وزیر خارجہ کی بھارت پر خطرناک فوجی تصورات سے کھیلنے سے متعلق تنقید

اپ ڈیٹ مئ 29 2020

ای میل

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کمشیر کے الحاق نے خطے کے عدم استحکام میں اضافہ کیا—فائل فوٹو: اے پی پی
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کمشیر کے الحاق نے خطے کے عدم استحکام میں اضافہ کیا—فائل فوٹو: اے پی پی

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جوہری ہتھیاروں سے لیس بھارت پر خطرناک فوجی تصورات سے کھیلنے کے رویے کا الزام عائد کیا ہے اور دنیا کو یقین دہانی کروائی ہے کہ پاکستان تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا رہے گا۔

ویبینار میں گزشتہ برس ہونے والے پلوامہ واقعے کے بعد کشیدہ صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جوہری تنازع کی حد سے نیچے رہتے ہوئے ایک نیا معمول قائم کرنے کا ناقص تصور اور پاکستان کو سزا دینے کے خیالات بھارت کے خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے عکاس ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ویبینار کا انعقاد انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹیڈیز اسلام آباد(آئی ایس ایس آئی) نے 1998 میں پاکستان کے جوہری طاقت بننے کی یاد میں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ناقابل یقین بھارت اب عدم برداشت میں تبدیل ہوچکا ہے، شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ کے یہ ریمارکس دونوں مخالف پڑوسیوں کے مابین تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئے جس میں جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بھارت کی جانب سے ایل او سی پار اشعال انگیزی کے الزامات نے صورتحال میں مزید تناؤ پیدا کردیا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کمشیر کے الحاق نے خطے کے عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’بی جے پی حکومت کے سینئر اراکین کے جوہری معاملات سمیت غیر ذمہ دارانہ بیانات اور بائیکاٹ کی دھمکیوں نے اس بات میں کوئی شک نہیں چھوڑا کہ کیسے لاپرواہ اذہان کام کررہے ہیں'۔

شاہ محمود نے کہا کہ ’شدید قوم پرست حکومت کے تحت بڑے پڑوسی کے جارحانہ عزائم‘ پاکستان کو اپنا تحفظ کم کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

مزید پڑھیں: بھارت نے کوئی حماقت کی تو مناسب جواب کیلئے تیار رہے، وزیر خارجہ

انہوں نے اسلام آباد کی امن کی خواہش پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یومِ تکبیر منانا ہمیں امن کے لیے پاکستان کی جدو جہد اور اس کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور آزادی کے دفاع کے عزم کی یاد دلاتا ہے۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’معتبر کم از کم تعطل‘ (کریڈیبل منیمم ڈیٹرنس) پاکستان کے جوہری رویے کا رہنما اصول رہے گا ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد کے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ سے دور رہنے کے عزم کو دہرایا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے اسٹریٹجک تحمل کے دور (ایس آر آر) کی تجویز دے کر امن و استحکام کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری امن کی خواہش کی وجہ سے کسی کو ہماری صلاحیت او کسی بھی قم کی جارحیت کی صورت میں اپنا مؤثر دفاع کرنے کے جذبے پر شک نہیں ہونا چاہیے۔