عید کے موقع پر طیارہ حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین اشک بار

اپ ڈیٹ 24 مئ 2020

ای میل

طیارہ حادثے میں 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے—فوٹو: رائٹرز
طیارہ حادثے میں 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے—فوٹو: رائٹرز

کراچی: جمعہ (22 مئی) کے روز حادثے کا شکار بننے والے بدقسمت طیارے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی جب ہفتے کے روز تصدیق ہوگئی تو مرنے والے افراد کے اہل خانہ مردہ خانوں اور ہسپتالوں کے درمیان اپنے پیاروں کی لاشوں کو وصول کرنے کے لیے چکر لگاتے رہے۔

جاں بحق ہونے والے افراد میں میجر شہریار فضل، ان کی اہلیہ ماہا شہر اور ان کے دو بچے ایلسا اور ریان بھی شامل تھے۔

ان کی نماز جنازہ کراچی کے علاقے بہادر آباد میں ادا کرکے ان کی تدفین کردی گئی اور ان کی نماز جنازہ میں علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اسی بدقسمت طیارے میں سینئر بینکر زین پولانی اور ان کے اہل خانہ بھی سوار تھے، وہ کراچی سے لاہور اپنی بیوی اور بچوں کو لینے آئے تھے، جو برطانیہ سے لاہور پہنچے تھے اور انہیں کراچی واپس آنا تھا۔

اسی خاندان کے ایک قریبی شخص نے ٹوئٹر پر ان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ زین پولانی نجی بینک اسٹینڈرڈ چارٹرڈ جب کہ ان کی اہلیہ سارہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں ملازمت کرتی تھیں اور ان کے 3 خوبصورت بچے تھے اور حادثے میں پورے خاندان کے چلے جانے سے دل ٹوٹ سا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کا مسافر طیارہ آبادی پر گر کر تباہ،97 افراد جاں بحق

اسی طرح دانش الطاف کا خاندان یعنی ان کی اہلیہ اور 2 بچے بھی حادثے کا شکار ہونے والے بدقسمت طیارے میں تھے اور وہ بھی چل بسے۔

بدقسمت طیارے میں 3 دہائیوں تک صحافتی خدمات سر انجام دینے والے سینئر صحافی سید انصار نقوی بھی سوار تھے، وہ زندگی کے آخری ایام میں نجی ٹی وی چینل 24 نیوز میں بطور ڈائریکٹر پروگرامنگ خدمات سر انجام دے رہے تھے۔

انصار نقوی ملک کے بہترین صحافیوں میں سے ایک جب کہ سندھ کے شہر حیدرآباد سے واحد بہترین پروڈیوسر بننے والے صحافی تھے۔

انہوں نے حیدرآباد سے ہی نکلنے والے اخبار روزنامہ سفیر سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا، بعد ازاں وہ انگریزی اخبار دی نیوز سے 1990 میں منسلک ہوگئے اور وہ حیدرآباد سے مذکورہ اخبار کے پہلے رپورٹر بنے، تقریبا 12 سال تک انگریزی اخبار میں خدمات سر انجام دینے کے بعد انہوں نے نئے شروع ہونے والے جیو ٹیلی وژن نیٹ ورک کو 2000 میں جوائن کیا اور وہ کراچی منتقل ہوگئے، جہاں 13 سال تک وہ جیو سے وابستہ رہے تھے۔

جہاز میں جاں بحق ہونے والے افراد میں کراچی امریکن اسکول کے سینئر فیکلٹی رکن فیروزی اوگرا بھی شامل ہیں۔

بدقسمت طیارے میں پاک فوج کے افسران کیپٹن احمد مجتبیٰ، لیفٹیننٹ شہیر، لیفٹیننٹ بالاچ خان بگٹی اور لفیٹیننٹ حمزہ یوسف بھی سوار تھے۔

اداکارہ و ماڈل زارا عابد بھی بدقسمت طیارے میں تھیں اور ان کی موت پر معروف فیشن ڈیزائنر عاصم جوفا نے ٹوئٹ کی کہ انہیں الفاظ نہیں مل رہے کہ وہ کیا لکھیں، زارا انڈسٹری کا بہت بڑا نقصان ہے، وہ انتہائی پروفیشنل تھیں اور انہوں نے منزل تک پہنچنے کے لیے سخت جدوجہد بھی کی۔

بدقسمت طیارے میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کے سینئر عہدیدار خالد شیر دل بھی سوار تھے، وہ سینئر بیوروکریٹ اے زیڈ کے شیر دل کے بیٹے تھے، انہوں نے پنجاب ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) میں بطور ڈائریکٹر جنرل بھی خدمات سر انجام دی تھیں۔

مزید پڑھیں: تاریخ میں پہلی بار کراچی میں بڑا فضائی حادثہ

تباہ ہونے والے طیارے میں ڈاکٹر یاسمین اکبانی بھی سوار تھیں، ان کے ایک ساتھی نے ان کے حوالے سے بتایا کہ وہ ماہر امراض اطفال تھیں اور انہوں نے کے ایم سی سے ریٹائرمنٹ کے بعد کچی آبادی کے ایک ہسپتال میں رضاکارانہ خدمات دینا شروع کی تھیں، وہ سماجی تنظیم چائلڈ ایڈ ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کی سینئر رکن بھی تھیں۔

ان کے ساتھی نے انہیں یاد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ڈاکٹر یاسمین کے شوہر سوئی سدرن گیس کے ریٹائرڈ انجنیئر ہیں، ان کے والد کراچی میونسپلٹی میں تقسیم ہند کے وقت چیف میڈیکل افسر تھے۔

انہوں نے ڈاکٹر یاسمین اکبانی کے لیے لکھا کہ وہ ایک عظیم خاتون تھیں، انہوں نے بچوں کی بیماری اور خاص طور پر کینسر کے حوالے سے بہت کام کیا اور انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ہمیشہ فرض سمجھ کر ادا کیں۔

بدقسمت طیارے پی کے 8303 کے عملے میں شامل ارکان میں کیپٹن سجاد گل بھی شامل تھے، جنہیں 24 سال کا تجربہ تھا اور انہوں نے 17 ہزار گھنٹوں سے زائد وقت تک طیاروں کو اڑایا تھا، وہ لاہور کے ڈی ایچ اے کے علاقے کے مکین تھے، انہوں نے سوگواروں میں ایک بیوہ اور 4 بچے چھوڑے ہیں۔

ان کے دیگر عملے کے ارکان میں فرسٹ افسر عثمان اعظم، کیبن کریو چیف پرسر فرید احمد چوہدری، فلائٹ اسٹیورڈس عبدالقیوم اشرف اور ملک عرفان رفیق، ایئر ہوسٹس آمنہ عرفان، عاصمہ شہزادی اور آمنہ مسعود شامل تھیں۔

اس خبر کے لیے حیدرآباد سے محمد حسین خان نے بھی معاونت فراہم کی۔


یہ رپورٹ 24 مئی کو روزنامہ ڈان میں شائع ہوئی