پیٹرول کی قلت اور ذخیرہ اندوزی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل

اپ ڈیٹ 08 جون 2020
وزٓارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
وزٓارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

ملک میں پیٹرول کی قلت اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں کا پتہ لگانے کے لیے وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژں کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ملک میں پیٹرول کی قلت کے پیش نظر وزیر توانائی عمر ایوب خان کی ہدایت پر کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث عناصر کا پتہ چلایا جا سکے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اسٹاک کی دستیابی کا بھی پتہ چلایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: اوگرا نے پیٹرول کی فراہمی تعطل پر 6 آئل مارکیٹنگ کمپنیز کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ ویڈیو کانفرنس میں کیا گیا جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر، وزارت توانائی کے سیکریٹری میاں اسد حیاد اور اوگرا کے چیئرپرسن سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ملاکنڈ، فیصل آباد اور حیدرآباد ڈویژن میں تیل کی ترسیل یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے۔

مذکورہ کمیٹی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کے ڈیپو، تنصیبی مراکز، ریٹیل آؤٹ لیٹس کا دورہ کرے گی تاکہ پیٹرول پمپس کو پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اور عوام تک دستیابی سمیت تمام امور کا جائزہ لے گی۔

اگر کوئی بھی کمپنی پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی گئی تو کمپنی اپنی سفارشات حکام کو جمع کرائے گی اور مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مذکورہ کمپنیوں کو ریٹیل آؤٹ لیٹس پر پیٹرول کی سپلائی کی اجازت نہیں ہو گی اور زیادہ نرخ وصول یا ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو جون کے لے پلان کارگو منسوخ کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور ریفائنریز کو وعدے کے مطابق ایندھن کی پیداوار یقینی بنانا ہو گی۔

اس کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر گیسولائن کو کراچی پورٹ سے اپنے مرکزی کھپت کے سینٹرز میں منتقل کریں۔

اس کے علاوہ کہا گیا کہ ملک میں پیٹرول کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور مانگ پوری کرنے کے لیے تمام تر درآمدات کو استعمال کیا جائے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد سے ملک بھر میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو گئی تھی جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں پیٹرول کی قلت، مسابقتی کمیشن نے تحقیقات کا آغاز کردیا

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں تعطل کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں جواب طلب کرلیا تھا۔

ترجمان اوگرا عمران غزنوی کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے شیل پاکستان لمیٹڈ، اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ اور ٹوٹل پارکو پاکستان لمیٹڈ کو نوٹس جاری کیے تھے۔

بعدازاں وزیراعظم سٹیزن پورٹل پر ریٹیل آؤٹ لیٹس پر تیل کی فراہمی میں قلت کی شکایات پر اوگرا نے مزید 3 آئل مینوفیکچرنگ کمپنیز گیس اینڈ آئل، پوما اور ہیسکول کو بھی شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا تھا۔

ضرور پڑھیں

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

ورلڈ کپ 1992ء کے فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں ہار سہنے کے بعد تو حوصلے ایسے ٹوٹے کہ دوبارہ فائنل تک پہنچنے میں 27 سال لگ گئے۔

تبصرے (0) بند ہیں