیس اسٹیشن میں 15 مئی کو مقدمہ درج ہوا تھا۔


یہ خبر 21 مئی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

۔