امریکا:شہری کی ہلاکت کے خلاف کرفیو کے باوجود ہزاروں افراد کا احتجاج

اپ ڈیٹ 04 جون 2020

ای میل

نیویارک، ہیوسٹن، واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ درجنوں شہروں میں احتجاج کیا گیا—فوٹو:اے ایف پی
نیویارک، ہیوسٹن، واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ درجنوں شہروں میں احتجاج کیا گیا—فوٹو:اے ایف پی

امریکی ریاست مینیسوٹا میں سیاہ فارم شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کے تشدد سے ہلاکت کے بعد شروع ہونے والا احتجاج مزید شہروں میں پھیل گیا جبکہ ریاست کے مرکزی شہر مینیاپولیس میں کرفیو کے باوجود ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔

خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق صدرڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر پینٹاگون نے شہر میں فوری نوٹس پر فوج کو تعیناتی کے لیے الرٹ رہنے کا حکم دے دیا ہے۔

فوج کی طلبی کے حوالے سے عہدیداروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پنیٹاگون کی جانب سے یہ حکم صدر کی درخواست پر جاری کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ کی سیاہ فام شخص کے قتل کیخلاف مظاہروں پر فوجی کارروائی کی تنبیہ

رپورٹ کے مطابق شہریوں کا احتجاج مینیاپولیس سے نکل کر دیگر شہروں اور ریاستوں تک پھیل گیا ہے جبکہ اٹلانٹا اور نیویارک سٹی میں بھی پولیس کے ساتھ شہریوں کی جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مینیا پولیس کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران پولیس پر فائرنگ کی گئی لیکن کوئی زخمی نہیں ہوا۔

پولیس کے مطابق مظاہرین نے رات گئے شہر کے مختلف علاقوں میں ہنگامہ آرائی کی اور غیر ملکی ریستوران، بینک اور دفاتر کو آگ لگا دی جبکہ کشیدگی کے باعث فائر فائٹر بھی وقت پر نہ پہنچ سکے اور گھنٹوں تک آگ کے شعلے بلند ہوتے رہے۔

کشیدگی کو روکنے کے لیے پولیس افسران گاڑیوں اور پیدل متعلقہ مقامات پر پہنچے جبکہ اس سے قبل مقامی انتظامیہ اور رہنما اس کو روکنے میں ناکام رہے تھے۔

گورنر ٹم والز نے کشیدگی میں شدت آنے سے قبل اعلان کیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف سختی کی جائے گی تاہم اب انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد ناکافی ہے جو صرف 500 گارڈز پر مشتمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس زیادہ تعداد نہیں ہے اور ہم امن قائم کرنے کے لیے مظاہرین کو گرفتار نہیں کرسکتے۔

ٹم والز نے کہا کہ میں 1700 میں سے ایک ہزار زائد گارڈز کوفوری طور پر متحرک کررہا تھا اور اس کے ساتھ فیڈر ملیٹری پولیس کو طلب کرنے کا سوچ رہا تھا لیکن بتایا گیا کہ یہ تعداد بھی کافی نہیں ہوگی اس لیے مزید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ادھر مینیسوٹا پولیس اور پیس آفیسرز ایسوسی ایشن نے گورنر کو ہر قسم کی مدد کا یقین دلایا اور کہا کہ آپ کو مزید وسائل کی ضرورت ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ مینیسوٹا میں سیاہ فام 46 سالہ شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد احتجاج میں شدت آگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے جعلی کرنسی نوٹ استعمال کرنے کے شبہ میں جارج فلائیڈ کو حراست میں لیا تھا جہاں وہ دوران حراست دم توڑ گئے تھے۔

شہری کی گرفتاری کے حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیو میں دکھا گیا تھا کہ پولیس افسر ان کی گردن دبا رہے ہیں جبکہ جارج فلائیڈ کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ وہ سانس نہیں لے پارہے ہیں۔

جارج فلائیڈ کو بعدازاں مردہ قرار دیا گیا تھا اور ریاست میں شدید احتجاج شروع ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں:امریکا: سیام فام شخص کے قتل کے الزام میں پولیس افسر کےخلاف مقدمہ

بعد ازاں جارج فلائیڈ کے قتل میں ملوث سفید فام پولیس افسر ڈیریک چاوین کو گرفتار کرکے اس کے خلاف تھرڈ ڈگری قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ڈیریک چاوین ان 4 افسروں میں سے ایک ہیں جنہیں ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملازمت سے برطرف کردیا گیا اور ان کے خلاف تھرڈ ڈگری قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔

ڈیریک چاوین نے ہی جارج فلائیڈ کی گردن پر پوری طاقت سے 5 منٹ تک گھٹنا ٹکائے رکھا تھا جس سے سیاہ فام شخص کی موت واقع ہوئی۔

جارج فلائیڈ کے خاندان کے وکیل نے ان کی گرفتاری کا خیر مقدم کیا لیکن دیگر پولیس افسران کی گرفتاری کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مزید سخت قانون لاگو کیا جائےگا۔

وکیل مائیک فریمین کا کہنا تھا کہ مزید جرائم کی شقیں ممکن ہیں لیکن حکام سمجھتے ہیں کہ خطرناک منصوبہ سازوں پر توجہ دی جائے۔

سیاہ فام شہری کی پولیس کے تشدد سے ہلاکت کے خلاف ہونے والے احتجاج میں اس وقت شدت آگئی جب اٹلانٹا میں سی این این کے مرکز کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں اورپولیس کار کو نذر آتش کرکے افسران کو روک لیا گیا۔

نیویارک، ہیوسٹن، واشنگٹن ڈی سی اور دیگر درجنوں شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے پرامن احتجاج کیا لیکن پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوتی رہیں۔